اسلام آباد۔15جنوری (اے پی پی):روسی فیڈریشن میں اسلامی جمہوریہ پاکستان کے سفیر فیصل نیاز ترمذی نے جمعرات کو گرینڈ کریملن پیلس میں منعقدہ ایک پروقار تقریب کے دوران رسمی طور پر روسی فیڈریشن کے صدر ولادیمیر پیوٹن کو اپنی اسناد پیش کیں۔یہاں موصول ہونے والی پریس ریلیز میں کہا گیا کہ تقریب کے دوران سفیر فیصل نیاز ترمذی نے صدر پیوٹن کو صدر، وزیراعظم اور پاکستانی عوام کی جانب سے …
روس میں پاکستان کے سفیر فیصل نیاز ترمذی نے روسی صدر پیوٹن کو اسناد سفارت پیش کردیں

مزید خبریں
اسلام آباد۔15جنوری (اے پی پی):روسی فیڈریشن میں اسلامی جمہوریہ پاکستان کے سفیر فیصل نیاز ترمذی نے جمعرات کو گرینڈ کریملن پیلس میں منعقدہ ایک پروقار تقریب کے دوران رسمی طور پر روسی فیڈریشن کے صدر ولادیمیر پیوٹن کو اپنی اسناد پیش کیں۔یہاں موصول ہونے والی پریس ریلیز میں کہا گیا کہ تقریب کے دوران سفیر فیصل نیاز ترمذی نے صدر پیوٹن کو صدر، وزیراعظم اور پاکستانی عوام کی جانب سے مبارکباد اور نیک خواہشات کا پیغام پہنچایا۔صدر پیوٹن نے پاکستان کو روس کا قریبی شراکتدار قرار دیتے ہوئے کہا کہ دونوں ممالک کے درمیان خاص طور پر تجارت، سفارت کاری، تجارت، تعلیم، زراعت، فارماسیوٹیکل، ریلوے، صنعت، صحت اور آئی ٹی کے شعبوں میں تعاون بڑھ رہا ہے
سفیر فیصل نیاز ترمذی نے ماسکو میں 26 اکتوبر 2025 کو باضابطہ طور پر مشن کا چارج سنبھالا۔ اپنی تعیناتی کے دوران وہ پاکستان اور روس کے درمیان باہمی دلچسپی کے تمام شعبوں اور خاص طور پر توانائی، تجارت، روابط، ثقافت، تعلیم اور عوام کے درمیان رابطوں کو فروغ دینے کے شعبوں میں میں دوطرفہ تعاون کو بڑھانے پر توجہ مرکوز کریں گے۔ وہ روسی فیڈریشن میں پاکستانی تارکین وطن کے ساتھ رابطے اور ان کی معاونت کو بھی اعلیٰ ترجیح دیتے ہیں۔
ممتاز کیرئیر سفارت کار نے 1995 میں پاکستان کی فارن سروس میں شمولیت اختیار کی اور وزارت خارجہ اور بیرون ملک پاکستانی مشنز میں مختلف اہم عہدوں پر فائز رہے، جن میں ترکمانستان، امریکہ، اقوام متحدہ اور متحدہ عرب امارات کی ذمہ داریاں شامل ہیں۔ قبل ازایں وہ کرغز جمہوریہ (2018-2019) اور متحدہ عرب امارات (2022-2025) میں پاکستان کے سفیر کے طور پر خدمات انجام دے چکے ہیں۔ان کی سفارتی خدمات اور بین الاقوامی تعاون میں شراکت کے اعتراف میں سفیر فیصل نیاز ترمذی کو متحدہ امارات کے صدر شیخ محمد بن زاید النہیان نے فرسٹ کلاس آرڈر آف زید II سے نوازا تھا۔وہ شنگھائی تعاون تنظیم میں اپنی خدمات کیلئے SCO-RATS ایوارڈ کے وصول کنندہ بھی ہیں۔








