اسلام آباد۔5جنوری (اے پی پی):سینیٹ آف پاکستان کا ایک اعلیٰ سطحی پارلیمانی وفد ڈپٹی چیئرمین سینیٹ سینیٹر سیدال خان ناصر کی قیادت میں 20 سے 25 جنوری 2026 تک امریکہ کا سرکاری دورہ کرے گا جو امریکہ اور پاکستان کے پارلیمانی تعلقات میں ایک تاریخی سنگ میل کی حیثیت رکھتا ہے اور ٹرانس اٹلانٹک تعلقات میں ایک نئے ادارہ جاتی باب کا آغاز کرے گا۔پاکستان پالیسی انسٹی ٹیوٹ یو ایس …
ڈپٹی چیئرمین سینیٹ سینیٹر سیدال خان ناصر کی قیادت میں سینیٹ کا اعلیٰ سطحی پارلیمانی وفد 20 جنوری سے امریکہ کا سرکاری دورہ کرے گا

مزید خبریں
اسلام آباد۔5جنوری (اے پی پی):سینیٹ آف پاکستان کا ایک اعلیٰ سطحی پارلیمانی وفد ڈپٹی چیئرمین سینیٹ سینیٹر سیدال خان ناصر کی قیادت میں 20 سے 25 جنوری 2026 تک امریکہ کا سرکاری دورہ کرے گا جو امریکہ اور پاکستان کے پارلیمانی تعلقات میں ایک تاریخی سنگ میل کی حیثیت رکھتا ہے اور ٹرانس اٹلانٹک تعلقات میں ایک نئے ادارہ جاتی باب کا آغاز کرے گا۔پاکستان پالیسی انسٹی ٹیوٹ یو ایس اے کے زیر اہتمام اس دورے میں پہلی بار باضابطہ امریکہ پاکستان بین الپارلیمانی گروپ آئی پی جی کی شمولیت ہوگی جو سٹریٹجک اور غیر روایتی پارلیمانی سفارتکاری کے ذریعے حاصل کی گئی پیشرفت کی نمائندگی کرے گی اور براہ راست قانون ساز اسمبلی کے ذریعے جمہوری اداروں کو مضبوط بنانے کے مشترکہ عزم کی عکاسی کرے گی۔
یہ اقدام اہم عالمی اور علاقائی تبدیلی کے وقت سامنے آیا ہے خاص طور پر جنوبی ایشیا اور مشرق وسطی میں جہاں پارلیمانی اداروں کو بات چیت استحکام اور جمہوری طرز حکمرانی کو فروغ دینے میں اہم کرداروں کے طور پر تسلیم کیا جا رہا ہے۔ یہ دورہ ایک واضح سٹریٹجک مقصد کے ساتھ کیا جا رہا ہے ،امریکی کانگریس اور سینیٹ آف پاکستان کے درمیان ایک مستقل بین الپارلیمانی مکالمے کا طریقہ کار قائم کرنا ،جمہوری اقدار، قانون سازی کے بہترین طریقوں اور پارلیمانی نگرانی کو فروغ دینا ،روایتی انتظامی سطح کی سفارتکاری سے آگے اداره جاتی تعاون کو مضبوط کرنا اور علاقائی اور عالمی مسائل پر پاکستان کے پارلیمانی نقطہ نظر کو پیش کرنے کے لئے پاکستانی امریکی باشندوں کے ساتھ روابط کو فروغ دینے اور سائنسی، ثقافتی اور پالیسی تعاون کو آگے بڑھانا۔
یہ دوره تاریخ سازی کی طرف اشارہ کرتا ہے کیونکہ پاکستان امریکہ تعلقات کی 77 سالہ تاریخ میں کسی بھی سابق پاکستانی پارلیمانی وفد نے کانگریس کی سرپرستی میں رے برن باؤس آفس بلڈنگ کے اندر باضابطہ مصروفیات کا انعقاد نہیں کیا۔ اس دورے میں نیشنل پریس کلب، واشنگٹن ڈی سی میں پریس کانفرنس اور میڈیا کی مصروفیات اور نیو جرسی میں کمیونٹی اور پالیسی استقبالیہ بھی شامل ہوگا۔توقع ہے کہ اس دورے سے باقاعدہ پارلیمانی تبادلوں، بہتر قانون سازی تعاون اور پاکستان اور امریکہ کے درمیان ایک پائیدار ادارہ جاتی شراکت داری کی بنیاد رکھی جائے گی جو باہمی احترام، جمہوری اصولوں اور طویل المدتی سٹریٹجک مصروفیات پر مبنی ہے۔








