جرمن سفیر اینا لیپل کا اسلام آبادچیمبرکادورہ، دوطرفہ اقتصادی تعاون کے فروغ کا عزم

اسلام آباد۔14جنوری (اے پی پی):پاکستان میں وفاقی جمہوریہ جرمنی کی سفیر اینا لیپل نے سیاسی و اقتصادی امور اور موسمیاتی تبدیلی کی کونسلر جینین روہور کے ہمراہ اسلام آباد چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری کا دورہ کیا اور اسلام آباد کی تاجر برادری کے ساتھ ایک انٹرایکٹو سیشن کا انعقاد کیاجس میں پاکستان کے ساتھ دوطرفہ اقتصادی تعلقات کو مزید مضبوط بنانے کے لئے جرمنی کے پختہ عزم کا اعادہ …

اسلام آباد۔14جنوری (اے پی پی):پاکستان میں وفاقی جمہوریہ جرمنی کی سفیر اینا لیپل نے سیاسی و اقتصادی امور اور موسمیاتی تبدیلی کی کونسلر جینین روہور کے ہمراہ اسلام آباد چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری کا دورہ کیا اور اسلام آباد کی تاجر برادری کے ساتھ ایک انٹرایکٹو سیشن کا انعقاد کیاجس میں پاکستان کے ساتھ دوطرفہ اقتصادی تعلقات کو مزید مضبوط بنانے کے لئے جرمنی کے پختہ عزم کا اعادہ کیا۔بدھ کو اسلام آباد چیمبر آف کامرس کی جانب سے جاری بیان کے مطابق اجتماع سے خطاب کرتے ہوئے سفیر اینا لیپل نے موسمیاتی تبدیلی، صحت اور سماجی تحفظ، نجی شعبے کی ترقی اور پیشہ وارانہ اور فنی تعلیم کے اداروں کی اپ گریڈیشن سمیت اہم شعبوں میں پاکستان کے ساتھ تعاون بڑھانے کے لئے جرمنی کے عزم کا اعادہ کیا۔

انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ یہ مشترکہ کوششیں پائیدار اقتصادی ترقی اور دونوں ممالک کے درمیان گہرے اقتصادی تعلقات میں اہم کردار ادا کریں گی۔جرمن سفیر نے کہا کہ پاکستان اور جرمنی کے درمیان تعاون کے وسیع امکانات موجود ہیں۔انہوں نے پاکستان کی کاروباری برادری کے ساتھ قریبی رابطہ کاری میں تعاون کی نئی راہیں تلاش کرنے میں گہری دلچسپی کا اظہار کیا۔ نجی شعبے کے اہم کردار پر روشنی ڈالتے ہوئے انہوں نے زور دیا کہ دونوں ممالک کے کاروبار تجارت اور سرمایہ کاری کے تعلقات کو وسعت دینے میں اہم کردار ادا کر سکتے ہیں۔

انہوں نے کاروباری برادری کو جرمن سفارتخانہ کے مکمل تعاون کا یقین دلایا۔جرمن سفیر نے تجارتی میلوں اور نمائشوں کی اہمیت کو بھی تسلیم کیا جو قوموں کے درمیان تجارت، سرمایہ کاری اور باہمی افہام و تفہیم کو فروغ دینے کے لئے موثر ہتھیار ہیں۔

انہوں نے آئی سی سی آئی کے فعال اقدامات کو سراہا خاص طور پر خواتین کی زیر قیادت کاروباری اداروں کی حمایت اور پائیدار اور جامع اقتصادی ترقی کو فروغ دینے کے لئے اس کی کوششوں کو سراہا۔ قبل ازیں اپنے خطبہ استقبالیہ میں صدر اسلام آباد چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری سردار طاہر محمود نے اس بات پر روشنی ڈالی کہ پاکستان اور جرمنی کے تعلقات کی جڑیں باہمی احترام اور سفارتی، اقتصادی اور ثقافتی شعبوں میں دیرینہ تعاون پر مبنی ہیں۔

