اسلام آباد۔14جنوری (اے پی پی):پاکستان ایٹمی طاقت ہے اور اسے دنیا کی20 بڑی معیشتوں (جی۔20) میں شامل کرنا ہدف ہے، حکومت کی توجہ قرضوں میں کمی، توانائی کے شعبے میں مالی استحکام اور سرکاری اداروں کی رائٹ سائزنگ پر ہے۔ ان خیالات کا اظہار پاکستان پالیسی ڈائیلاگ سے وفاقی وزیر خزانہ محمد اورنگزیب، وفاقی وزیر منصوبہ بندی احسن اقبال، وفاقی وزیرموسمیاتی تبدیلی مصدق ملک، وفاقی وزیر نجکاری محمدعلی، وفاقی سیکرٹری …
سرمایہ کاری کیلئے اصلاحات ناگزیر، ڈیوٹیز اور کاروباری لاگت میں بھی کمی کرنا ہو گی،پاکستان پالیسی ڈائیلاگ سے وفاقی وزراء محمد اورنگزیب ، احسن اقبال، مصدق ملک، محمدعلی و دیگر کا خطاب
اسلام آباد۔14جنوری (اے پی پی):پاکستان ایٹمی طاقت ہے اور اسے دنیا کی20 بڑی معیشتوں (جی۔20) میں شامل کرنا ہدف ہے، حکومت کی توجہ قرضوں میں کمی، توانائی کے شعبے میں مالی استحکام اور سرکاری اداروں کی رائٹ سائزنگ پر ہے۔ ان خیالات کا اظہار پاکستان پالیسی ڈائیلاگ سے وفاقی وزیر خزانہ محمد اورنگزیب، وفاقی وزیر منصوبہ بندی احسن اقبال، وفاقی وزیرموسمیاتی تبدیلی مصدق ملک، وفاقی وزیر نجکاری محمدعلی، وفاقی سیکرٹری تجارت یونس ڈھاگا و دیگر نے خطاب کرتے ہوئے کیا۔
پالیسی ریسرچ اینڈ ایڈوائزری کونسل (پی آر اے سی) اور کارپوریٹ پاکستان گروپ کے تعاون سے اسلام آباد میں منعقدہ پاکستان پالیسی ڈائیلاگ منعقد کیا گیا۔ "Correcting Course: Pakistan’s Economic Reset”کے عنوان سے منعقدہ ایونٹ کے لیے بانی شراکت دار وزارت تجارت اور ٹریڈ ڈویلپمنٹ اتھارٹی آف پاکستان (ٹڈاپ) کو بینک الفلاح، بینک اسلامی اور نٹ شیل گروپ کا تعاون حاصل تھا۔وفاقی وزیر برائے خزانہ و محصولات سینیٹر محمد اورنگزیب نے کہا کہ پائیدار معاشی ترقی کے لیے بنیادی ڈھانچے میں اصلاحات، موثر ٹیکس پالیسی اور شفاف نظام ناگزیر ہیں، اداروں کی بندش کا مقصد سبسڈیز میں موجود کرپشن کا خاتمہ ہے، سرکاری اداروں میں ہر سال ایک ہزار ارب روپے کا نقصان ہورہا ہے۔
انہوں نے کہا کہ جتنی ڈیوٹیز بڑھائی جاتی ہیں ،وہ معیشت کے لیے نقصان دہ ثابت ہوتی ہیں، اس لیے ڈیوٹیز کو معقول بنانا اور کاروباری لاگت کم کرنا ضروری ہے، قرضوں پر سود کی ادائیگی حکومت کا سب سے بڑا خرچہ ہے تاہم گزشتہ سال قرضوں پر سود کی مد میں 850 ارب روپے کی بچت کی گئی، رواں برس جون تک تمام حکومتی ادائیگیاں ڈیجیٹل چینلز پر منتقل ہو جائیں گی، غیربینکنگ افراد کو باقاعدہ مالیاتی نظام میں شامل کیا جا رہا ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ 78 سال میں پہلی بار ٹیرف اصلاحات کے ذریعے خام مال پر ڈیوٹیز کم کی جا رہی ہیں، ٹیرف میں کمی سے پاکستان کی برآمدات اور صنعتی پیداوار میں اضافہ ہوگا، صنعتوں کو دی جانے والی طویل المدتی مراعات ختم کرکے انہیں عالمی مارکیٹ کے قابل بنایا جائے گا، حکومتی اصلاحات کا مقصد ملکی خزانے پر بوجھ کم کرنا اور معیشت کو مستحکم کرنا ہے،
