اسلام آباد۔5جنوری (اے پی پی):وفاقی وزیر پارلیمانی امور ڈاکٹر طارق فضل چوہدری نے کہا ہے کہ جوائنٹ ایکشن کمیٹی نے بغیر اطلاع اجلاس کا بائیکاٹ کیا جو انتہائی افسوسناک ہے، یہ عمل آزاد کشمیر کے عوام کے مسائل حل کرنے کی کوششوں کے خلاف ہے۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے پیر کو یہاں مانیٹرنگ اینڈ امپلیمنٹیشن کمیٹی کے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔انہوں نے کہا کہ اکتوبر 2025ء …
جوائنٹ ایکشن کمیٹی نے بغیر اطلاع اجلاس کا بائیکاٹ کیا جو انتہائی افسوسناک ہے ، ڈاکٹر طارق فضل چوہدری

مزید خبریں
اسلام آباد۔5جنوری (اے پی پی):وفاقی وزیر پارلیمانی امور ڈاکٹر طارق فضل چوہدری نے کہا ہے کہ جوائنٹ ایکشن کمیٹی نے بغیر اطلاع اجلاس کا بائیکاٹ کیا جو انتہائی افسوسناک ہے، یہ عمل آزاد کشمیر کے عوام کے مسائل حل کرنے کی کوششوں کے خلاف ہے۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے پیر کو یہاں مانیٹرنگ اینڈ امپلیمنٹیشن کمیٹی کے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔انہوں نے کہا کہ اکتوبر 2025ء میں حکومتی کمیٹی کا جو معاہدہ ایکشن کمیٹی کے ساتھ طے پایا تھا، اس کی تمام تفصیلات میڈیا کے سامنے شیئر کی جا چکی ہیں، آزاد جموں و کشمیر حکومت کے تقریباً 15محکموں کے حوالے سے نکات کو تفصیل سے پیش کیا گیا۔
انہوں نے کہا کہ بنیادی طور پر پچھلے سال 29 ستمبر کو جوائنٹ ایکشن کمیٹی نے احتجاج کی کال دی تھی اورمظفرآباد میں مظاہرے کا اعلان کیا گیا تھا۔اس سے قبل مئی 2024ء کے مظاہرے میں تین قیمتی انسانی جانوں کا نقصان ہوا تھا۔ آخری احتجاج کے حوالے خدشہ تھا کہ اس میں مزید جانی نقصان ہو سکتا ہے۔اس صورتحال میں وزیراعظم پاکستان نے ایک اعلیٰ سطحی کمیٹی تشکیل جس میرے اور انجینئر امیر مقام سمیت احسن اقبال، رانا ثناء اللہ، سردار یوسف، راجہ پرویز اشرف قمر الزمان کائرہ اور دیگر شامل تھے۔
تین دن کے مذاکرات کے نتیجے میں 36 نکاتی معاہدہ طے پایا جس پرعملدرآمد یقینی بنانے کے لیے وزیراعظم نے دو میٹنگیں کی ہیں۔ وزیر خزانہ کو بھی طلب کیا گیا اور واضح ہدایات جاری کی گئیں۔ انہوں نے کہا کہ آزاد کشمیر پاکستانیوں کے دلوں کے بہت قریب ہے، عوامی مسائل ہونے کی وجہ سے مستقل مانیٹرنگ اینڈ امپلیمنٹیشن کمیٹی بنائی گئی، یہ کمیٹی مرحلہ وار پروگریس کی ماہانہ رپورٹ تیار کرتی ہے۔آج اس کمیٹی کی تیسری میٹنگ تھی۔اس سے قبل اسلام آباد اور مظفرآباد میں دو میٹنگیں ہو چکی ہیں۔مظفرآباد میٹنگ میں آزاد کشمیر کے وزراء قاسم مجید اور دیوان چغتائی بھی شامل تھے۔
پروگریس پر اطمینان کا اظہار کیا گیا تھا۔آج کی میٹنگ 5 جنوری کو اسلام آباد میں طے شدہ تھی۔ جس کا آزاد کشمیر ایکشن کمیٹی نے بغیر اطلاع بائیکاٹ کیا جو انتہائی افسوسناک ہے ۔ وفاقی وزیر نے 15 محکموں پر ایک ایک ایک نقطے کی پروگریس تفصیل سے بیان کی۔عوام کو آگاہ کرنا ضروری تھا کہ عملدرآمد کس حد تک ہو چکا ہے، سب سے بڑا ایشو جی ایس ٹی اور فلور پرائس ختم کرنے کا تھا۔جب 29 ستمبر کی کال دی گئی تو کہا گیا کہ یہ پرامن احتجاج ہوگا، مگر یہ پرتشدد شکل اختیار کر گیا اور تین جانیں ضائع ہوئیں۔اس کے بعد وزیراعظم پاکستان نے ڈیلیگیشن بھیجا اور معاہدہ طے ہوا۔








