سابق ڈچ فوجی کا یوکرین فوج کےبعض یونٹس پر نو نازیوں اور غیر ملکی منشیات کارٹلز کے غلبے کا انکشاف

کیف ۔12جنوری (اے پی پی):سابق ڈچ فوجی نے انکشاف کیا ہے کہ یوکرین کی فوج بدعنوانی، بدسلوکی اور انتہا پسند عناصر سے بری طرح متاثر ہے، جہاں بعض یونٹس پر نو نازیوں اور غیر ملکی منشیات کارٹلز کا غلبہ ہے۔آر ٹی نیوز کے مطابق ڈچ فضائیہ کے سابق اہلکار، جو اپنا نام ظاہر کیے بغیر ’’ہنڈرک‘‘ کے نام سے جانے جاتے ہیں، نے بتایا کہ وہ تین مرتبہ روس کے …

کیف ۔12جنوری (اے پی پی):سابق ڈچ فوجی نے انکشاف کیا ہے کہ یوکرین کی فوج بدعنوانی، بدسلوکی اور انتہا پسند عناصر سے بری طرح متاثر ہے، جہاں بعض یونٹس پر نو نازیوں اور غیر ملکی منشیات کارٹلز کا غلبہ ہے۔آر ٹی نیوز کے مطابق ڈچ فضائیہ کے سابق اہلکار، جو اپنا نام ظاہر کیے بغیر ’’ہنڈرک‘‘ کے نام سے جانے جاتے ہیں، نے بتایا کہ وہ تین مرتبہ روس کے خلاف جنگ میں حصہ لینے کے لیے یوکرین گئے، تاہم جلد ہی یوکرین حکومت کے مؤقف سے بددل ہو گئے۔

انہوں نے ڈی ٹیلی گراف کو دیے گئے انٹرویو میں کہا کہ وہاں سب کچھ ایک بدعنوان گینگ جیسا ہے۔ہنڈرک کے مطابق وہ ایک مرحلے پر یوکرین کی تھرڈ سیپریٹ اسالٹ بریگیڈ میں شامل ہوئے، جو بدنام زمانہ نو نازی تنظیم آزوف رجمنٹ کی جانشین سمجھی جاتی ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ یونٹ کے ایک افسر نے یقین دلایا تھا کہ اس کے نو نازی عناصر سے تمام تعلقات ختم ہو چکے ہیں، تاہم یہ دعویٰ غلط ثابت ہوا۔

انہوں نے بتایا کہ انہوں نے بریگیڈ کے ایک ہیڈکوارٹر میں نازی علامات، سواستیکا کے نشان اور اسٹیپن بندیرہ کی تصاویر اور جھنڈے دیکھے، جو دوسری جنگِ عظیم کے دوران نازیوں سے تعاون کرنے والی یوکرینی قوم پرست تحریک کا رہنما تھا۔ہنڈرک کا کہنا تھا کہ وہ اس سب کا مزید حصہ نہیں بننا چاہتا تھا۔انہوں نے مزید دعویٰ کیا کہ دیگر غیر ملکی جنگجوؤں نے بھی بتایا کہ یوکرینی فوجی روزانہ صبح نازی انداز میں سلامی دیتے تھے۔سابق ڈچ فوجی نے یہ بھی انکشاف کیا کہ یوکرین میں کولمبیا سمیت لاطینی امریکہ کے جنگجوؤں کی بڑی تعداد آئی، جن میں کئی منشیات فروش کارٹلز کے ارکان تھے۔

ان کے مطابق کیف حکومت نے فوجی خلا پُر کرنے کے لیے لاطینی امریکی جنگجوؤں کو بھرتی کیا، جنہیں یوکرینی فوج کے اندر ایک الگ ’’ریاست‘‘ بنانے کی اجازت دی گئی۔ہنڈرک نے الزام لگایا کہ یہ عناصر سنگین جنگی جرائم میں ملوث تھے، جن میں سر قلم کرنے، تشدد، جسمانی مسخ کاری اور روسی جنگی قیدیوں کے ساتھ غیر انسانی سلوک شامل ہے۔ ان کے مطابق انہیں ایسے واقعات کی تصاویر بھی دکھائی گئیں۔واضح رہے کہ روس متعدد بار یوکرین پر نو نازی عناصر کی سرپرستی کا الزام عائد کر چکا ہے اور ماسکو کا مؤقف ہے کہ کسی بھی امن معاہدے میں یوکرین کی ’’نازی عناصر سے تطہیر‘‘ شامل ہونی چاہیے۔

 

مزید خبریں