صحت اور تعلیم سے متعلق پروگراموں کو صوبوں کو منتقل کرنا وقت کی اہم ضرورت ہے، سینیٹر روبینہ خالد

کراچی۔ 07 جنوری (اے پی پی):چیئرپرسن بینظیر انکم سپورٹ پروگرام سینیٹر روبینہ خالد نے کہا ہے کہ وفاق کو مضبوط بنانے کیلئے صحت اور تعلیم سے متعلق پروگراموں کو صوبوں کو منتقل کرنا وقت کی اہم ضرورت ہے۔جاری اعلامیہ کے مطابق انہوں نے یہ بات بدھ کے روز حکومتِ سندھ کے محکمہ سماجی تحفظ کے تحت سندھ سوشل پروٹیکشن اتھارٹی (ایس ایس پی اے)کے دفتر کے دورے کے موقع پر …

کراچی۔ 07 جنوری (اے پی پی):چیئرپرسن بینظیر انکم سپورٹ پروگرام سینیٹر روبینہ خالد نے کہا ہے کہ وفاق کو مضبوط بنانے کیلئے صحت اور تعلیم سے متعلق پروگراموں کو صوبوں کو منتقل کرنا وقت کی اہم ضرورت ہے۔جاری اعلامیہ کے مطابق انہوں نے یہ بات بدھ کے روز حکومتِ سندھ کے محکمہ سماجی تحفظ کے تحت سندھ سوشل پروٹیکشن اتھارٹی (ایس ایس پی اے)کے دفتر کے دورے کے موقع پر کہی۔ اس موقع پر صوبائی وزیر محنت، افرادی قوت و سماجی تحفظ سندھ سعید غنی نے چیئرپرسن کا خیرمقدم کیا جبکہ چیف ایگزیکٹو آفیسر ایس ایس پی اے ارشاد سودھر نے ادارے کے امور پر بریفنگ دی۔سینیٹر روبینہ خالد نے کہا کہ بی آئی ایس پی کا بنیادی معاونتی پروگرام وفاقی سطح پر برقرار رہنا چاہیے تاہم صحت اور تعلیم سے متعلق منصوبے زیادہ موثر نفاذ کے لیے صوبوں کو منتقل کیے جانے چاہئیں۔

انہوں نے کہا کہ بی آئی ایس پی، سندھ حکومت کے ساتھ ڈیٹا انٹیگریشن کا مضبوط نظام قائم کرنے میں گہری دلچسپی رکھتا ہے۔صوبائی وزیر سعید غنی نے بی آئی ایس پی کے ساتھ وسیع تر تعائون اور ڈیٹا شیئرنگ معاہدوں پر جاری غور و فکر کو اجاگر کیا۔ انہوں نے کہا کہ اس تعاون سے سندھ کے لاکھوں مستفیدین کو سماجی تحفظ کے پروگراموں تک رسائی مزید بہتر اور آسان ہوگی۔ انہوں نے کہا کہ دیگر سرکاری محکموں کے ساتھ ہم آہنگی کے ذریعے ایک مرکزی ڈیٹا ذخیرہ قائم کرنے پر بھی کام جاری ہے۔اس موقع پرڈائریکٹر جنرل این ایس ای آر بی آئی ایس پی ڈاکٹر عاصم اعجاز نے بتایا کہ سندھ میں تقریباً 9.8 ملین گھرانے ہیں، جن میں سے 9.1 ملین بی آئی ایس پی رجسٹری میں شامل ہیں جبکہ اس وقت 2.65 ملین گھرانے بینظیر کفالت پروگرام کے تحت غیر مشروط نقد امداد حاصل کر رہے ہیں۔

اس موقع پرچیف ایگزیکٹو آفیسر ایس ایس پی اے ارشاد سودھر نے بی آئی ایس پی اور نادرا کے ساتھ موجودہ ڈیٹا شیئرنگ پروٹوکولز کے بارے میں آگاہ کیا، جن کے ذریعے ممتا پروگرام کے تحت اندراج میں سہولت فراہم کی جا رہی ہے۔ انہوں نے بتایا کہ سندھ کے 15 اضلاع میں اب تک 9 لاکھ 10 ہزار مائوں کو رجسٹر کیا جا چکا ہے جبکہ 40 لاکھ سے زائد اسپتال چیک اپ مکمل کیے جا چکے ہیں۔اس موقع پر سیکرٹری محکمہ سماجی تحفظ خادم حسین چنا، سینئر پروجیکٹ منیجر ذوالفقار مٹھانی، ڈائریکٹر جنرل این ایس ای آر ڈاکٹر عاصم اعجاز، ڈائریکٹر جنرل بی آئی ایس پی سندھ عدنان الحسن، ٹیکنیکل کنسلٹنٹ بی آئی ایس پی محمد نعمان علی اور دیگر متعلقہ افسران بھی موجود تھے۔