برآمدات پر مبنی معیشت کی طرف جانے کے لیے ٹیرف کا ازسرنو تعین کرنا ناگزیر ہے، حکومت آئندہ 2 ہفتوں میں پانڈا بانڈز لانچ کرے گی۔وفاقی وزیر خزانہ نے کہا کہ آئی ایم ایف پروگرام کے تحت 18 ماہ میں 350 ارب ڈالرز کی سرمایہ کاری کی جبکہ اس عرصے میں 28 بین الاقوامی کمپنیوں نے پاکستان میں انویسٹمنٹ کی ہے،قرضوں کی ادائیگی میں خودبخود کمی نہیں آئی بلکہ اس کے لیے اقدامات کیے گئے ہیں، کرنٹ اکائونٹ خسارہ ہدف کے اندر ہے، اگرچہ تجارتی خسارہ بڑھا ہے تاہم خدمات کے شعبے میں تیز رفتار ترقی دیکھنے میں آئی، ترسیلات زر اب معیشت کا مستقل اور پائیدار حصہ بن چکی ہیں، گزشتہ مالی سال ترسیلات زر 38 ارب ڈالرز تھیں جبکہ رواں مالی سال کے دوران ترسیلات 41 ارب ڈالرز سے بڑھ جائیں گی،
نئی برآمداتی سکیم کے تحت 2.8 ارب ڈالرز کی اضافی برآمدات متوقع ہیں جو پاکستان کی مجموعی برآمدات کا تقریباً 10 فیصد بنتی ہیں۔ ریکوڈک منصوبہ پاکستان کے لیے سودمند ہے، ریکوڈک کی برآمدات 2028 میں شروع ہوں گی۔ پاکستان پر سرمایہ کاروں کا اعتماد بڑھ رہا ہے، او آئی سی سی آئی کے مطابق 73 فیصد سرمایہ کار پرامید ہیں، پاکستان میں سرمایہ کاری کے فروغ کے لیے ضروری ہے کہ ملک کے مثبت پہلوؤں کو اجاگر کیا جائے۔ ایس آئی ایف سی کی معاونت سے ٹیلی نار کا 400 ملین ڈالر کا لین دین مکمل ہوا جو حکومتی قرض نہیں بلکہ نجی شعبے کے لیے حقیقی مالی معاونت ہے۔ ٹیکس پالیسی کا اختیار ایف بی آر سے لے کر فنانس ڈویژن کو دے دیا گیا ہے۔
ایف بی آر اب صرف ٹیکس وصولیوں پر توجہ دے گا۔ وفاقی وزیر برائے منصوبہ بندی، ترقی و اصلاحات پروفیسر احسن اقبال نے کہا کہ پاکستان نے 1947ء سے 2025ء تک متعدد اہم کامیابیاں حاصل کی ہیں تاہم عالمی موازنہ کیا جائے تو ہمیں اب بھی طویل سفر طے کرنا ہے۔ پاکستان ایک ایٹمی طاقت ہے اور جے ایف17 تھنڈر طیارے دنیا کے مختلف ممالک کو برآمد کر رہا ہے جو قومی صلاحیتوں کا واضح ثبوت ہے۔ پاکستان نے ٹریکٹر سازی، آٹوموبیل اور انجینئرنگ سمیت تقریباً ہر شعبے میں نمایاں ترقی کی ہے اور کئی کامیابیاں ایسی ہیں، مگر جب ہمارا موازنہ دیگر ترقی پذیر اور ترقی یافتہ ممالک سے کیا جاتا ہے تو ہم کافی پیچھے نظر آتے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ دنیا کی تاریخ میں کوئی ملک امن اور استحکام کے بغیر ترقی نہیں کر سکا جبکہ پاکستان میں بدقسمتی سے سیاسی اور پالیسی عدم استحکام رہا ہے۔ سی پیک محض سڑکوں کا منصوبہ نہیں بلکہ یہ پاکستان کی تقدیر بدلنے کا ایک جامع معاشی پروگرام ہے۔ ہمیں سیاسی اختلافات سے بالاتر ہو کر معاشی پالیسیوں میں تسلسل لانا ہوگا۔ پاکستان میں ڈالرز کی قلت اور کرنٹ اکائونٹ خسارے کی سب سے بڑی وجہ برآمدات میں مطلوبہ اضافہ نہ ہونا ہے۔ پاکستان سٹاک ایکسچینج میں درج 523 کمپنیوں میں سے صرف 70 کمپنیاں ایسی ہیں جن کی برآمدات 10 ہزار ڈالر سے زائد ہیں۔ وفاقی وزیر برائے موسمیاتی تبدیلی و ماحولیاتی ہم آہنگی سینیٹر ڈاکٹر مصدق ملک نے کہا کہ خوشحالی کا واحد راستہ پیداواری صلاحیت میں اضافہ ہے،
ترقی تب آئے گی جب ہر شہری کو کام کے لیے یکساں مواقع فراہم کیے جائیں گے، مخصوص طبقے کو سستی بجلی، گیس اور ٹیکس چھوٹ دینے کا سلسلہ بند ہونا چاہیے، حکومت 12 فیصد پر ڈالرز ادھار لے کر 50 بڑے لوگوں کو صفر فیصد پر دے رہی ہے، ریاست کو اب ”کاروبار چلانے“ کے بجائے ”سہولت کار“ کا کردار ادا کرنا ہوگا۔ انہوں نے کہا کہ ملک کے باصلاحیت نوجوان نئی کمپنیاں بنانا چاہتے ہیں مگر انہیں وسائل نہیں ملتے۔ خوشحالی کا سرچشمہ طاقت اور رسائی نہیں بلکہ تعلیم، ہنر اور پروڈکٹویٹی ہے۔
ہمیں ایسا نظام چاہیے جہاں صرف ٹیلنٹ اور قابلیت کی بنیاد پر لوگوں کو آگے بڑھنے کا موقع ملے۔ نئے خیالات اور ایجادات کے بغیر کوئی ملک معاشی طور پر مستحکم نہیں ہو سکتا۔ اگر ہماری معاشی پالیسیاں ٹھیک ہوتیں تو آج پاکستان بنگلہ دیش سے آگے ہوتا۔وفاقی وزیر برائے نجکاری محمد علی نے کہا کہ گزشتہ چند برسوں کے دوران منفی معاشی سرگرمیوں کے باعث پاکستان اپنے مطلوبہ معاشی اہداف حاصل نہیں کرسکا تاہم حالیہ اصلاحات کے نتیجے میں معیشت کے مثبت پہلو سامنے آنا شروع ہوگئے ہیں، جنہیں مستقل بنیادوں پر برقرار رکھنے کی ضرورت ہے۔
ملکی معیشت چار بنیادی ستونوں پر کھڑی ہے جن میں عوامی وسائل، معاشی سرگرمیوں میں اضافہ، خواتین کی شمولیت اور مضبوط کاروباری ڈھانچہ شامل ہیں۔ خواتین کو معاشی دھارے میں شامل کرنا وقت کی اہم ضرورت ہے۔ انہوں نے کہا کہ حکومت انفرااسٹرکچر میں اصلاحات کے لیے بھرپور اقدامات کر رہی ہے۔ ایئر لائن، پاور، پٹرولیم، ریلوے اور صنعتی شعبوں میں نمایاں کامیابیاں حاصل ہوئی ہیں۔ آسان معاشی پالیسیاں متعارف کرائی گئیں تاہم قیمتوں میں اضافے کے باعث عوام کو مشکلات کا سامنا ہے۔
