واشنگٹن۔13جنوری (اے پی پی):امریکی صدر نے ایران کے ساتھ کاروبار کرنے والے مُمالک پر 25 فیصد اضافی ٹیکس عائد کرنے کا اعلان کردیا، وائٹ ہائوس کی طرف کہا گیا ہے کہ صدر ڈونلڈ ٹرمپ ایران کے خلاف فوجی کارروائی پر غور کر رہے ہیں ۔ بی بی سی کے مطابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اعلان کیا کہ ایران سے تجارتی تعلق رکھنے والے ممالک سے آنے والی اشیا پر …
امریکی صدر کا ایران کے ساتھ کاروبار کرنے والے مُمالک پر 25 فیصد اضافی ٹیکس عائد کرنے کا اعلان ، فوجی کارروائی پر غور

مزید خبریں
واشنگٹن۔13جنوری (اے پی پی):امریکی صدر نے ایران کے ساتھ کاروبار کرنے والے مُمالک پر 25 فیصد اضافی ٹیکس عائد کرنے کا اعلان کردیا، وائٹ ہائوس کی طرف کہا گیا ہے کہ صدر ڈونلڈ ٹرمپ ایران کے خلاف فوجی کارروائی پر غور کر رہے ہیں ۔ بی بی سی کے مطابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اعلان کیا کہ ایران سے تجارتی تعلق رکھنے والے ممالک سے آنے والی اشیا پر 25 فیصد ٹیرف کا نفاذ ایرانی حکومت پر دباؤ بڑھانے کے لیے کیا گیا ہے جہاں حکومت مخالف مظاہرے تیسرے ہفتے میں داخل ہو چکے ہیں۔امریکی صدر نے سوشل میڈیا پر کہا کہ یہ ٹیرف فوری طور پر نافذ العمل ہے تاہم انھوں نے یہ وضاحت نہیں کی کہ ایران کے ساتھ کاروبار کرنے کی تعریف کیا ہوگی یا کس نوعیت کا کاروبار کرنے والوں پر یہ محصولات عائد کیے گئے ہیں۔
دوسری جانب امریکی وزارت دفاع کے حکام نے بتایا ہے کہ صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو ایران کے خلاف وسیع پیمانے پر فوجی آپشنز اور خفیہ کارروائیوں کے منصوبے پیش کیے گئے ہیں جو روایتی فضائی حملوں سے کہیں آگے ہیں اور ان منصوبوں پر قومی سلامتی کمیٹی کے اجلاس میں غور کیا جائے گا۔رپورٹ کے مطابق تاحال یہ واضح نہیں کہ صدر ٹرمپ خود اس اجلاس میں شریک ہوں گے یا نہیں تاہم انھوں نے بارہا کہا ہے کہ اگر ایران میں مظاہرین کا قتل عام ہوا تو امریکی حکومت اس کے خلاف سخت کارروائی کر سکتی ہے۔ وائٹ ہاؤس کی ترجمان کیرولین لیوٹ نے کہا ہے کہ صدر ڈونلڈ ٹرمپ ایران میں جاری مظاہروں کے خلاف ممکنہ اقدامات پر غور کر رہے ہیں۔
ترجمان کے مطابق صدر ہمیشہ تمام آپشنز پر غور کرتے ہیں اور فضائی حملہ بھی ان میں شامل ہے۔ انہوں نے صحافیوں کو بتایا کہ سفارت کاری صدر کا پہلا آپشن ہے، انھوں نے کل رات بھی یہی کہا تھا۔ ان کا کہنا تھا کہ ایرانی حکومت کی جانب سے عوامی سطح پر جو بیانات دیے جا رہے ہیں وہ ان پیغامات سے مختلف ہیں جو ہمیں نجی طور پر موصول ہو رہے ہیں اور صدر ان پیغامات پر غور کرنے کے لیے تیار ہیں۔ ترجمان نے کہا کہ صدر نے بارہا ثابت کیا ہے کہ جب بھی وہ ضروری سمجھیں تو فوجی آپشن استعمال کرنے سے نہیں گھبراتے اور ایران اس حقیقت کو سب سے بہتر جانتا ہے۔واضح رہے کہ ایران کے سب سے بڑے تجارتی شراکت داروں میں چین، عراق، متحدہ عرب امارات، ترکی اور بھارت بھی شامل ہیں۔
یہ نیا ٹیرف اس وقت سامنے آیا ہے جب صدر ٹرمپ نے ایران کو خبردار کرتے ہوئے کہا تھا کہ مظاہرین کو قتل کیا گیا تو وہ ایران کارروائی کر سکتے ہیں۔امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ٹروتھ سوشل پر اعلان کیا کہ اسلامی جمہوریہ ایران کے ساتھ کاروبار کرنے والے ہر ملک کو امریکا کے ساتھ ہونے والے تمام تجارتی لین دین پر 25 فیصد ٹیرف ادا کرنا ہوگاتاہم وائٹ ہاؤس نے اس فیصلے کے بارے میں مزید تفصیلات فراہم نہیں کیں جن میں یہ وضاحت شامل ہو کہ کن ممالک کی درآمدات سب سے زیادہ متاثر ہوں گی۔








