اسلام آباد۔16جنوری (اے پی پی):نامور سوز ونوحہ خواں،شاعر اور بینکار مرزا آغا محمد عزت الزماں المعروف عزت لکھنوی کی برسی 16 جنوری بروز جمعہ کو منائی گئی۔ عزت لکھنوی 1932 میں لکھنومیں پیدا ہوئے۔انہوں نے اپنی تعلیم لکھنو میں حاصل کی اور قانون کی ڈگری حاصل کی۔ عزت لکھنوی دور طالب علمی میں یونین کے سیکرٹری اور میگزین محراب کے ایڈیٹر بھی رہے ۔انہوں نے وکالت کا آغاز بذریعہ جگت …
نامور سوز ونوحہ خواں،شاعر اور بینکار مرزا آغا محمد عزت الزماں المعروف عزت لکھنوی کی برسی جمعہ کو منائی گئی

مزید خبریں
اسلام آباد۔16جنوری (اے پی پی):نامور سوز ونوحہ خواں،شاعر اور بینکار مرزا آغا محمد عزت الزماں المعروف عزت لکھنوی کی برسی 16 جنوری بروز جمعہ کو منائی گئی۔ عزت لکھنوی 1932 میں لکھنومیں پیدا ہوئے۔انہوں نے اپنی تعلیم لکھنو میں حاصل کی اور قانون کی ڈگری حاصل کی۔ عزت لکھنوی دور طالب علمی میں یونین کے سیکرٹری اور میگزین محراب کے ایڈیٹر بھی رہے ۔انہوں نے وکالت کا آغاز بذریعہ جگت بہادر سر یواستو ایڈووکیٹ کے ساتھ لکھنو میں کیا۔ 15 اگست 1958 کو ترک وطن کر کے کراچی منتقل ہو گئے جبکہ ان کے اہل خانہ 1959 میں پاکستان منتقل ہوئے۔
عزت لکھنوی نے کراچی کے عدالتی ماحول سے بد دل ہو کر بینکنگ کے شعبہ کا انتخاب کیا اور حبیب بنک سے منسلک ہو گئے۔ انہوں نے 1963 میں حبیب بنک کی ملازمت ترک کر کے یونائٹیڈ بینک میں ملازمت اختیار کی لیکن جلد ہی پریمیئر بنک کے قیام کے بعد عزت لکھنوی اس میں ایک اعلی عہدے پر فائز ہوئے۔1965 میں سٹینڈرڈ بینک کا قیام عمل میں آیا تو اس میں خدمات انجام دیں اور تا دمِ مرگ اسی سے وابستہ رہے ۔جب کراچی ٹی وی سٹیشن قائم ہوا تو اس وقت سے لے کر تادمِ مرگ شام غریباں کی نشریات میں انکا پڑھا ہوا نوحہ نشر کیا جاتا رہا۔
واضح رہے کہ انہوں نے بچپن میں ہی سوز خوانی کا آغاز کر دیا۔ عزت لکھنوی کو شاعری ورثے میں ملی تھی۔ معروف شاعر شدید لکھنوی نے ان میں شعر گوئی کی عادت ڈالی۔ عزت لکھنوی کی کراچی منتقلی کے بعد میں وصی فیض آبادی نے ان کی مشق سخن کو سنوارا اور شاہد نقوی نے اس کو جلا بخشی ۔ عزت لکھنوی نے غزل، قصیدہ، سلام، نوحہ، مرثیہ ،نعت، مثنوی، رباعی اور قطعہ تمام اصنافِ سخن میں خوب جوہر دکھائے۔
عزت لکھنوی کراچی آنے کے بعد انجمن ظفر الایمان میں شامل ہوئے اور اپنے دیگر ساتھیوں کے ساتھ جدوجہد سے اسے روز افزوں ترقی دی۔ عزت لکھنوی اپنی پرسوز آواز کی مقبولیت کے باعث 1976 سے 1979 تک مسلسل تین سال ایران میں منعقد ہونے والی اردو مجالس میں مدعو کئے جاتے رہے ۔1971 سے 1974 تک کراچی میں میر انیس کے صد سالہ جشن کی تقریابت کے دوران عزت لکھنوی کی ایک نظم بہت مقبول ہوئی جو مسدس میں میر انیس کی شان میں کہی گئی تھی۔
اس کے آخری بند کا آخری شعر حبیب پبلک سکول کراچی کے اردو نصاب میں میر انیس کے حالات زندگی کے ساتھ شامل کیا گیا۔ عزت لکھنوی 16جنوری 1981کواس دنیا سے رخصت ہوگئے۔ ان کی برسی کے موقع پر علمی، ادبی اور مذہبی حلقوں کی جانب سے ان کی خدمات کے اعتراف میں انہیں خراج تحسین پیش کیا گیا۔