انہوں نے کہا کہ جرمنی یورپی یونین کی سب سے بڑی معیشتوں میں سے ایک ہے اور پاکستان کا کلیدی اقتصادی شراکت دار ہے خاص طور پر مشینری، انجینئرنگ، آٹوموٹو اور کیمیکل جیسے شعبوں میں۔ انہوں نے مزید نشاندہی کی کہ پاکستان کی جرمنی کو برآمدات خصوصاً ٹیکسٹائل، چمڑے کا سامان، کھیلوں کا سامان، جوتے اور طبی آلات دونوں منڈیوں کے درمیان مضبوط تکمیلات کی عکاسی کرتے ہیں۔آئی سی سی آئی کے صدر نے مزید کہا کہ چیمبر ایک متحرک اور متنوع کاروباری برادری کی نمائندگی کرتا ہے جس میں ایس ایم ایز، ایکسپورٹرز، اسٹارٹ اپس اور صنعتی سٹیک ہولڈرز شامل ہیں۔

انہوں نے پختہ یقین کا اظہار کیا کہ جرمن اور پاکستانی کاروباری اداروں کے درمیان مصروفیات تجارت میں توسیع، ٹیکنالوجی کی منتقلی اور سرمایہ کاری کے تعاون کے نئے مواقع کھول سکتی ہیں ۔ آئی سی سی آئی کے عزم کا اعادہ کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ چیمبر جرمن سرمایہ کاروں اور پاکستانی اداروں کے درمیان بامعنی اور باہمی طور پر فائدہ مند تعاون کو آسان بنانے کے لئے ایک پل کے طور پر کام کرنے کے لئے پرعزم ہے۔اس موقع پر خطاب کرتے ہوئے آئی سی سی آئی کمیٹی برائے سفارتی امور کے چیئرمین ظفر بختاوری نے سفیر کو دوطرفہ تجارت اور سرمایہ کاری کے فروغ میں جرمن سفارتخانے کو مکمل تعاون کی یقین دہانی کرائی۔

انہوں نے پاکستان اور جرمنی کے درمیان براہ راست پروازوں کی ضرورت پر زور دیا تاکہ عوام سے عوام اور کاروباری روابط میں اضافہ ہو سکے۔ انہوں نے آئی سی سی آئی کے آڈیٹوریم میں پاکستان اور جرمنی کے کثیرالجہتی تعلقات پر ایک عظیم الشان اجلاس بلانے کی تجویز بھی دی۔آئی سی سی آئی کے سابق صدر میاں اکرم فرید نے پاکستان کے جی ایس پی پلس سٹیٹس میں یورپی یونین کے اندر مستقل طور پر اس کی وکالت کرنے، اصلاحات سے منسلک ترقیاتی امداد فراہم کرنے اور مضبوط دوطرفہ تعلقات پر جرمنی کی تعریف کی۔

آئی سی سی آئی کے سینئر نائب صدر طاہر ایوب اور نائب صدر عرفان چوہدری نے اپنے کلمات میں دونوں ممالک کے چیمبرز آف کامرس کے درمیان ادارہ جاتی تعاون کی ضرورت پر زور دیا۔ انہوں نے مشترکہ منصوبوں، ٹیکنالوجی کے اشتراک اور ایس ایم ایز کے تعاون پر روشنی ڈالی اور اس بات پر زور دیا کہ جرمن کاروباری اداروں کے ساتھ مضبوط روابط پاکستانی اداروں کو عالمی ویلیو چینز میں ضم ہونے میں مدد فراہم کریں گے۔

آئی سی سی آئی کی فارن ڈیلیگیشن کمیٹی کے چیئرمین عمران منہاس نے تجارتی تعلقات کو مزید مضبوط بنانے کے لئے دونوں ممالک کے درمیان تجارتی وفود کے تبادلے میں اضافے کی ضرورت پر زور دیا۔ آئی سی سی آئی کی ایگزیکٹو ممبر فاطمہ عظیم نے دو طرفہ تجارت اور اقتصادی تعاون میں زیادہ کردار ادا کرنے کے لیے خواتین کاروباریوں کی حوصلہ افزائی اور انہیں بااختیار بنانے کے لئے اپنے وژن کا اظہار کیا۔

اجلاس کے نمایاں شرکاء میں کونسل ممبر چوہدری وحید الدین، ایگزیکٹو ممبران ملک محسن خالد، عبدالرحمن صدیقی، چوہدری ندیم احمد، اسحاق سیال، ذوالقرنین عباسی؛ سابق نائب صدر اشفاق چٹھہ سمیت کاروباری برادری کے اراکین نے بڑی تعداد میں شرکت کی۔