اقوام متحدہ۔3جنوری (اے پی پی):اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل انتونیو گوتریس نے اسرائیل سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ غزہ میں امداد فراہم کرنے والے انسانی ہمدردی کے اداروں پر عائد پابندی ختم کرے۔اردونیوز کے مطابق اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل کے ترجمان سٹیفن دوجارک نےبیان میں کہا کہ انتونیو گوتریس نے اس فیصلے کو واپس لینے کا مطالبہ کرتے ہوئے اس بات پر زور دیا کہ بین الاقوامی غیر …
اسرائیل غزہ میں امدادی کام کرنے والی این جی اوز پر عائد پابندی ختم کرے، اقوام متحدہ

مزید خبریں
اقوام متحدہ۔3جنوری (اے پی پی):اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل انتونیو گوتریس نے اسرائیل سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ غزہ میں امداد فراہم کرنے والے انسانی ہمدردی کے اداروں پر عائد پابندی ختم کرے۔اردونیوز کے مطابق اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل کے ترجمان سٹیفن دوجارک نےبیان میں کہا کہ انتونیو گوتریس نے اس فیصلے کو واپس لینے کا مطالبہ کرتے ہوئے اس بات پر زور دیا کہ بین الاقوامی غیر سرکاری تنظیمیں(این جی اوز) زندگی بچانے والے انسانی کاموں کے لیے ناگزیر ہیں اور اس معطلی سے جنگ بندی کے دوران ہونے والی معمولی پیش رفت کو نقصان پہنچنے کا خدشہ ہے۔
انہوں نے کہا کہ یہ حالیہ اقدام فلسطینیوں کو درپیش انسانی بحران کو مزید سنگین بنا دے گا۔اسرائیل نے جمعرات کو 37 غیرملکی امدادی تنظیموں کی غزہ تک رسائی اس وقت معطل کر دی جب انہوں نے اپنے فلسطینی ملازمین کی فہرستیں اسرائیلی حکام کے ساتھ شیئر کرنے سے انکار کر دیا۔اس پابندی میں ڈاکٹرز ودآؤٹ بارڈرز(ایم ایس ایف) بھی شامل ہے جس کا 1200 افراد پر مشتمل عملہ فلسطینی علاقوں میں موجود ہے اور ان کی اکثریت غزہ میں کام کر رہی ہے۔
پابندی کا شکار ہونے والی تنظیموں کو یکم مارچ تک اپنا کام بند کرنے کا حکم دیا گیا ہے۔کئی غیر سرکاری تنظیموں کا موقف ہے کہ یہ مطالبات بین الاقوامی انسانی قانون کے منافی ہیں اور ان سے ان کی خودمختاری خطرے میں پڑ سکتی ہے۔دوسری جانب اسرائیل کا دعویٰ ہے کہ اس نئی ضابطہ بندی کا مقصد ان اداروں کو فلسطینی علاقوں میں کام کرنے سے روکنا ہے جن پر وہ دہشت گردی کی حمایت کا الزام لگاتا ہے۔جمعرات کو اسرائیل میں قائم 18 بائیں بازو کی تنظیموں نے بھی اپنے بین الاقوامی ساتھیوں پر پابندی کے فیصلے کی مذمت کرتے ہوئے کہا کہ رجسٹریشن کا یہ نیا فریم ورک آزادی اور غیر جانبداری کے بنیادی انسانی اصولوں کی خلاف ورزی ہے۔








