حیدرآباد۔ 15 جنوری (اے پی پی):سندھ زرعی یونیورسٹی ٹنڈوجام کے وائس چانسلر انجینئر پروفیسر ڈاکٹر الطاف علی سیال نے کہا ہے کہ پاکستان کے زرعی شعبے میں تحقیق اور عملی زراعت کے درمیان وسیع خلا موجود ہے اور گزشتہ چالیس برس گزرنے کے باوجود ڈرِپ اریگیشن جیسی اہم ٹیکنالوجی عام کسان تک منتقل نہیں ہو سکی۔ یہ بات انہوں نے یونیورسٹی کے سینیٹ ہال میں سندھ زرعی سائنس سوسائٹی کی …
چالیس برس گزرنے کے باوجود ڈرِپ اریگیشن عام کسان تک نہیں پہنچ سکی، وائس چانسلر سندھ زرعی یونیورسٹی

مزید خبریں
حیدرآباد۔ 15 جنوری (اے پی پی):سندھ زرعی یونیورسٹی ٹنڈوجام کے وائس چانسلر انجینئر پروفیسر ڈاکٹر الطاف علی سیال نے کہا ہے کہ پاکستان کے زرعی شعبے میں تحقیق اور عملی زراعت کے درمیان وسیع خلا موجود ہے اور گزشتہ چالیس برس گزرنے کے باوجود ڈرِپ اریگیشن جیسی اہم ٹیکنالوجی عام کسان تک منتقل نہیں ہو سکی۔ یہ بات انہوں نے یونیورسٹی کے سینیٹ ہال میں سندھ زرعی سائنس سوسائٹی کی نو منتخب کابینہ کی حلف برداری تقریب میں مہمانِ خصوصی کے طور پر خطاب کرتے ہوئے کہی۔ انہوں نے کہا کہ سائنسی سوسائٹیز کی ذمہ داری ہے کہ وہ تحقیق کے نتائج کو عملی شکل دے کر کسانوں کی روزمرہ مشکلات کا حل فراہم کریں، تاہم بیشتر تحقیق ابھی بھی کتابوں اور جرائد تک محدود رہ جاتی ہے اور کھیتوں تک منتقل نہیں ہو پاتی۔ ڈاکٹر الطاف علی سیال نے خبردار کیا کہ آنے والے برسوں میں موسمیاتی تبدیلیاں زراعت کے لیے مزید سنگین خطرات پیدا کریں گی، اور ملک کے بیشتر کسان آج بھی جدید زرعی طریقوں اور موسمیاتی اثرات سے ناواقف ہیں۔
انہوں نے کہا کہ عالمی اداروں جیسے ورلڈ بینک کے زرعی منصوبے مقامی حالات اور مقامی زرعی نظام سے لاعلمی کے باعث مؤثر ثابت نہیں ہوئے، اور پائیدار ترقی کے لیے مقامی ماہرین کی بھرپور شمولیت ناگزیر ہے۔ انہوں نے چین کی مثال دیتے ہوئے کہا کہ وہاں جدید زرعی ٹیکنالوجی صرف بیس برس میں کسانوں تک منتقل کی گئی اور زراعت میں انقلابی ترقی ہوئی، جبکہ پاکستان میں اس حوالے سے تاحال مؤثر پیش رفت نہیں ہوئی۔ انہوں نے کہا کہ موسمی تبدیلیوں کے باعث سندھ کی کئی روایتی فصلیں، پرندوں اور مویشیوں کی مقامی نسلیں تیزی سے ختم ہو رہی ہیں، جبکہ مشہور خوشبودار "سگداسی” چاول کی قسم بھی اب نایاب ہو چکی ہے۔ تقریب میں فیکلٹی آف کراپ پروٹیکشن کے ڈین اور سوسائٹی کے پیٹرن پروفیسر ڈاکٹر عبدالمبین لودھی نے کہا کہ جدید زرعی ٹیکنالوجی تک کسانوں کی مؤثر رسائی کے لیے سائنسی جرائد سندھی زبان میں شائع کیے جائیں اور انڈسٹری، زراعت اور سوسائٹی کے تمام اسٹیک ہولڈرز کے باقاعدہ اجلاس منعقد کیے جائیں۔
سوسائٹی کے نو منتخب صدر پروفیسر ڈاکٹر بھائی خان سولنگی نے کہا کہ سوسائٹی کا مقصد کسانوں کی عملی مدد، یوٹیوب اور ریڈیو کے ذریعے فارمر ایڈوائزری سروس قائم کرنا، تحقیقی معلومات سندھی زبان میں فراہم کرنا اور فیکلٹی، طلبہ، انڈسٹری اور کسانوں کے درمیان مضبوط رابطے قائم کرنا ہے۔ انہوں نے بتایا کہ ان اہداف کے حصول کے لیے سیمینارز اور تربیتی سرگرمیوں کا بھی انعقاد کیا جائے گا۔ تقریب میں وائس چانسلر نے نو منتخب کابینہ سے حلف لیا۔ انتخابات میں پروفیسر ڈاکٹر بھائی خان سولنگی بلامقابلہ صدر منتخب ہوئے، جبکہ دیگر منتخب عہدیداران میں ڈاکٹر فہد نظیر کھوسو سینئر نائب صدر، ڈاکٹر نیاز احمد واہوچو نائب صدر، ڈاکٹر محمد یعقوب کوندھر جنرل سیکریٹری، ڈاکٹر غلام حسین وگن ایڈیشنل جنرل سیکریٹری، ڈاکٹر سہیل احمد اوٹھو فنانس سیکریٹری، ڈاکٹر ظہیر احمد خان انفارمیشن سیکریٹری اور ڈاکٹر پیار علی شر آفس سیکریٹری شامل ہیں۔ وائس چانسلر ڈاکٹر الطاف علی سیال کو سوسائٹی کا پیٹرن ان چیف جبکہ فیکلٹی آف کراپ پروٹیکشن کے ڈین پروفیسر ڈاکٹر عبدالمبین لودھی کو پیٹرن مقرر کیا گیا ہے۔








