اسلام آباد۔6جنوری (اے پی پی):قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے پٹرولیم کا اجلاس رکن قومی اسمبلی سید مصطفیٰ محمود کی زیرِ صدارت منعقد ہوا۔ اجلاس میں گیس اور ایل این جی کے شعبے میں اہم پیشرفت کا جائزہ لیا گیا۔ وفاقی وزیرِ پٹرولیم علی پرویز ملک نے کمیٹی کو آگاہ کیا کہ قطر کے ساتھ کامیاب مذاکرات کے بعد پاکستان کی اضافی ایل این جی کارگو کو بین الاقوامی منڈی …
رکن قومی اسمبلی سید مصطفیٰ محمود کی زیرِ صدارت قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے پٹرولیم کا اجلاس ، گیس اور ایل این جی کے شعبے میں اہم پیشرفت کا جائزہ لیا

مزید خبریں
اسلام آباد۔6جنوری (اے پی پی):قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے پٹرولیم کا اجلاس رکن قومی اسمبلی سید مصطفیٰ محمود کی زیرِ صدارت منعقد ہوا۔ اجلاس میں گیس اور ایل این جی کے شعبے میں اہم پیشرفت کا جائزہ لیا گیا۔ وفاقی وزیرِ پٹرولیم علی پرویز ملک نے کمیٹی کو آگاہ کیا کہ قطر کے ساتھ کامیاب مذاکرات کے بعد پاکستان کی اضافی ایل این جی کارگو کو بین الاقوامی منڈی میں منتقل کرنے پر اتفاق ہو گیا ہے۔
انہوں نے کہا کہ قطر ایک قابلِ قدر اور قابلِ اعتماد سپلائر رہا ہے جس نے ایسے وقت میں بھی اپنے وعدے نبھائے جب کئی عالمی سپلائرز ڈیفالٹ کر گئے۔ پاکستان اس سٹریٹجک تعلق کو نہایت اہمیت دیتا ہے اور اضافی ایل این جی کارگو کے معاملے پر باہمی طور پر قابلِ قبول حل تک پہنچ چکا ہے۔
جاری اصلاحات کے اثرات کو اجاگر کرتے ہوئے وفاقی وزیر نے اعلان کیا کہ وزیراعظم محمد شہباز شریف کی ہدایات پر آئندہ چھ ماہ کے لئے کسی بھی کیٹیگری میں گیس کی قیمتوں میں اضافہ نہیں کیا جائے گا جس سے صارفین کو بڑا ریلیف ملے گا۔ انہوں نے بتایا کہ موجودہ مالی سال کے بقیہ چھ ماہ کے دوران تمام صارفین کے لئے گیس کی قیمتیں برقرار رہیں گی۔
انہوں نے مزید کہا کہ گیس کے شعبے میں گردشی قرض کے بہاؤ پر قابو پا لیا گیا ہے اور کوئی نیا گردشی قرض پیدا نہیں ہو رہا جو گیس سیکٹر اصلاحات میں ایک اہم سنگِ میل ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ ملک بھر میں گھریلو صارفین کو گیس کی بہتر فراہمی یقینی بنائی جا رہی ہے، لوڈشیڈنگ سے بچاؤ کے لئے بجلی کے شعبے کو آئی جی سی ای پی طلب سے زائد گیس فراہم کی جا رہی ہے۔
سوئی کمپنیوں کے منیجنگ ڈائریکٹرز نے کمیٹی کو آپریشنل بہتریوں پر بریفنگ میں بتایا کہ وزیراعظم محمد شہباز شریف کی ہدایات کے مطابق موسمِ سرما کے دوران عوام کو زیادہ سے زیادہ ریلیف فراہم کرنے کے لئے ملک بھر میں گھریلو صارفین کو گیس کی بہتر فراہمی جاری ہے۔ایس این جی پی ایل نے ان اکاؤنٹڈ فار گیس (UFG) نقصانات میں نمایاں کمی کی ہے جو 9 فیصد سے کم ہو کر 5 فیصد ہو گئے ہیں جبکہ ایس ایس جی سی نے بتایا کہ اس کے UFG نقصانات 17 فیصد سے کم ہو کر 10 فیصد رہ گئے ہیں۔
کمیٹی کو آگاہ کیا گیا کہ آئی او ٹی پر مبنی مانیٹرنگ سسٹمز، جن میں ٹاؤن بارڈر سٹیشنز بھی شامل ہیں، گیس نیٹ ورک کے آخری حصوں پر نصب کر دیئے گئے ہیں جو پریشر میں کمی کی صورت میں خودکار الارمز جاری کرتے ہیں جس سے ریئل ٹائم مانیٹرنگ اور سروس ڈیلیوری میں بہتری آئی ہے۔ایم ڈی ایس این جی پی ایل نے مزید بتایا کہ وزیراعظم محمد شہباز شریف کی ہدایات کے مطابق موسمِ سرما میں عوام کو زیادہ سے زیادہ ریلیف فراہم کرنے کے لئے گیس کی فراہمی کے اوقات صبح 5 بجے سے رات 10 بجے تک بڑھا دیئے گئے ہیں۔
وفاقی وزیر علی پرویز ملک نے مزید کہا کہ حکومت عالمی بینک سے مشاورت کے ذریعے ڈائریکٹوریٹ جنرل آف پٹرولیم کنسیشنز کی استعداد کار بڑھانے کے لئے کام کر رہی ہے۔ قائمہ کمیٹی کے چیئرمین اور اراکین نے پٹرولیم اور گیس کے شعبے میں اصلاحات، بہتر طرزِ حکمرانی اور صارفین پر مرکوز اقدامات کے ذریعے حاصل ہونے والی پیشرفت کو سراہا۔








