موثر اور ذمہ دار حکمرانی کی بنیاد آئین و قانون کی پاسداری اور عوامی احترام سے مربوط ہے، چیف جسٹس یحییٰ آ فریدی

اسلام آباد۔2جنوری (اے پی پی):چیف جسٹس پاکستان جسٹس یحیٰ آ فریدی نے آئینی طرز حکمرانی، ادارہ جاتی ہم آہنگی اور عوامی خدمت کے اعلیٰ اخلاقی اصولوں کی اہمیت پر زور دیتے ہوئے کہا ہے کہ موثر اور ذمہ دار حکمرانی کی بنیاد آئین و قانون کی پاسداری اور عوامی احترام سے مربوط ہے۔سپریم کورٹ کے شعبہ تعلقات عامہ سے جاری اعلامیہ کے مطابق یہ بات چیف جسٹس نے سول سروسز …

اسلام آباد۔2جنوری (اے پی پی):چیف جسٹس پاکستان جسٹس یحیٰ آ فریدی نے آئینی طرز حکمرانی، ادارہ جاتی ہم آہنگی اور عوامی خدمت کے اعلیٰ اخلاقی اصولوں کی اہمیت پر زور دیتے ہوئے کہا ہے کہ موثر اور ذمہ دار حکمرانی کی بنیاد آئین و قانون کی پاسداری اور عوامی احترام سے مربوط ہے۔سپریم کورٹ کے شعبہ تعلقات عامہ سے جاری اعلامیہ کے مطابق یہ بات چیف جسٹس نے سول سروسز اکیڈمی لاہور میں 53 ویں کامن ٹریننگ پروگرام (سی ٹی پی) کے تحت تربیت حاصل کرنے والے پروبیشنری افسران کے سپریم کورٹ کے دورے کے موقع پر منعقدہ ایک تعارفی و تربیتی نشست کے دوران کہی۔

اس موقع پر 136 پروبیشنری افسران پر مشتمل وفد ڈائریکٹر جنرل سول سروسز اکیڈمی فرحان عزیز خواجہ کی قیادت میں چیف جسٹس سے ملا ، اکیڈمی کے فیکلٹی اراکین بھی وفد کے ہمراہ تھے۔چیف جسٹس نے پاکستان کے پارلیمانی جمہوری نظام اور اختیارات کی تقسیم (ٹرائیکوٹومی آف پاورز)کے بنیادی خدوخال پر روشنی ڈالتے ہوئے کہا کہ مقننہ، انتظامیہ اور عدلیہ آئینی حکمرانی اور قانون کی بالادستی کے فروغ کے لیے ایک دوسرے کے معاون اور تکمیلی کردار ادا کرتے ہیں۔ ادارہ جاتی ہم آہنگی اور اصلاحات کے حوالے سے چیف جسٹس نے نیشنل جوڈیشل (پالیسی میکنگ) کمیٹی (این جے پی ایم سی) کے کردار کو اجاگر کرتے ہوئے کہا کہ یہ فورم انصاف کے شعبے میں پالیسی سازی کے اجتماعی فیصلوں کا اہم ذریعہ ہے۔

وفد کو آگاہ کیا گیا کہ اگست 2026ء تک ملک بھر کی عدالتوں میں شمسی توانائی کے نظام، ای لائبریریوں، صاف پانی کی سہولیات اور خواتین کے لیے خصوصی انفراسٹرکچر کی فراہمی کا منصوبہ ہے جس کے لیے ایکسس ٹو جسٹس ڈویلپمنٹ فنڈ سے مالی معاونت فراہم کی جا رہی ہے۔

چیف جسٹس نے سپریم کورٹ میں جاری اصلاحاتی اقدامات سے بھی وفد کو آگاہ کیا جن میں ای فائلنگ کا نظام، تصدیق شدہ نقول کا آن لائن اجرا اور عوامی سہولت کے لیے ون ونڈو پبلک فسیلیٹیشن سینٹر کا قیام شامل ہے جس کا مقصد عدالتی امور میں شفافیت، رفتار اور عوامی سہولت کو فروغ دینا ہے۔دور دراز اور پسماندہ علاقوں کے اپنے دوروں کا حوالہ دیتے ہوئے چیف جسٹس نے صبر، ہمدردی اور عوام سے باوقار رویے کی اہمیت پر زور دیا۔

انہوں نے پروبیشنری افسران کو نصیحت کی کہ وہ اپنی پیشہ ورانہ زندگی میں دیانت، انصاف اور قانون کی پابندی کو ہمیشہ مقدم رکھیں کیونکہ جوابدہ اور موثر طرز حکمرانی کا آغاز عوام اور قانون دونوں کے احترام سے ہوتا ہے۔

مزید خبریں