پی سی بی نے آسٹریلیا کے دورہ پاکستان کی تصدیق کر دی

لاہور۔14جنوری (اے پی پی):پاکستان کرکٹ بورڈ(پی سی بی )نے جنوری 2026 میں آسٹریلیا کے دورہ پاکستان کی تصدیق کر دی ہے، جس کے تحت دونوں ٹیموں کے درمیان 03 ٹی ٹونٹی میچز کی سیریز قذافی سٹیڈیم لاہور میں ہو گی ۔آسٹریلوی ٹی 20 سکواڈ بدھ28 جنوری کو لاہور پہنچے گا۔ یہ سیریز آئندہ ماہ ہونے والے آئی سی سی مینز ٹی ٹونٹی ورلڈ کپ2026 سے قبل دونوں ٹیموں کے لیے …

لاہور۔14جنوری (اے پی پی):پاکستان کرکٹ بورڈ(پی سی بی )نے جنوری 2026 میں آسٹریلیا کے دورہ پاکستان کی تصدیق کر دی ہے، جس کے تحت دونوں ٹیموں کے درمیان 03 ٹی ٹونٹی میچز کی سیریز قذافی سٹیڈیم لاہور میں ہو گی ۔آسٹریلوی ٹی 20 سکواڈ بدھ28 جنوری کو لاہور پہنچے گا۔ یہ سیریز آئندہ ماہ ہونے والے آئی سی سی مینز ٹی ٹونٹی ورلڈ کپ2026 سے قبل دونوں ٹیموں کے لیے انتہائی اہم قرار دی جا رہی ہے۔

یاد رہے کہ آئی سی سی چیمپئنز ٹرافی2025 کے تین میچز بھی پاکستان میں کھیلے گئے۔ پی سی بی کے چیف آپریٹنگ آفیسر سید سمیر احمدکے مطابق یہ سیریز پاکستانی شائقینِ کرکٹ کے لیے سال کا شاندار آغاز ثابت ہوگی۔ شیڈول کے مطابق پہلا ٹی 20 میچ جمعرات29 جنوری، دوسرا ہفتہ31 جنوری اور تیسرا اتوار یکم فروری کو کھیلا جائے گا۔

مزید خبریں
چیئرمین سینیٹ سے پاکستانی پروفیشنل ریسلر اَطر زاہد کی ملاقات اسلام آباد۔1اگست (اے پی پی):چیئرمین سینیٹ سید یوسف رضا گیلانی سے بین الاقوامی شہرت یافتہ پاکستانی پروفیشنل ریسلر اَطر زاہد نے ملاقات کی۔ اَطر زاہد سعودی عرب میں پیدا ہونے والے پہلے پاکستانی پروفیشنل ریسلر ہیں جنہوں نے بین الاقوامی سطح پر پاکستان کی نمائندگی کا اعزاز حاصل کیا۔سینیٹ سیکرٹریٹ کے مطابق چیئرمین سینیٹ نے اَطر زاہد کو ان کی شاندار کامیابیوں پر مبارکباد دیتے ہوئے مستقبل کے لیے نیک تمناؤں کا اظہار کیا۔ انہوں نے کہا کہ اَطر زاہد نے اپنی محنت، صلاحیت اور بین الاقوامی مقابلوں میں نمایاں کارکردگی کے ذریعے پاکستان کا نام روشن کیا ہے، جو قابلِ ستائش ہے۔سید یوسف رضا گیلانی نے کہا کہ کھیل امن، دوستی اور بین الاقوامی ہم آہنگی کے فروغ کا مؤثر ذریعہ ہیں، جبکہ کھلاڑی اپنی صلاحیتوں اور کامیابیوں کے ذریعے دنیا بھر میں اپنے ملک کے بہترین سفیر ثابت ہوتے ہیں۔چیئرمین سینیٹ نے اس بات پر زور دیا کہ کھیل جسمانی صحت، ذہنی نشوونما، نظم و ضبط اور ثابت قدمی کے فروغ میں اہم کردار ادا کرتے ہیں۔ انہوں نے نوجوان ٹیلنٹ کی حوصلہ افزائی، کھیلوں کے بنیادی ڈھانچے کی مضبوطی اور پاکستانی کھلاڑیوں کو قومی و بین الاقوامی سطح پر بہتر مواقع فراہم کرنے کے لیے مشترکہ اور مربوط کوششوں کی ضرورت پر زور دیا۔