ہمارے خلائی مشن کے نتیجے میں 19 سائنسی تجربات ہوئے، سعودی خلائی ایجنسی

ریاض ۔13جنوری (اے پی پی):سعودی خلائی ایجنسی کے مطابق "سعودی عرب کا خلائی مشن" 19 خلائی سائنسی تجربات کا باعث بنا جس کے نتیجے میں 11 سائنسی تحقیقی مقالے تیار ہوئے جن میں 9 قومی اور 2 بین الاقوامی مقالے شامل ہیں۔العربیہ ڈاٹ نیٹ سے خصوصی گفتگو میں ایجنسی کے ترجمان نے بتایا کہ ان مقالوں میں متعدد شعبوں بالخصوص مائیکرو گریوٹی (کم کشش ثقل) کی تحقیق، انسانی جسم پر …

ریاض ۔13جنوری (اے پی پی):سعودی خلائی ایجنسی کے مطابق "سعودی عرب کا خلائی مشن” 19 خلائی سائنسی تجربات کا باعث بنا جس کے نتیجے میں 11 سائنسی تحقیقی مقالے تیار ہوئے جن میں 9 قومی اور 2 بین الاقوامی مقالے شامل ہیں۔العربیہ ڈاٹ نیٹ سے خصوصی گفتگو میں ایجنسی کے ترجمان نے بتایا کہ ان مقالوں میں متعدد شعبوں بالخصوص مائیکرو گریوٹی (کم کشش ثقل) کی تحقیق، انسانی جسم پر خلائی ماحول کے اثرات اور جدید مواد کی تیاری پر بات کی گئی ہے۔ یہ پیش رفت خلائی سائنسی تحقیق میں مملکت کے تعاون میں ایک نمایاں تبدیلی کی عکاسی کر رہی ہے۔سعودی خلا بازوں نے بین الاقوامی خلائی سٹیشن پر تقریباً 19 سائنسی تجربات کیے ۔ ان کے نتائج سائنسی تحقیق میں تبدیل ہو گئے۔

اسی تناظر میں ایجنسی نے "العربیہ ڈاٹ نیٹ” کو بتایا کہ خلائی سائنسی تحقیق کا ایک حصہ عالمی سائنسی جرائد میں شائع ہو چکا ہے جبکہ دیگر مقالے منظور شدہ تعلیمی راستوں کے مطابق سائنسی اشاعت کے مراحل میں ہیں۔ یہ صورت حال اس سائنسی مشن کے طویل مدتی تحقیقی اثرات کو مضبوط بناتی ہے۔سائنسی تجربات کے نتیجے میں مائیکرو گریوٹی کے ماحول میں کارٹلیج (کرکری ہڈی) کی مرمت کے لیے ایک نینو میٹریل (خرد بینی مادہ) تیار کرنے میں کامیابی حاصل ہوئی۔ ایجنسی کے ترجمان نے واضح کیا کہ یہ ماحول منفرد حالات فراہم کرتا ہے جو زمین پر حاصل نہیں کیے جا سکتے کیونکہ یہاں مالیکیولز کی حرکت پر کشش ثقل کا اثر کم ہو جاتا ہے جس کا براہِ راست اثر مینوفیکچرنگ کے معیار پر پڑتا ہے۔

ایجنسی کے ترجمان نے بتایا کہ خلا میں کشش ثقل کے کم اثر نے ٹشو انجینئرنگ میں استعمال ہونے والے نینو میٹریل کی ساخت پر زیادہ درست کنٹرول فراہم کیا اور زمین پر تیار کیے جانے والے مادوں کے مقابلے میں اس کی یکسانیت اور معیار کو بہتر بنایا جو زمینی مینوفیکچرنگ میں ان طبعی عوامل سے متاثر ہوتے ہیں جو مادے کی ساختی تشکیل کی درستگی کو محدود کر دیتے ہیں۔ایجنسی کے ترجمان نے اس بات کی تصدیق کی کہ یہ کامیابی عملی سائنسی تحقیق کی حمایت، طبی شعبے میں اختراع کے فروغ اور جدید ٹیکنالوجی کو مقامی سطح پر لانے میں تعاون کے ذریعے "سعودی ویژن 2030” کے اہداف کے ساتھ ہم آہنگ ہے۔

یہ کامیابی محض خلائی تحقیق میں شرکت سے آگے بڑھ کر سائنسی علم کی پیداوار میں ایک فعال کردار ادا کرنے والے ملک اور انسانی صحت اور طبی ٹیکنالوجی کے مستقبل پر براہِ راست اثر ڈالنے والے بین الاقوامی تحقیقی منصوبوں میں ایک قابلِ اعتماد شراکت دار کے طور پر مملکت کی منتقلی کی عکاسی کر رہی ہے۔

مزید خبریں