نیپرانے جنوری 2026 سے دسمبر 2026 کے لیے صارفین کے نرخوں پر نظرِ ثانی کے بعد فیصلہ جاری کر دیا

اسلام آباد۔8جنوری (اے پی پی):نیپرانے جنوری 2026 سے دسمبر 2026 کے لیے صارفین کے نرخوں پر نظرِ ثانی کے بعد فیصلہ جاری کر دیا، نیپرا اتھارٹی کے متعین ٹیرف وفاقی حکومت کو یکساں نرخ کی درخواست دائر کرنے کے لیے ارسال کر دیے گئے ہیں۔ نیپرا کی جانب سے جاری اعلامیہ کے مطابق وزارتِ توانائی (پاور ڈویژن) کی جانب سے جاری کردہ پالیسی ہدایات اور وفاقی کابینہ کی منظوری کے …

اسلام آباد۔8جنوری (اے پی پی):نیپرانے جنوری 2026 سے دسمبر 2026 کے لیے صارفین کے نرخوں پر نظرِ ثانی کے بعد فیصلہ جاری کر دیا، نیپرا اتھارٹی کے متعین ٹیرف وفاقی حکومت کو یکساں نرخ کی درخواست دائر کرنے کے لیے ارسال کر دیے گئے ہیں۔

نیپرا کی جانب سے جاری اعلامیہ کے مطابق وزارتِ توانائی (پاور ڈویژن) کی جانب سے جاری کردہ پالیسی ہدایات اور وفاقی کابینہ کی منظوری کے مطابق، صارفین کے نرخوں کی سالانہ نظرِ ثانی یکم جنوری سے مؤثر ہونی ہے، سال 2026 کے لیے قومی اوسط نرخِ بجلی 33 روپے 38پیسے فی یونٹ مقرر کیا گیا ہے، جو کہ مالی سال 26-2025 کے لیے پہلے سے مقررہ 34 روپے فی یونٹ کے مقابلے میں62پیسے فی یونٹ کم ہے، سال 2026 کے لیے بجلی تقسیم کار کمپنیوں کی مجموعی مالی ضرورت کا تخمینہ 3379 ارب روپے لگایا گیا ہے، جس میں 2923 ارب روپے بجلی کی خریداری کی قیمت اور 456 ارب 15کروڑ روپے تقسیم کار کمپنیوں کے اخراجات ، منافع اور گزشتہ سال کی مالی ایڈجسٹمنٹ کے لیے شامل ہیں، جبکہ متوقع بجلی فروخت 101234 گیگا واٹ ہے۔

نیپرا کے مطابق نیپرا ہر تقسیم کار کمپنی کے لیے صارفین کی سطح پر علیحدہ علیحدہ بجلی کا نرخ مقرر کرتا ہے۔ یہ نرخ ہر کمپنی کی انفرادی مالی ضروریات اور ترسیل و تقسیم کے دوران بجلی کے ضیاع کی اجازت شدہ حد کو مدِنظر رکھتے ہوئے طے کیے جاتے ہیں۔ ہزارہ کی بجلی تقسیم کار کمپنی کی ایک سال جبکہ کوئٹہ، ملتان، سکھر، حیدرآباد، پشاور، قبائلی علاقوں اور گوجرانوالہ کی بجلی تقسیم کار کمپنیوں نے مالی سال 26-2025 سے 30-2029- تک کے لیے کثیر سالہ نرخوں کی درخواستیں جمع کروائیں، جنہیں اتھارٹی نے منظور اور متعین کر دیا ہے۔