حق خودارادیت جموں وکشمیر کے عوام کا بنیادی حق ہے، سردارعتیق احمد خان

اسلام آباد۔5جنوری (اے پی پی):صدرمسلم کانفرنس و سابق وزیراعظم آزادکشمیر سردارعتیق احمد خان نے کہا ہے کہ حق خودارادیت جموں وکشمیر کے عوام کا بنیادی حق ہے، کشمیریوں کا حق خود ارادیت تقسیم ہند کے اصولوں سے مشروط ہے،عالمی قراردادوں سے رو گردانی اور مادر پدر آزادی کی خواہش کسی نئے حادثے کا سبب بن سکتی ہے، جموں وکشمیر کے عوام کی 6 لاکھ شہداء کی قربانیاں کبھی رائیگاں نہیں …

اسلام آباد۔5جنوری (اے پی پی):صدرمسلم کانفرنس و سابق وزیراعظم آزادکشمیر سردارعتیق احمد خان نے کہا ہے کہ حق خودارادیت جموں وکشمیر کے عوام کا بنیادی حق ہے، کشمیریوں کا حق خود ارادیت تقسیم ہند کے اصولوں سے مشروط ہے،عالمی قراردادوں سے رو گردانی اور مادر پدر آزادی کی خواہش کسی نئے حادثے کا سبب بن سکتی ہے، جموں وکشمیر کے عوام کی 6 لاکھ شہداء کی قربانیاں کبھی رائیگاں نہیں جا سکتیں۔

ان خیالات کا اظہار انھوں نے پیر کو یہاں آل جموں وکشمیر مسلم کانفرنس کے زیر اہتمام نیشنل پریس کلب اسلام آباد میں 5 جنوری یوم حق خودارادیت کے حوالے سے منعقدہ سیمینار سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ تقریب کی صدارت سابق صدر مسلم کانفرنس مرزا محمد شفیق جرال ایڈووکیٹ نے کی جبکہ مہمان خصوصی صدر مسلم کانفرنس و سابق وزیراعظم آزادکشمیر سردار عتیق احمد خان تھے۔

سردار عتیق احمد خان نے کہا کہ آزادی ہند کے اصولوں سے انحراف سارے خطے کو ازسر نو تقسیم کے عمل سے دوچار کر سکتا ہے، مسئلہ کشمیر کے دیرپا حل کے لیے اقوام متحدہ کی آخری قرارداد کو ہی بنیاد بنایا جاسکتا ہے، کشمیر پر عالمی قراردادیں ایک بہترین روڈ میپ فراہم کرتی ہیں،جموں وکشمیر ایک ناقابل تقسیم وحدت ہے، خدانخواستہ اگر کشمیر میں تقسیم کی بنیاد رکھی گئی تو پھر اس خطے کی کئی اور ریاستوں کو بھی تقسیم کے عمل سے گزرنا پڑے گا۔

انھوں نے کہا کہ مسئلہ کشمیر کے پرامن سیاسی و مذاکراتی حل کے بغیر پاکستان اور ہندوستان کے تعلقات میں کبھی بہتری نہیں آ سکتی اور پاک و ہند تعلقات میں بہتری کے بغیر جنوبی ایشیا کا مستقبل ہمیشہ خطرات کی زد میں رہے گا ۔ مسلم کانفرنس کے رہنما ایڈووکیٹ مرزا شفیق جرال نے کہا کہ 5 جنوری کشمیری عوام کی جدوجہد، قربانیوں اور اقوام متحدہ کی قراردادوں کی یاد دہانی کا دن ہے، کشمیری عوام سات دہائیوں سے اپنے بنیادی اور تسلیم شدہ حق خودارادیت کے لیے جدوجہد کر رہے ہیں جسے عالمی برادری کی جانب سے مسلسل نظر انداز کیا جا رہا ہے۔

مرزا شفیق جرال نے کہا کہ اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی قراردادیں آج بھی مسئلہ کشمیر کے حل کی بنیاد ہیں، مگر بھارت ان قراردادوں پر عمل درآمد سے مسلسل انکار کر رہا ہے۔ انہوں نے عالمی طاقتوں سے مطالبہ کیا کہ وہ بھارت کے غیرقانونی زیرقبضہ جموں و کشمیر میں جاری انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزیوں کا نوٹس لیں اور کشمیری عوام کو ان کا حق دلانے میں اپنا کردار ادا کریں۔

انہوں نے مزید کہا کہ پاکستانی قوم اور قیادت نے ہمیشہ کشمیری عوام کی اخلاقی، سیاسی اور سفارتی حمایت کی ہے اور یہ حمایت اس وقت تک جاری رہے گی جب تک کشمیری عوام کو ان کا پیدائشی حق نہیں مل جاتا ۔ انھوں نے کہا کہ بنیان مرصوص نے خطے میں دفاعی طاقت کا توازن پاکستان کے حق میں کر دیا ہے اور وقت کے ساتھ ساتھ اس توازن میں مزید بہتری اور پائیداری آئے گی۔

انھوں نے کہا کہ ہندوستان کے ساتھ مسئلہ کشمیر پر بات چیت جب بھی ہو تو 5 اگست 2019ء سے پہلے والی پوزیشن بحال کرنی ہوگی۔ 40 لاکھ ہندوستانیوں کی کشمیر میں آبادکاری کسی صورت بھی قابل قبول نہیں ہو سکتی۔ آزادی ہند کے اصول،قرارداد الحاق پاکستان، تحریک آزادی کشمیر، کشمیر بنے گا پاکستان اور عالمی قراردادوں تک کا سارا سفر ایک ہی منزل تکمیل پاکستان کی نشاندہی کرتا ہے۔

تقریب سے مسلم کانفرنس کی سیکرٹری جنرل مہرالنساء، سابق صدر مسلم کانفرنس مرزا شفیق جرال ایڈووکیٹ، حریت رہنما شیخ عبدالمتین، میجر سردار نصراللہ خان، شمیم علی ملک، ساجد قریشی ایڈووکیٹ، عاصم زاہد عباسی، راجہ ذکی جبار اور دیگر نے خطاب کیا۔