اسلام آباد۔6جنوری (اے پی پی):بین الاقوامی مالیاتی فنڈ(آئی ایم ایف) نے کہاہے کہ بین الاقوامی طورپرسرکاری قرضوں میں تیزی سے اضافہ ہو رہا ہے اور اس صورتحال کے تناظر میں مالیاتی پائیداری، معاشی غیر یقینی حالات اور بڑھتے ہوئے اخراجات کے دباؤ کے درمیان استحکام کو یقینی بنانے کے لئے فوری مالیاتی اصلاحات ناگزیرہیں۔یہ بات آئی ایم ایف کی قرضوں کے حوالہ سے جاری سالانہ رپورٹ میں کہی گئی ہے۔رپورٹ …
بین الاقوامی طورپرسرکاری قرضوں میں تیزی سے اضافہ ہورہاہے،آئی ایم ایف

مزید خبریں
اسلام آباد۔6جنوری (اے پی پی):بین الاقوامی مالیاتی فنڈ(آئی ایم ایف) نے کہاہے کہ بین الاقوامی طورپرسرکاری قرضوں میں تیزی سے اضافہ ہو رہا ہے اور اس صورتحال کے تناظر میں مالیاتی پائیداری، معاشی غیر یقینی حالات اور بڑھتے ہوئے اخراجات کے دباؤ کے درمیان استحکام کو یقینی بنانے کے لئے فوری مالیاتی اصلاحات ناگزیرہیں۔یہ بات آئی ایم ایف کی قرضوں کے حوالہ سے جاری سالانہ رپورٹ میں کہی گئی ہے۔رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ عالمی سطح پرسرکاری قرضے پہلے ہی بلند ہیں اور اس میں مسلسل اضافہ ہو رہاہے، 2024 میں بین الاقوامی سرکاری قرضوں کاحجم 100ٹریلین ڈالرسے تجاوز کر چکاہے اور توقع ہے کہ اس دہائی کے اختتام تک یہ عالمی مجموعی پیداوا کے تقریباً 100 فیصد تک پہنچ جائے گا۔
حتمی اعداد و شمار اس سے بھی زیادہ ہو سکتے ہیں کیونکہ اخراجات پر شدید دباؤ موجود ہے اور قرضوں کے تخمینوں کے حوالہ سے عموماً مسلسل کم اندازے لگائے جاتے رہے ہیں۔رپورٹ کے مطابق عالمی مالی خسارہ اوسطاً جی ڈی پی کے 5.1 فیصد تک پہنچ گیا جبکہ سرکاری قرضے ایک فیصد اضافہ کے بعدجی ڈی پی کے تناسب سے 92.3فیصدکی سطح پرہیں۔رپورٹ کے مطابق تقریباً دو تہائی ممالک کو توقع ہے کہ وہ 2029 تک اپنے قرضوں کو مستحکم کرنے یا کم کرنے میں کامیاب ہو جائیں گے تاہم اس کے باوجود قرض کی سطح کوویڈ سے پہلے کے مقابلے میں بلند ہی رہے گی۔
رپورٹ کے مطابق توسیعی مالیاتی پالیسیاں سرکاری بانڈز پر مدتِ ادائیگی کے اضافی پریمیم میں اضافے کا باعث بن رہی ہیں جس سے قرض لینے کے اخراجات بڑھ رہے ہیں اور معاشی سرگرمی سست پڑ رہی ہے۔ اگر ان دباؤوں کا بروقت تدارک نہ کیا گیا تو یہ بہت سے کمزور ممالک کے لئے ادائیگی کی صلاحیت کے سنگین مسائل پیدا کر سکتے ہیں۔ پہلے ہی 53 فیصد کم آمدنی والے ترقی پذیر ممالک اور 23 فیصد ابھرتی ہوئی معیشتیں قرضوں کے بحران کے خطرے سے دوچار ہیں یا پہلے ہی قرض کے بحران میں مبتلا ہو چکی ہیں۔
رپورٹ میں مالیاتی پالیسیوں میں فوری طور پر سٹریٹجک تبدیلی کی ضرورت پرزوردیا گیا ہے ۔ رپورٹ کے مطابق جن ممالک کے پاس مالیاتی گنجائش محدود ہے، انہیں عوامی اخراجات کی ترجیحات ازسرِنو متعین کرنا ہوں گی۔ جن کے پاس زیادہ گنجائش ہے وہ اپنی درمیانی مدت کی حکمتِ عملی کے مطابق توسیع کا انتخاب کر سکتے ہیں۔
عمر رسیدہ آبادی والی ترقی یافتہ معیشتوں کو فلاحی اصلاحات کو فروغ دینا اور ٹیکس کی بنیاد کو وسیع کرنا چاہئے۔ ابھرتی ہوئی اور ترقی پذیر معیشتیں ٹیکس نظام میں اصلاحات، توانائی پر سبسڈی کے خاتمے اور سرکاری اخراجات کی تنظیمِ نو کے ذریعے آمدنی میں اضافہ کر سکتی ہیں۔








