نوویک جوکووچ کے لئے کیریئر کا 25واں گرینڈ سلام جیتنا اب آسان نہیں ہو گا،پیٹ کیش

میلبورن۔14جنوری (اے پی پی):آسٹریلوی ٹینس لیجنڈ پیٹ کیش نے کہا ہے کہ سربین عالمی شہرت یافتہ ٹینس سٹار نوویک جوکووچ کے لئے ایک اور گرینڈ سلام ٹائٹل جیتنا اب پہلے جتنا آسان نہیں رہا، اور اس کی بنیادی وجہ نوجوان حریفوں کی بڑھتی ہوئی طاقت اور عمر کے تقاضے ہیں۔22ویں اے ٹی پی سیزن میں داخل ہونے والے سربین سٹار نوویک جوکووچ میلبورن پارک میں ریکارڈ 25واں گرینڈ سلام جیتنے …

میلبورن۔14جنوری (اے پی پی):آسٹریلوی ٹینس لیجنڈ پیٹ کیش نے کہا ہے کہ سربین عالمی شہرت یافتہ ٹینس سٹار نوویک جوکووچ کے لئے ایک اور گرینڈ سلام ٹائٹل جیتنا اب پہلے جتنا آسان نہیں رہا، اور اس کی بنیادی وجہ نوجوان حریفوں کی بڑھتی ہوئی طاقت اور عمر کے تقاضے ہیں۔22ویں اے ٹی پی سیزن میں داخل ہونے والے سربین سٹار نوویک جوکووچ میلبورن پارک میں ریکارڈ 25واں گرینڈ سلام جیتنے کی خواہش کے ساتھ اترنے جا رہے ہیں۔ اگرچہ وہ اب محدود شیڈول کے ساتھ کھیل رہے ہیں، مگر عالمی درجہ بندی میں چوتھے نمبر پر موجود نوویک جوکووچ اب بھی بڑے مقابلوں کے مضبوط دعوے دار سمجھے جاتے ہیں۔تاہم 1987 کے ومبلڈن چیمپئن پیٹ کیش کا کہنا ہے کہ اٹلی کے جینک سِنر اور سپین کے کارلوس الکاراز جیسے نوجوان ٹینس سٹارز نوویک جوکووچ کے لئے سب سے بڑی رکاوٹ بن سکتے ہیں۔

پیٹ کیش کے مطابق نوویک جوکووچ کو اب کامیابی کے لیے صرف اپنی مہارت نہیں بلکہ حریفوں کی لغزش کا بھی انتظار کرنا پڑتا ہے۔ٹینس365 سے گفتگو کرتے ہوئے پیٹ کیش نے کہا کہ حقیقت یہ ہے کہ نوویک جوکووچ کو اب کچھ حریفوں کے ہارنے کی بھی ضرورت ہے۔ کیریئر کے آخری مرحلے میں سب سے مشکل کام ٹریننگ اور ریکوری کے درمیان درست توازن قائم رکھنا ہوتا ہے۔انہوں نے مزید کہا کہ نوجوان کھلاڑی طویل پانچ سیٹ کے میچز کے بعد تیزی سے ریکور کر لیتے ہیں، جبکہ عمر بڑھنے کے ساتھ یہ صلاحیت کم ہوتی جاتی ہے۔ پیٹ کیش نے کہا کہ مسلسل دو یا تین سخت پانچ سیٹ مقابلے جیتنا نوویک جوکووچ کے لیے اب ایک بڑا چیلنج بن چکا ہے۔

پیٹ کیش کا خیال ہے کہ 2026 میں نوویک جوکووچ کے لیے سب سے بڑی حقیقت پسندانہ کامیابی یہ ہو سکتی ہے کہ وہ چاروں گرینڈ سلام ٹورنامنٹس کے سیمی فائنلز تک رسائی حاصل کریں، جیسا کہ انہوں نے 2025 میں کیا تھا۔ان کا کہنا تھا کہ مجھے نہیں لگتا کہ وہ الکاراز اور جینک سِنر کو لگاتار پانچ سیٹ کے میچز میں شکست دے سکتے ہیں۔ یہی وہ مسئلہ ہے جو انہیں بار بار درپیش آتا ہے۔دوسری جانبنوویک جوکووچ کی آسٹریلین اوپن میں شاندار تاریخ انہیں اعتماد فراہم کرتی ہے۔

وہ میلبورن میں اب تک 10 گرینڈ سلام ٹائٹلز جیت چکے ہیں، جن میں 2019 سے 2023 کے دوران چار فتوحات شامل ہیں۔ 2024 اور 2025 میں وہ سیمی فائنل تک پہنچے، جس سے یہ امید اب بھی باقی ہے کہ وہ ایک بار پھر ٹائٹل کے قریب جا سکتے ہیں۔آسٹریلین اوپن کے ڈرا کا اعلان 15 جنوری کو ہوگا، جس کے بعد یہ واضح ہو جائے گا کہ نوویک جوکووچ کا سفر کن حریفوں سے شروع ہوگا۔ ٹینس کی دنیا کی نظریں ایک بار پھر اس بات پر مرکوز ہیں کہ کیا تجربہ، تاریخ اور عزم نوجوان طاقت پر ایک بار پھر غالب آ سکتا ہے یا نہیں۔

 

مزید خبریں