اسلام آباد۔1جنوری (اے پی پی):وزیرخزانہ کے مشیرخرم شہزادنے کہاہے کہ سال 2026 کے آغاز پر پاکستان کی معیشت سے متعلق کئی حوصلہ افزا ء اور مثبت اشاریے سامنے آئے ہیں جس سے نہ صرف عوام کے لئے براہِ راست ریلیف کی عکاسی ہورہی ہے بلکہ سرمایہ کاروں اور عالمی منڈیوں میں اعتماد میں اضافے کا بھی عندیہ دے رہے ہیں۔جمعرات کوسماجی رابطوں کی ویب سائٹ ایکس پراپنے ایک پیغام میں …
سال 2026 کے آغاز پر پاکستان کی معیشت سے متعلق حوصلہ افزا ء اور مثبت اشاریے خوش آئندہیں، خرم شہزاد

مزید خبریں
اسلام آباد۔1جنوری (اے پی پی):وزیرخزانہ کے مشیرخرم شہزادنے کہاہے کہ سال 2026 کے آغاز پر پاکستان کی معیشت سے متعلق کئی حوصلہ افزا ء اور مثبت اشاریے سامنے آئے ہیں جس سے نہ صرف عوام کے لئے براہِ راست ریلیف کی عکاسی ہورہی ہے بلکہ سرمایہ کاروں اور عالمی منڈیوں میں اعتماد میں اضافے کا بھی عندیہ دے رہے ہیں۔جمعرات کوسماجی رابطوں کی ویب سائٹ ایکس پراپنے ایک پیغام میں انہوں نے کہاکہ حکومت کی جانب سے پٹرول اور ڈیزل کی قیمتوں میں 8 سے 10 روپے فی لیٹر کمی کی گئی ہے جس سے عام آدمی کو فوری ریلیف ملا ہے اور روزمرہ اخراجات میں کمی متوقع ہے۔
انہوں نے کہاکہ مہنگائی کے محاذ پر بھی بہتری دیکھی گئی ہے،دسمبر 2025 میں افراطِ زر0.4فیصد کم ہو کر 5.6 فیصد کی سطح پر پر آ گیا ،اس کمی سے گھریلو بجٹ پر دبائو میں واضح کمی آئی ہے، خاص طور پر غذائی اشیاءکی مہنگائی میں نمایاں بہتری ریکارڈ کی گئی جہاں خوراک کی اوسط مہنگائی 3.5 فیصد رہی جو پچھلے مہینے کے مقابلے میں 1.8 فیصد کم ہے، اس سے عوام کو کچن کے اخراجات میں مزید سہولت حاصل ہوئی ہے۔
انہوں نے کہاکہ پاکستان سٹاک ایکسچینج نے بھی اپنی شاندار کارکردگی کا تسلسل برقرار رکھا۔ مارکیٹ میں 2,300 پوائنٹس (1.32 فیصد) کا اضافہ ہوا اور انڈیکس 176,650 کی سطح عبور کرتے ہوئے نئی تاریخی بلند ترین سطح پر پہنچ گیا، یہ پیشرفت سرمایہ کاروں کے بڑھتے ہوئے اعتماد اور مثبت معاشی توقعات کی عکاس ہے۔خرم شہزادنے کہاکہ سٹیٹ بینک آف پاکستان کے زرمبادلہ کے ذخائر میں بھی مسلسل اضافہ ہو رہا ہے،سٹیٹ بینک کے پاس ذخائر بڑھ کر 15.92 ارب امریکی ڈالر تک پہنچ گئے ہیں جس سے سالانہ بنیادوں پر 36 فیصدنموکی عکاسی ہورہی ہے ،یہ صورتحال ملک کی بیرونی مالی استحکام میں بہتری کی علامت سمجھی جا رہی ہے
،ڈیجیٹل معیشت کے شعبے میں بھی غیر معمولی رفتار دیکھنے میں آئی ہے۔ ایک ہی سہ ماہی میں 2.8 ارب ڈیجیٹل لین دین ریکارڈ کئے گئے جن کی مجموعی مالیت 166 ٹریلین روپے رہی، یہ حجم گزشتہ سہ ماہی کے مقابلے میں 10 فیصد زیادہ ہےجس میں ڈیجیٹل والٹس اور موبائل بینکنگ نے مرکزی کردار ادا کیا۔خرم شہزادنے کہاکہ عالمی سطح پر عوامی رائے کے حوالے سے گیلپ کے تازہ ترین سروے میں بھی پاکستان نمایاں نظر آیا ہے۔
رپورٹ کے مطابق 2026 کے لئے پاکستان میں امید اور خوش بینی کی سطح عالمی اوسط سے زیادہ ہے۔ سروے میں پاکستان نے معیشت کے حوالے سے بھارت کو بھی پیچھے چھوڑ دیا جہاں پاکستان میں 53 فیصد جبکہ بھارت میں 39 فیصد افراد معیشت کے بارے میں پرامید ہیں۔ اسی طرح امن کے حوالے سے پاکستان میں 52 فیصد جبکہ بھارت میں صرف 26 فیصد افراد نے مثبت رائے دی۔
انہوں نے کہاکہ کم ہوتی مہنگائی، سستا ایندھن، مضبوط ہوتے زرمبادلہ کے ذخائر، تیزی سے فروغ پاتی ڈیجیٹل معیشت اور عروج پر پہنچتی ہوئی سٹاک مارکیٹ اس بات کا واضح ثبوت ہیں کہ پاکستان کا معاشی منظرنامہ بہتر ہو رہا ہے، یہ تمام عوامل 2026 میں سرمایہ کاری کے اعتماد، کاروباری سرگرمیوں اور مجموعی معاشی رفتار کے لئے مثبت بنیاد فراہم کر رہے ہیں۔







