سابق ومبلڈن فائنلسٹ میلوس راؤنک کاٹینس سے ریٹائرمنٹ کا اعلان

ٹورنٹو۔13جنوری (اے پی پی):کینیڈا کےٹینس کھلاڑی اور سابق ومبلڈن فائنلسٹ میلوس راؤنک نے ٹینس سے ریٹائرمنٹ کا اعلان کرتے ہوئے کہا ہے کہ وہ اپنی زندگی کے خواب جینے والے ’سب سے خوش نصیب انسان رہے ہیں۔ بی بی سی کے مطابق 35 سالہ میلوس راؤنک نے سوشل میڈیا پر اپنے پیغام میں پیشہ ورانہ ٹینس کو خیرباد کہنے کی تصدیق کی ہے۔کینیڈا کے ٹینس سٹار میلوس راؤنک 2016 میں …

ٹورنٹو۔13جنوری (اے پی پی):کینیڈا کےٹینس کھلاڑی اور سابق ومبلڈن فائنلسٹ میلوس راؤنک نے ٹینس سے ریٹائرمنٹ کا اعلان کرتے ہوئے کہا ہے کہ وہ اپنی زندگی کے خواب جینے والے ’سب سے خوش نصیب انسان رہے ہیں۔ بی بی سی کے مطابق 35 سالہ میلوس راؤنک نے سوشل میڈیا پر اپنے پیغام میں پیشہ ورانہ ٹینس کو خیرباد کہنے کی تصدیق کی ہے۔کینیڈا کے ٹینس سٹار میلوس راؤنک 2016 میں ومبلڈن اوپن ٹینس ٹورنامنٹ کے فائنل تک پہنچے تھے، جہاں انہوں نے سیمی فائنل میں سوئٹزرلینڈ کے عظیم کھلاڑی راجر فیڈرر کو شکست دی، تاہم فائنل میں برطانیہ کے اینڈی مرے کے ہاتھوں سٹریٹ سیٹس میں ہار گئے۔

اسی سال وہ عالمی درجہ بندی میں تیسری پوزیشن تک پہنچے، جبکہ آسٹریلین اوپن ٹینس ٹورنامنٹ کے سیمی فائنل میں بھی جگہ بنائی۔اپنے الوداعی پیغام میں میلوس راؤنک نے کہا کہ وہ لمحہ آ ہی جاتا ہے جس کے بارے میں آپ جانتے ہیں، مگر اس کے لئے کبھی خود کو مکمل طور پر تیار محسوس نہیں کرتے۔ ٹینس میری زندگی کا عشق اور جنون رہا ہے۔اپنی تیز رفتار اور طاقتور سروس کی وجہ سے مسائل کے لقب سے مشہور میلوس راؤنک نے اپنے کیریئر میں 8 اے ٹی پی ٹائٹلز جیتے۔ ان کا آخری میچ 2024 کے اولمپکس میں کھیلا گیا، جہاں وہ پہلے راؤنڈ میں جرمنی کے ڈومینک کوئفر سے شکست کھا گئے۔

راؤنک نے کہا کہ 8برس کی عمر میں محض اتفاقاً ٹینس سے متعارف ہونا ان کی پوری زندگی کا رخ بدل گیا۔یہ کھیل پہلے میرا بچپن اور جنون بنا، پھر میرا پیشہ اور پوری زندگی مجھے اس سفر پر فخر ہے۔میلوس راؤنک کی پیدائش سابق یوگوسلاویہ کے شہر ٹائٹوگراڈ (موجودہ پوڈگوریتسا، مونٹی نیگرو) میں ہوئی، جبکہ وہ تین سال کی عمر میں کینیڈا منتقل ہو گئے تھے۔ انہوں نے 2011 میں پیسیفک کوسٹ چیمپئن شپ جیت کر اپنا پہلا اے ٹی پی ٹائٹل حاصل کیا۔میلوس راؤنک کا کیریئر جدید ٹینس میں طاقت، نظم و ضبط اور پیشہ ورانہ وابستگی کی علامت کے طور پر یاد رکھا جائے گا۔

مزید خبریں