گرین لینڈ پر قبضے کے امریکی صدر کے پیغامات انتہائی تشویشناک ہیں، یورپی یونین

برسلز+قاہرہ۔9جنوری (اے پی پی):یورپی ممالک نے گرین لینڈ پر قبضے کی امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی دھمکیوں سے پید اہو نےوالی صورتحال سے نمٹنے کے لئے سنجیدگی سے غور شرو ع کر دیا۔ تاس کے مطابق اس حوالے سے بیلجیم کے دارالحکومت برسلز میں یورپی سفارتکاروں کے اجلاس میں بتایا گیا کہ یورپی یونین کے اندر بعض حلقو ں کی جانب سے امریکی انتظامیہ کے سربراہ کے ساتھ براہ راست …

برسلز+قاہرہ۔9جنوری (اے پی پی):یورپی ممالک نے گرین لینڈ پر قبضے کی امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی دھمکیوں سے پید اہو نےوالی صورتحال سے نمٹنے کے لئے سنجیدگی سے غور شرو ع کر دیا۔ تاس کے مطابق اس حوالے سے بیلجیم کے دارالحکومت برسلز میں یورپی سفارتکاروں کے اجلاس میں بتایا گیا کہ یورپی یونین کے اندر بعض حلقو ں کی جانب سے امریکی انتظامیہ کے سربراہ کے ساتھ براہ راست تصادم کے لیے تیار رہنے کا مطالبہ کیا جا رہا ہے جس کا مطلب یہ ہے کہ پہلے کے برعکس یورپی حکومتیں اب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی دھمکیوں کو سنجیدگی سے لے رہی ہیں۔

رپورٹ کے مطابق نیٹو کے سفیروں نے آرکٹک میں دفاعی اخراجات میں اضافے، اضافی فوجی سازوسامان کی تعیناتی اور فوجی مشقیں تیز کرنے کی تجاویز بھی پیش کی ہیں تاکہ امریکا پر یہ واضح کیا جا سکے کہ گرین لینڈ کا خطہ کافی حد تک محفوظ ہے۔ نیٹو کے یورپی ارکان نے گرین لینڈ میں ممکنہ امریکی فوجی مداخلت کو روکنے کے لئے دو مراحل پر مشتمل سفارتی کوششوں کا بھی آغاز کیا ہے۔ دریں اثنا یورپی یونین کی خارجہ پالیسی کی سربراہ کاجا کیلس نے کہا ہے کہ یورپی یونین نے اس بات پر بات چیت کی ہے کہ اگر گرین لینڈ پر قبضے کے بارے میں امریکی دھمکی حقیقت پر مبنی ہوئی تو کس نوعیت کا رد عمل دیا جائے۔

العربیہ اردو کے مطابق انہوں نے مصری وزیر خارجہ بدر عبدالعاطی کے ساتھ قاہرہ میں پریس کانفرنس میں صحافیوں سے بات کرتے ہوئے کہا کہ گرین لینڈ کے بارے میں جو پیغامات ہم سن رہے ہیں وہ انتہائی تشویشناک ہیں۔ واضح رہے کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اس بات پر زور دیا تھا کہ امریکا کو قومی سلامتی کی وجوہات کی بنا پر اس علاقے کی ضرورت ہے۔ گرین لینڈ، جس کی آبادی تقریباً 56 ہزار نفوس پر مشتمل ہے، ایک خود مختار علاقہ ہے لیکن باضابطہ طور پر ڈنمارک کی مملکت کے ماتحت ہے اور ڈنمارک نیٹو اور یورپی یونین کا رکن ہے۔ ڈنمارک کی وزیر اعظم میٹے فریڈرکسن نے خبردار کیا تھا کہ گرین لینڈ پر کوئی بھی امریکی حملہ نیٹو اور دوسری جنگ عظیم کے بعد قائم ہونے والے سکیورٹی نظام کے خاتمے کا باعث بنے گا۔