وفاقی سیکرٹری تجارت یونس ڈھاگا نے کہا کہ غیر رسمی معیشت کو قومی دھارے میں شامل کرنا محض کاروبار کو رجسٹرڈ کرنے تک محدود نہیں بلکہ اس سے معاشی سرگرمیوں کی دستاویز بندی، کرپشن میں کمی اور ٹیکس نیٹ میں وسعت ممکن ہوتی ہے۔ وسیع ٹیکس بیس کے باعث ٹیکس کی شرح کم کی جاسکتی ہے جو صنعتی ترقی کے لیے معاون ثابت ہوتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ تجارتی معیشت سے مینوفیکچرنگ کی جانب منتقلی ناگزیر ہے کیونکہ ہر سال 40 سے 50 لاکھ افراد لیبر مارکیٹ میں داخل ہو رہے ہیں جنہیں صرف سروس سیکٹر جذب نہیں کر سکتا۔ بڑے پیمانے پر روزگار کی فراہمی کے لیے مینوفیکچرنگ ہی واحد پائیدار حل ہے۔سی ای او اورچیئرمین جاز اینڈ موبی لنک بنک عامر ابراہیم نے کہا کہ ڈیجیٹل کرنسی کا استعمال روز بڑھتا جا رہا ہے۔
ڈیجیٹل پیمنٹ سے بروقت، شفاف، آسان ترسیل سے کاروبار کو فروغ اور ریکارڈ دینے میں مدد ملی۔ مالی سال 2026 میں 2 ملین نئے اکاؤنٹ بنے۔ٹیکس کے ریٹ کم کریں تاکہ عوام زیادہ سے زیادہ ٹیکس نیٹ میں شامل ہو۔ پلانٹیو کی بانی عائلہ ماجد نے کہا کہ عالمی سطح پر انفرااسٹرکچر اور توانائی کے لیے 68 ٹریلین ڈالر کی سرمایہ کاری درکار ہے۔ مصنوعی ذہانت (اے آئی) جہاں ترقی کے لیے اہم ہے، وہیں یہ توانائی کا استعمال بھی بڑھاتی ہے۔ پاکستان کو صنعت، زراعت اور انفراسٹرکچر میں ڈیٹا کی بنیاد پر فیصلے کرنے ہوں گے تاکہ وسائل کا درست استعمال یقینی بنایا جا سکے اور معاشی ترقی کو ماحولیاتی پابندیوں کے بوجھ تلے دبنے سے بچایا جا سکے۔
انفراضامن کی سی ای او ماہین رحمان نے کہا کہ پاکستان میں شمسی توانائی (Solarization) اور ڈیجیٹل انفراسٹرکچر میں نجی سرمایہ کاری تیزی سے بڑھ رہی ہے۔ ٹیلی کام ٹاورز کو شمسی توانائی پر منتقل کرنے اور چھوٹے شہروں تک فائبر نیٹ ورک پھیلانے کے منصوبوں پر کام ہو رہا ہے۔ صرف عالمی اداروں پر تکیہ کرنے کے بجائے ملکی سرمایہ کاری کے چکر کو متحرک کرنا ہوگا۔ وزیر خزانہ کے مشیر خرم شہزاد نے کہا کہ حکومت نے روایتی ’تحفظ پسند‘ (Protectionist) ماڈل کو ترک کر کے معیشت کو کھولنے کا آغاز کر دیا ہے۔ حالیہ بجٹ میں ڈیوٹی ریفارمز کا مقصد درآمدی پابندیوں کے بجائے مقامی صنعت کو عالمی مقابلے کے لیے تیار کرنا ہے۔
اب پالیسیاں صرف قانونی نہیں بلکہ مالیاتی نتائج اور ریونیو کو مدنظر رکھ کر بنائی جا رہی ہیں۔اینگرو کارپوریشن کے صدر احسن ظفر سید نے کہا کہ پاکستان کا اصل چیلنج ”سرمایہ کار کا خوف“ ہے۔ ہولڈنگ کمپنیوں پر ٹیکس کی شرح اتنی زیادہ ہے کہ 100 روپے کی کمائی میں سے سرمایہ کار کو صرف 30 روپے ملتے ہیں۔ سابق صدر کے سی سی آئی جاوید بلوانی نے کہا کہ اگر ٹیکسٹائل پالیسی پر تسلسل سے عمل ہوتا تو آج برآمدات 50 ارب ڈالر سے تجاوز کر چکی ہوتیں۔ انہوں نے کہا کہ ریگولیٹری اداروں کی عدم موجودگی کی وجہ سے صنعتیں زرعی زمینوں پر لگ گئیں جس سے زراعت اور صنعت دونوں کا نقصان ہوا۔









