چیئرپرسن ڈاکٹر شازیہ ثوبیہ سومرو کی زیر صدارت قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے تعلیم و تربیت کا اجلاس

اسلام آباد۔6جنوری (اے پی پی):قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے تعلیم و تربیت کا اجلاس وفاقی نظامتِ تعلیمات میں چیئرپرسن ڈاکٹر شازیہ ثوبیہ سومرو کی زیر صدارت منعقد ہوا جس میں تعلیمی شعبے سے متعلق متعدد اہم امور پر تفصیلی غور کیا گیا۔اجلاس میں کمیٹی کی سابقہ سفارشات پر عملدرآمد کی جامع رپورٹ پیش کی گئی اور اس پر تفصیلی بریفنگ دی گئی۔ چیئرپرسن نے واضح کیا کہ سابق چیئرمین …

اسلام آباد۔6جنوری (اے پی پی):قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے تعلیم و تربیت کا اجلاس وفاقی نظامتِ تعلیمات میں چیئرپرسن ڈاکٹر شازیہ ثوبیہ سومرو کی زیر صدارت منعقد ہوا جس میں تعلیمی شعبے سے متعلق متعدد اہم امور پر تفصیلی غور کیا گیا۔اجلاس میں کمیٹی کی سابقہ سفارشات پر عملدرآمد کی جامع رپورٹ پیش کی گئی اور اس پر تفصیلی بریفنگ دی گئی۔ چیئرپرسن نے واضح کیا کہ سابق چیئرمین ڈاکٹر اعظم الدین زاہد لکھوی کے بعد بھی کمیٹی اپنے کام کو تسلسل کے ساتھ جاری رکھے ہوئے ہے۔

اجلاس کے دوران اردو یونیورسٹی کے ملازمین کی تنخواہوں سے متعلق مسائل زیر بحث آئے تاہم چیئرپرسن نے کہا کہ اس معاملے پر تفصیلی غور آئندہ اجلاس میں کیا جائے گا۔کمیٹی میں دی ویسٹ منسٹر یونیورسٹی آف ایمرجنگ سائنسز اینڈ ٹیکنالوجی بل 2024 پر بھی بحث کی گئی۔ چیئرپرسن نے ایچ ای سی حکام کو بل کے بارے میں بریفنگ دینے کی ہدایت کی جس پر ایچ ای سی حکام نے بتایا کہ بل میں مطلوبہ دستاویزات اور زمین سے متعلق معلومات تاحال مکمل نہیں۔

ایچ ای سی کے مطابق بل پیش کرنے والوں کو آگاہ کر دیا گیا ہے کہ کن نکات میں کمی موجود ہے۔پرائیوٹ ایجوکیشن انسٹی ٹیوشنز ریگولیٹری اتھارٹی (پیرا) نے کمیٹی کو نجی سکولوں کی فیسوں اور قواعد و ضوابط سے متعلق بریفنگ دی۔ پیرا حکام نے بتایا کہ فیس میں زیادہ سے زیادہ پانچ فیصد اضافہ کیا جا سکتا ہے جبکہ دورانِ تعلیمی سال فیس بڑھانے کی اجازت نہیں۔ پیرا نے پنجاب اور سندھ کے نجی سکولوں کی فیسوں سے متعلق قواعد اور عدالتی احکامات سے بھی کمیٹی کو آگاہ کیا۔

چیئرپرسن نے ہدایت کی کہ تمام عدالتی احکامات دستاویزی شکل میں کمیٹی کو فراہم کئے جائیں۔چیئرپرسن نے نجی سکولوں کی جانب سے والدین کو مخصوص دکانوں سے یونیفارم اور کتابیں خریدنے پر مجبور کرنے کے معاملے پر سخت سوالات اٹھائے۔ پیرا حکام نے بتایا کہ قواعد کے مطابق سکول دو وینڈرز متعین کرتے ہیں۔ چیئرپرسن نے آئندہ اجلاس میں تمام نجی سکولوں کی فیسوں کی تفصیلات اور ریکارڈ پیش کرنے کی ہدایت کرتے ہوئے کہا کہ بتایا جائے کس سکول نے کتنی فیس میں اضافہ کیا۔

وزارتِ تعلیم نے این جی اوز کے تحت کام کرنے والے اساتذہ کی کم از کم تنخواہوں سے متعلق بریفنگ دی جس میں انکشاف کیا گیا کہ متعدد این جی اوز اساتذہ کو 8 سے 12 ہزار روپے ماہانہ تنخواہ دے رہی ہیں۔ این سی ایچ ڈی نے اپنے مجوزہ نکات وزارت کو ارسال کر دیئے ہیں جبکہ 43 ہزار بچوں کو مفت سکول بیگز فراہم کرنے کا منصوبہ بھی جاری ہے۔اجلاس میں سرکاری سکولوں اور کالجوں میں جاری تزئین و آرائش کے منصوبوں پر بھی بریفنگ دی گئی۔

ایف ڈی ای حکام کے مطابق 152 تعلیمی اداروں میں رینوویشن کے منصوبے شروع کئے گئے جن میں سے 121 مکمل ہو چکے ہیں جبکہ 50 اداروں میں کام جاری ہے۔ انہوں نے کہا کہ سکولوں کی بحالی کیلئے ٹھیکیداروں کو 15 جنوری تک تمام کام مکمل کرنے کی ہدایت دی گئی ہے۔اجلاس کے اختتام پر چیئرپرسن نے تمام متعلقہ اداروں کو ہدایت کی کہ آئندہ اجلاس میں طلب کردہ تمام ریکارڈ اور رپورٹس مکمل تیاری کے ساتھ پیش کی جائیں۔