راولپنڈی۔5جنوری (اے پی پی):انسدادِ دہشت گردی عدالت راولپنڈی نے مقررہ مدت کے اندر چالان جمع نہ کرانے اور عدالتی احکامات پر عمل درآمد نہ ہونے پر آر پی او بابر سرفراز الپا اور سی پی او سید خالد ہمدانی کو شوکاز نوٹس جاری کرتے ہوئے ذاتی حیثیت میں عدالت میں طلب کر لیا ہے۔عدالتی دستاویزات کے مطابق عدالت نے 9 دسمبر 2025 کو حکم جاری کیا تھا کہ تمام تفتیشی …
عدالتی احکامات کی خلاف ورزی پر آر پی او اور سی پی او راولپنڈی کو شوکاز نوٹس، ذاتی پیشی کا حکم

مزید خبریں
راولپنڈی۔5جنوری (اے پی پی):انسدادِ دہشت گردی عدالت راولپنڈی نے مقررہ مدت کے اندر چالان جمع نہ کرانے اور عدالتی احکامات پر عمل درآمد نہ ہونے پر آر پی او بابر سرفراز الپا اور سی پی او سید خالد ہمدانی کو شوکاز نوٹس جاری کرتے ہوئے ذاتی حیثیت میں عدالت میں طلب کر لیا ہے۔عدالتی دستاویزات کے مطابق عدالت نے 9 دسمبر 2025 کو حکم جاری کیا تھا کہ تمام تفتیشی افسران اور نگران افسران، جن میں ایس ڈی پی اوز اور متعلقہ ایس پیز شامل ہیں، زیرِ التوا مقدمات کے چالان اور رپورٹس دفعہ 173 ضابطہ فوجداری کے تحت 33 دن کے اندر عدالت میں جمع کروائیں۔
اس کے ساتھ ساتھ ان تمام ایف آئی آرز کی فہرست بھی فراہم کرنے کی ہدایت دی گئی تھی جن کے چالان تاحال جمع نہیں ہوئے۔عدالت نے قرار دیا کہ مقررہ مدت گزرنے کے باوجود نہ تو مطلوبہ فہرست عدالت میں جمع کروائی گئی اور نہ ہی عدالتی حکم کے حوالے سے کوئی تحریری جواب دیا گیا، جو بادی النظر میں عدالتی احکامات کی دانستہ خلاف ورزی کے مترادف ہے۔انسدادِ دہشت گردی عدالت کے مطابق اس رویے سے نہ صرف عدالتی کارروائی متاثر ہوئی بلکہ قانون کے تقاضوں کو بھی نظر انداز کیا گیا۔ عدالت نے اسے عدالتی حکم کی ارادی نافرمانی قرار دیتے ہوئے آر پی او اور سی پی او راولپنڈی کو انسدادِ دہشت گردی ایکٹ 1997 کی دفعہ 19(2) بمعہ دفعہ 37 کے تحت شوکاز نوٹس جاری کیا ہے۔
نوٹس کے متن میں ہدایت کی گئی ہے کہ آر پی او اور سی پی او راولپنڈی 10 جنوری 2026 بروز ہفتہ صبح 11 بجے ذاتی حیثیت میں انسدادِ دہشت گردی عدالت نمبر ون راولپنڈی میں پیش ہو کر وضاحت کریں کہ کیوں نہ انہیں مذکورہ قانونی دفعات کے تحت سزا کا مستحق قرار دیا جائے۔عدالت نے واضح کیا ہے کہ عدالتی احکامات پر بروقت عمل درآمد انصاف کے تقاضوں کی تکمیل کے لیے ناگزیر ہے، جبکہ کسی بھی سطح پر غفلت یا کوتاہی کو برداشت نہیں کیا جائے گا۔








