اسلام آباد۔7جنوری (اے پی پی):سپریم کورٹ نے افغان مہاجرین کے لئے استعمال ہونے والی اراضی کے کرائے کی عدم ادائیگی اور مہاجر کیمپ کا ملبہ نہ ہٹانے سے متعلق کیس میں افغان کمشنریٹ پشاور کی اپیل خارج کرتے ہوئے ہائیکورٹ اور ماتحت عدالتوں کا فیصلہ برقرار رکھا۔ چیف جسٹس پاکستان کی سربراہی میں عدالت عظمیٰ نے بدھ کو کیس کی سماعت کے دوران قرار دیا کہ افغان کمشنریٹ کرائے کی …
افغان مہاجرین کے لئے لی گئی اراضی کا کرایہ اور ملبہ ہٹانے کا معاملہ، سپریم کورٹ نے افغان کمشنریٹ کی اپیل خارج کر دی

مزید خبریں
اسلام آباد۔7جنوری (اے پی پی):سپریم کورٹ نے افغان مہاجرین کے لئے استعمال ہونے والی اراضی کے کرائے کی عدم ادائیگی اور مہاجر کیمپ کا ملبہ نہ ہٹانے سے متعلق کیس میں افغان کمشنریٹ پشاور کی اپیل خارج کرتے ہوئے ہائیکورٹ اور ماتحت عدالتوں کا فیصلہ برقرار رکھا۔
چیف جسٹس پاکستان کی سربراہی میں عدالت عظمیٰ نے بدھ کو کیس کی سماعت کے دوران قرار دیا کہ افغان کمشنریٹ کرائے کی ادائیگی اور کیمپ کا ملبہ ہٹانے کا پابند ہے جبکہ اس ضمن میں نچلی عدالتوں کے فیصلوں میں کوئی قانونی سقم موجود نہیں۔سماعت کے دوران متاثرہ زمین مالکان کے وکیل نے عدالت کو بتایا کہ 1983 میں افغان مہاجرین کے لئے مقامی لوگوں سے زرعی اراضی کرائے پر لی گئی تھی۔ چترال میں قائم افغان مہاجر کیمپ کو 2005 میں خالی تو کرا لیا گیا تاہم زرعی اراضی پر تعمیر کیے گئے مکانات کا ملبہ آج تک موجود ہے۔
وکیل متاثرین کے مطابق 2005 کے بعد سے اب تک زمین مالکان کو نہ تو کرایہ ادا کیا گیا اور نہ ہی اراضی کو اصل حالت میں بحال کیا گیا۔ وکیل نے موقف اختیار کیا کہ جب تک کیمپ کا ملبہ نہیں ہٹایا جاتا، زمین مالکان اپنی اراضی کیسے وصول کر سکتے ہیں۔
چیف جسٹس نے ریمارکس دیئے کہ اگر کیمپ خالی کر کے دے دیا گیا ہے تو زمین مالکان ملبہ خود بھی ہٹا سکتے ہیں۔ اس پر وکیل نے جواب دیا کہ ملبہ ہٹانے پر بھاری اخراجات آتے ہیں جو متاثرین نہیں بلکہ افغان کمشنریٹ کی ذمہ داری ہے۔چیف جسٹس نے کہا کہ اگر متاثرین کی رضامندی ہو تو افغان کمشنریٹ کو جون تک کا وقت دیا جا سکتا ہے تاکہ وہ ملبہ ہٹا دیں تاہم عدالت نے واضح کیا کہ بنیادی ذمہ داری کمشنریٹ پر ہی عائد ہوتی ہے۔
عدالت عظمیٰ نے دلائل مکمل ہونے کے بعد افغان کمشنریٹ کی اپیل مسترد کرتے ہوئے ہائیکورٹ اور ڈسٹرکٹ کورٹ کے فیصلے برقرار رکھے، جن میں اراضی کا کرایہ ادا کرنے اور مہاجر کیمپ کا ملبہ ہٹانے کا حکم دیا گیا تھا۔








