آئینی عدالت کا قیام پارلیمان کی دانشمندانہ قانون سازی کا مظہر ہے ،وفاقی وزیر قانون و انصاف

اسلام آباد۔8جنوری (اے پی پی):وفاقی وزیر قانون و انصاف اعظم نذیر تارڑ نے کہا ہے کہ ستائیسویں آئینی ترمیم کا بنیادی مقصد آئینی عدالت کا قیام ہےجس کے ذریعے چاروں صوبوں کو مناسب اور متوازن نمائندگی فراہم کی گئی ہے اور وفاق کو درپیش دیرینہ محرومیوں کا خاتمہ ممکن بنایا گیا ہے۔ وہ جمعرات کو سپریم کورٹ بار میں ایڈووکیٹ طلعت عباس کی کتاب کی رونمائی کی تقریب سے بطور …

اسلام آباد۔8جنوری (اے پی پی):وفاقی وزیر قانون و انصاف اعظم نذیر تارڑ نے کہا ہے کہ ستائیسویں آئینی ترمیم کا بنیادی مقصد آئینی عدالت کا قیام ہےجس کے ذریعے چاروں صوبوں کو مناسب اور متوازن نمائندگی فراہم کی گئی ہے اور وفاق کو درپیش دیرینہ محرومیوں کا خاتمہ ممکن بنایا گیا ہے۔ وہ جمعرات کو سپریم کورٹ بار میں ایڈووکیٹ طلعت عباس کی کتاب کی رونمائی کی تقریب سے بطور مہمانِ خصوصی خطاب کر رہے تھے۔سپریم کورٹ بار روم میں منعقدہ تقریب میں صدر سپریم کورٹ بار ایسوسی ایشن ہارون الرشید سمیت نامور وکلا، بار رہنماؤں اور قانونی ماہرین کی بڑی تعداد شریک ہوئی۔

وفاقی وزیر قانون نے کہا کہ ستائیسویں آئینی ترمیم کو سیاسی چارٹر کا حصہ بنایا گیا تھا اور اس وقت تمام سیاسی جماعتوں نے اس ترمیم کو تسلیم کیا تھا جبکہ بار ایسوسی ایشنز کی جانب سے بھی آئینی عدالت کے قیام کا مسلسل مطالبہ کیا جاتا رہا۔اعظم نذیر تارڑ کا کہنا تھا کہ ماضی میں سپریم کورٹ میں چاروں اکائیوں کی نمائندگی تناسب کے مطابق نہیں تھی، جس کے باعث اعتراضات جنم لیتے رہے، تاہم آئینی عدالت کے قیام کے بعد یہ شکایات ختم ہو جائیں گی اور مستقبل میں کسی مخصوص صوبے یا ججز پر جانبداری کے الزامات نہیں لگائے جا سکیں گے۔ انہوں نے کہا کہ آئینی عدالت ایک منفرد اور مضبوط فورم ہے، جو پارلیمان کی دانشمندانہ قانون سازی کا مظہر ہے اور تاریخ اس اقدام کو ایک بڑے فیصلے کے طور پر یاد رکھے گی۔

وفاقی وزیر قانون نے ایڈووکیٹ طلعت عباس کی بطور کالم نگار خدمات کو سراہتے ہوئے کہا کہ انہوں نے نہایت معیاری اور مدلل تحریریں قلم بند کیں، جن میں نواز شریف مقدمے سمیت اہم سیاسی اور قانونی معاملات کو خوبصورتی سے سمیٹا گیا ہے۔اعظم نذیر تارڑ نے کہا کہ یہ خوش آئند امر ہے کہ طلعت عباس کی تمام تحریروں کو کتابی شکل دے دی گئی ہے، اور بعض مواقع پر وہ خود بھی طلعت عباس سے درخواست کرتے رہے کہ تحریر میں ذرا نرمی اختیار کی جائے، تاہم ان کی تحریروں کی فکری گہرائی قابلِ تحسین ہے۔ انہوں نے صحافی برادری پر زور دیا کہ رائے دیتے وقت قانون کی منشا کو ضرور مدنظر رکھا جائے۔

تقریب سے خطاب کرتے ہوئے وفاقی وزیر قانون نے وکلا کی فلاح و بہبود سے متعلق اقدامات کا بھی ذکر کیا اور بتایا کہ اسلام آباد ہائیکورٹ اور جی الیون میں وکلا کے لیے جدید کمپلیکس قائم کیے گئے ہیں جبکہ وزیراعظم کی خصوصی ہدایات کے تحت وکلا کے مسائل کے حل کو ترجیح دی جا رہی ہے۔اس موقع پر ایڈووکیٹ طلعت عباس نے وفاقی وزیر قانون اعظم نذیر تارڑ، صدر سپریم کورٹ بار اور وکلا برادری کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ وفاقی وزیر نے اپنی مصروفیات میں سے وقت نکال کر تقریب میں شرکت کی، جو ان کے لیے باعثِ اعزاز ہے۔