ماسکو ۔6جنوری (اے پی پی):روس نے28 کینیڈین شہریوں کے داخلے پر پابندی عائد کر دی۔ تاس کے مطابق روس کی وزارتِ خارجہ نے اعلان کیا ہے کہ نیو نازی نظریات کی حمایت کے الزام میں 28 کینیڈین شہریوں کے روس میں داخلے پر غیر معینہ مدت کے لیے پابندی عائد کر دی گئی ہے۔ یہ اقدام کینیڈا کی جانب سے روسی شہریوں پر عائد کی گئی سفری پابندیوں کے جواب …
روس کی 28 کینیڈین شہریوں کے داخلے پر پابندی عائد

مزید خبریں
ماسکو ۔6جنوری (اے پی پی):روس نے28 کینیڈین شہریوں کے داخلے پر پابندی عائد کر دی۔ تاس کے مطابق روس کی وزارتِ خارجہ نے اعلان کیا ہے کہ نیو نازی نظریات کی حمایت کے الزام میں 28 کینیڈین شہریوں کے روس میں داخلے پر غیر معینہ مدت کے لیے پابندی عائد کر دی گئی ہے۔ یہ اقدام کینیڈا کی جانب سے روسی شہریوں پر عائد کی گئی سفری پابندیوں کے جواب میں کیا گیا ہے۔وزارتِ خارجہ کے مطابق جن کینیڈین شہریوں پر پابندی لگائی گئی ہے وہ ایسی تنظیموں سے وابستہ ہیں جو یوکرین میں اسٹیپان بندیرا کے حامی گروہوں کی حمایت کرتی ہیں اور مبینہ طور پر "مجرمانہ نیو نازی نظریے” کو فروغ دے رہی ہیں، جس کی سرپرستی کیف حکومت کر رہی ہے۔
بیان میں کہا گیا ہے کہ یہ افراد دوسری جنگِ عظیم، بالخصوص عظیم محبِ وطن جنگ سے متعلق تاریخی حقائق کو نظر انداز کرتے ہوئے کینیڈا اور یوکرین کے انتہائی قوم پرست عناصر کے درمیان تعلقات مضبوط بنانے کی کوشش کر رہے ہیں۔روسی وزارتِ خارجہ نے مزید دعویٰ کیا کہ کینیڈا کی سابق وزیرِ خزانہ اور نائب وزیرِاعظم کرسٹیا فری لینڈ کی یوکرینی صدر ولادیمیر زیلنسکی کی اقتصادی مشیر کے طور پر تقرری اس رجحان کا واضح ثبوت ہے۔
روسی مؤقف کے مطابق فری لینڈ کے نانا میخائل خوماک، نازی جرمنی کے معاونین میں شامل تھے۔واضح رہے کہ کرسٹیا فری لینڈ، جو اس سے قبل یوکرین کے لیے کینیڈا کی خصوصی نمائندہ بھی رہ چکی ہیں، کو پیر کے روز یوکرینی صدر کی جانب سے اقتصادی امور کی مشیر مقرر کیا گیا۔روسی حکام کا کہنا ہے کہ یہ اقدام کینیڈا کی "غیر دوستانہ پالیسیوں” کے جواب میں کیا گیا ہے اور مستقبل میں ایسے اقدامات جاری رہ سکتے ہیں۔








