مرتے شخص کے ہونٹوں پر سچ ہوتا ہے، قتل کیس میں dying declaration قابلِ اعتماد قرار،سپریم کورٹ

اسلام آباد۔5جنوری (اے پی پی):سپریم کورٹ آف پاکستان نے قرار دیا ہے کہ ’’مرتے ہوئے شخص کے ہونٹوں پر سچ ہوتا ہے‘‘ اور dying declaration قانوناً ایک مضبوط اور قابلِ اعتماد شہادت ہے۔ عدالت نے اسی اصول کی بنیاد پر قتل کے ایک مقدمہ میں ملزم گلزار کی عمر قید کی سزا برقرار رکھتے ہوئے سزائے موت بحال کرنے کی درخواست مسترد کر دی۔سپریم کورٹ کی جانب سے رپورٹنگ کے …

اسلام آباد۔5جنوری (اے پی پی):سپریم کورٹ آف پاکستان نے قرار دیا ہے کہ ’’مرتے ہوئے شخص کے ہونٹوں پر سچ ہوتا ہے‘‘ اور dying declaration قانوناً ایک مضبوط اور قابلِ اعتماد شہادت ہے۔ عدالت نے اسی اصول کی بنیاد پر قتل کے ایک مقدمہ میں ملزم گلزار کی عمر قید کی سزا برقرار رکھتے ہوئے سزائے موت بحال کرنے کی درخواست مسترد کر دی۔سپریم کورٹ کی جانب سے رپورٹنگ کے لئے منظور شدہ تحریری فیصلہ کے مطابق جسٹس جمال خان مندوخیل، جسٹس مسرت ہلالی اور جسٹس شکیل احمد پر مشتمل تین رکنی بنچ نے فوجداری پٹیشن نمبر 99-پی/2019 اور جیل پٹیشن نمبر 614/2019 کا تفصیلی فیصلہ جاری کیا جس میں پشاور ہائی کورٹ کے فیصلے کو درست اور قانون کے مطابق قرار دیا گیا۔

مقدمہ کے مطابق گلزار پر الزام تھا کہ اس نے 7 ستمبر 2007 کو مردان میں ریاض نامی شخص کو فائرنگ کر کے قتل کیا۔ زخمی ریاض نے ہسپتال میں ہوش و حواس کی حالت میں ملزم کے خلاف بیان دیا جسے بعد ازاں ایف آئی آر میں شامل کیا گیا۔ ٹرائل کورٹ نے ملزم کو سزائے موت سنائی تھی تاہم پشاور ہائی کورٹ نے محرک ثابت نہ ہونے پر سزا کو عمر قید میں تبدیل کر دیا تھا۔سپریم کورٹ نے فیصلے میں واضح کیا کہ dying declaration کے لئے یہ شرط لازم نہیں کہ بیان دینے والا موت کے بالکل قریب ہو بلکہ اگر وہ ہوش و حواس میں ہو تو اس کا بیان مکمل قانونی حیثیت رکھتا ہے۔

عدالت نے کہا کہ ڈاکٹر کی گواہی سے ثابت ہے کہ مقتول بیان دینے کے قابل تھا جبکہ dying declaration اور عینی گواہ کے بیانات میں کوئی تضاد نہیں پایا گیا۔عدالت نے یہ بھی ریمارکس دیئے کہ ملزم واردات کے بعد آٹھ سال تک مفرور رہا جو اس کے جرم کی جانب ایک مضبوط قرینہ ہے تاہم چونکہ استغاثہ قتل کا محرک ثابت نہیں کر سکا، اس لئے یہ ایک تخفیفی پہلو ہے جس کی بنیاد پر سزائے موت کو عمر قید میں تبدیل کرنا درست تھا۔سپریم کورٹ نے قرار دیا کہ پشاور ہائی کورٹ کا فیصلہ مکمل طور پر درست ہے اور اس میں مداخلت کی کوئی گنجائش موجود نہیں چنانچہ ملزم اور مقتول کے ورثاء دونوں کی درخواستیں مسترد کر دی گئیں۔ اس فیصلے میں جسٹس مسرت ہلالی نے اختلافی نوٹ تحریر کیا۔