ٹیسلا کی فروخت کم، 2025 میں زیادہ الیکٹرک گاڑیاں بیچنے کا اعزاز چینی کمپنی بی وائی ڈی کے نام

واشنگٹن ۔3جنوری (اے پی پی):امریکاکی الیکٹرک گاڑیاں بنانے والی کمپنی ٹیسلا نے کہا ہے کہ2025 میں اس کی گاڑیوں کی فروخت میں کمی ہوئی ہے، جس کے نتیجے میں دنیا کی سب سے زیادہ الیکٹرک گاڑیاں فروخت کرنے کا اعزاز چینی کمپنی بی وائی ڈی کے پاس چلا گیا ہے۔اردو نیوز ایلون مسک کی کمپنی ٹیسلا نے 2025 کے آخری تین ماہ میں چار لاکھ 18 ہزار 227 گاڑیاں ڈیلیور …

واشنگٹن ۔3جنوری (اے پی پی):امریکاکی الیکٹرک گاڑیاں بنانے والی کمپنی ٹیسلا نے کہا ہے کہ2025 میں اس کی گاڑیوں کی فروخت میں کمی ہوئی ہے، جس کے نتیجے میں دنیا کی سب سے زیادہ الیکٹرک گاڑیاں فروخت کرنے کا اعزاز چینی کمپنی بی وائی ڈی کے پاس چلا گیا ہے۔اردو نیوز ایلون مسک کی کمپنی ٹیسلا نے 2025 کے آخری تین ماہ میں چار لاکھ 18 ہزار 227 گاڑیاں ڈیلیور کیں، جس سے پورے سال کی مجموعی فروخت تقریباً 16 لاکھ 40 ہزار الیکٹرک گاڑیوں تک پہنچ گئی۔یہ تعداد 2024 کے مقابلے میں آٹھ فیصد کم ہے۔

اس سے ایک دن قبل بی وائی ڈی نے اعلان کیا تھا کہ اس نے گزشتہ سال 22 لاکھ 60 ہزار الیکٹرک گاڑیاں فروخت کیں۔فیکٹ سیٹ کے مطابق تجزیہ کاروں کو توقع تھی کہ ٹیسلا کی چوتھی سہ ماہی کی فروخت میں نسبتاً کم سست روی آئے گی اور یہ تعداد چار لاکھ 49 ہزار کے قریب ہو گی۔فروخت میں یہ کمی ستمبر 2025 کے اختتام پر 7500 ڈالر کے امریکی ٹیکس کریڈٹ کے خاتمے کے تناظر میں سامنے آئی ہے، جبکہ صنعت کے ماہرین کا کہنا ہے کہ الیکٹرک گاڑیوں کی طلب کو دوبارہ متوازن ہونے میں وقت لگے گا،تاہم اس سےقبل ہی ٹیسلا کو اہم منڈیوں میں فروخت کے مسائل کا سامنا تھا، جس کی ایک وجہ چیف ایگزیکٹیو ایلون مسک کی امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور دیگر انتہائی دائیں بازو کے سیاست دانوں کی سیاسی حمایت بتائی جا رہی ہے۔

ٹیسلا کو بی وائی ڈی اور دیگر چینی کمپنیوں کے ساتھ ساتھ یورپی آٹو ساز اداروں کی بڑھتی ہوئی مسابقت کا بھی سامنا ہے۔شینزین میں قائم بی وائی ڈی، جو ہائبرڈ گاڑیاں بھی تیار کرتی ہے، نے جمعرات کو گذشتہ برس میں ریکارڈ الیکٹرک گاڑیوں کی فروخت کا اعلان کیا۔چینی زبان میں ’بیادی‘ کے نام سے معروف یا انگریزی نعرے ’بلڈ یور ڈریمز‘ کے تحت پہچانی جانے والی بی وائی ڈی کی بنیاد1995 میں رکھی گئی تھی اور ابتدا میں یہ بیٹریوں کی تیاری میں مہارت رکھتی تھی۔اگرچہ بی وائی ڈی اور دیگر چینی الیکٹرک گاڑی ساز اداروں کو امریکا میں بھاری ٹیرف کا سامنا ہے، تاہم جنوب مشرقی ایشیا، مشرقِ وسطیٰ اور یورپ میں کمپنی کی کامیابی میں اضافہ دیکھا جا رہا ہے۔

مزید خبریں