امریکی سفری پابندیاں،سینیگال اور آئیوری کوسٹ کے شائقین کو فٹ بال ورلڈ کپ سے دور کردیا گیا

رباط/واشنگٹن۔14جنوری (اے پی پی):امریکی سفری پابندی نے افریقہ کی دو بڑی فٹبال طاقتوں، سینیگال اور آئیوری کوسٹ، کے شائقین کو شدید غیر یقینی صورتحال میں مبتلا کر دیا ہے، جو آئندہ فٹبال ورلڈ کپ کے لیے امریکہ کا سفر کرنا چاہتے تھے۔ای ایس پی این کے مطابق دسمبر میں سینیگال اور آئیوری کوسٹ کو ان ممالک کی فہرست میں شامل کیا گیا جن پر امریکہ میں داخلے کے لیے جزوی …

رباط/واشنگٹن۔14جنوری (اے پی پی):امریکی سفری پابندی نے افریقہ کی دو بڑی فٹبال طاقتوں، سینیگال اور آئیوری کوسٹ، کے شائقین کو شدید غیر یقینی صورتحال میں مبتلا کر دیا ہے، جو آئندہ فٹبال ورلڈ کپ کے لیے امریکہ کا سفر کرنا چاہتے تھے۔ای ایس پی این کے مطابق دسمبر میں سینیگال اور آئیوری کوسٹ کو ان ممالک کی فہرست میں شامل کیا گیا جن پر امریکہ میں داخلے کے لیے جزوی پابندیاں عائد ہیں۔ امریکہ، کینیڈا اور میکسیکو کے ساتھ مل کر 11 جون سے 19 جولائی تک فیفا ورلڈ کپ کی میزبانی کر رہا ہے، تاہم ان پابندیوں کے باعث وہ شائقین جو پہلے سے امریکی ویزا نہیں رکھتے، میچز دیکھنے کے لیے امریکہ نہیں جا سکیں گے۔

مراکش میں جاری افریقہ کپ آف نیشنز کے دوران سینیگال اور آئیوری کوسٹ کے شائقین نے اس فیصلے پر شدید مایوسی کا اظہار کیا۔ سینیگال کے ایک حامی جبریل گیے نے کہا کہ اگر کچھ ممالک کے شائقین کو روکنا ہے تو پھر امریکہ کو فیفا ورلڈ کپ کی میزبانی قبول ہی نہیں کرنی چاہیے۔ ان کے مطابق میزبان ملک کی ذمہ داری ہوتی ہے کہ تمام کوالیفائیڈ ٹیموں اور ان کے مداحوں کے لیے مناسب سہولیات فراہم کرے۔صدر ٹرمپ نے اس پابندی کی وجہ ’سکیورٹی سکریننگ اور جانچ پڑتال میں خامیوں کو قرار دیا ہے۔ اس پابندی کی زد میں ایران اور ہیٹی بھی آتے ہیں، جو پہلے ہی ورلڈ کپ کے لیے کوالیفائی کر چکے ہیں۔ اگرچہ کھلاڑیوں، ٹیم آفیشلز اور ان کے قریبی اہلِ خانہ کو استثنا دیا گیا ہے، مگر عام شائقین کے لیے کوئی نرمی نہیں رکھی گئی۔

سینیگال کی خواتین شائقین کی تنظیم کی صدر فاتو دیدھیو نے کہا کہ وہ فٹ بال ورلڈ کپ میں شرکت کی خواہش رکھتی ہیں مگر انہیں سمجھ نہیں آ رہا کہ یہ کیسے ممکن ہوگا۔ ان کے مطابق اب شائقین صرف انتظار کر سکتے ہیں کہ شاید وقت کے ساتھ فیصلے میں تبدیلی آ جائے۔ادھر آئیوری کوسٹ کے کوچ ایمیرسے فائے نے امید ظاہر کی ہے کہ بالآخر شائقین کے لیے کوئی حل نکالا جائے گا۔ انہوں نے یاد دلایا کہ افریقہ کپ کے دوران مراکش کے ویزا قوانین بھی ابتدا میں مسئلہ بنے تھے، مگر بعد میں ٹکٹ رکھنے والے شائقین کو داخلے کی اجازت مل گئی تھی۔

فائے نے کہا کہ ورلڈ کپ ایک جشن ہوتا ہے اور ہر چار سال بعد آتا ہے، ایسے میں شائقین کو اس جشن سے محروم رکھنا افسوسناک ہوگا۔سینیگال اور آئیوری کوسٹ کو خدشہ ہے کہ امریکہ میں ہونے والے اپنے میچز وہ محدود حمایت کے ساتھ کھیلیں گے، جہاں صرف وہی شائقین موجود ہوں گے جو پہلے سے امریکی رہائشی ہیں، ویزا رکھتے ہیں یا دوہری شہریت کے حامل ہیں۔آئیوری کوسٹ کے ونگر یان دیوماندے نے کہا کہ کھلاڑی اس معاملے میں کچھ نہیں کر سکتے اور ان کی توجہ صرف میدان میں کارکردگی پر ہے۔ کپتان فرانک کیسیے نے بھی اس بات سے اتفاق کرتے ہوئے کہا کہ یہ مسئلہ سیاست دانوں کو حل کرنا ہوگا۔

سفری پابندی کے علاوہ، مہنگے ٹکٹ بھی شائقین کے لیے ایک بڑی رکاوٹ بنے ہوئے ہیں۔ کچھ شائقین کا کہنا ہے کہ پابندی نہ بھی ہوتی تو بھی ورلڈ کپ کے اخراجات بہت زیادہ ہیں، جس کے باعث افریقی مداحوں کی بڑی تعداد امریکہ کا سفر کرنے سے قاصر رہتی۔مجموعی طور پر، امریکی سفری پابندی نے ورلڈ کپ کی ’’عالمی‘‘ روح پر سوالات کھڑے کر دئیے ہیں، جہاں کھیل کو قوموں اور عوام کو جوڑنے کا ذریعہ سمجھا جاتا ہے، مگر موجودہ حالات میں ہزاروں شائقین اس تاریخی ایونٹ سے محروم رہنے کے خدشے سے دوچار ہیں۔

 

مزید خبریں
چیئرمین سینیٹ سے پاکستانی پروفیشنل ریسلر اَطر زاہد کی ملاقات اسلام آباد۔1اگست (اے پی پی):چیئرمین سینیٹ سید یوسف رضا گیلانی سے بین الاقوامی شہرت یافتہ پاکستانی پروفیشنل ریسلر اَطر زاہد نے ملاقات کی۔ اَطر زاہد سعودی عرب میں پیدا ہونے والے پہلے پاکستانی پروفیشنل ریسلر ہیں جنہوں نے بین الاقوامی سطح پر پاکستان کی نمائندگی کا اعزاز حاصل کیا۔سینیٹ سیکرٹریٹ کے مطابق چیئرمین سینیٹ نے اَطر زاہد کو ان کی شاندار کامیابیوں پر مبارکباد دیتے ہوئے مستقبل کے لیے نیک تمناؤں کا اظہار کیا۔ انہوں نے کہا کہ اَطر زاہد نے اپنی محنت، صلاحیت اور بین الاقوامی مقابلوں میں نمایاں کارکردگی کے ذریعے پاکستان کا نام روشن کیا ہے، جو قابلِ ستائش ہے۔سید یوسف رضا گیلانی نے کہا کہ کھیل امن، دوستی اور بین الاقوامی ہم آہنگی کے فروغ کا مؤثر ذریعہ ہیں، جبکہ کھلاڑی اپنی صلاحیتوں اور کامیابیوں کے ذریعے دنیا بھر میں اپنے ملک کے بہترین سفیر ثابت ہوتے ہیں۔چیئرمین سینیٹ نے اس بات پر زور دیا کہ کھیل جسمانی صحت، ذہنی نشوونما، نظم و ضبط اور ثابت قدمی کے فروغ میں اہم کردار ادا کرتے ہیں۔ انہوں نے نوجوان ٹیلنٹ کی حوصلہ افزائی، کھیلوں کے بنیادی ڈھانچے کی مضبوطی اور پاکستانی کھلاڑیوں کو قومی و بین الاقوامی سطح پر بہتر مواقع فراہم کرنے کے لیے مشترکہ اور مربوط کوششوں کی ضرورت پر زور دیا۔