واشنگٹن ۔16جنوری (اے پی پی):امریکی ریاست منیسوٹا میں بڑھتے احتجاج پر صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے بغاوت کے قانون کے نفاذ اور فوجیوں کو تعینات کرنے کی دھمکی دی ہے۔برطانوی خبر رساں ادارے رائٹرز کے مطابق شہر منیاپولس میں اس احتجاج کا سلسلہ جاری ہے جو آٹھ روز پیشتر ایک امیگریشن اہلکار کی جانب سے ایک خاتون کو گولی مارنے پر شروع ہوا تھا۔شہریوں اور فیڈرل افسران کے درمیان جھڑپیں بھی …
کرپٹ سیاستدان اور پیشہ ور مظاہرین، امریکی صدر کی منیسوٹا میں فوج استعمال کرنے کی دھمکی

مزید خبریں
واشنگٹن ۔16جنوری (اے پی پی):امریکی ریاست منیسوٹا میں بڑھتے احتجاج پر صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے بغاوت کے قانون کے نفاذ اور فوجیوں کو تعینات کرنے کی دھمکی دی ہے۔برطانوی خبر رساں ادارے رائٹرز کے مطابق شہر منیاپولس میں اس احتجاج کا سلسلہ جاری ہے جو آٹھ روز پیشتر ایک امیگریشن اہلکار کی جانب سے ایک خاتون کو گولی مارنے پر شروع ہوا تھا۔شہریوں اور فیڈرل افسران کے درمیان جھڑپیں بھی ہو چکی ہیں جس سے شہر کی صورت حال میں کشیدگی پائی جاتی ہے جس کا سلسلہ دوسرے شہروں تک بھی پھیل رہا ہے۔
صدر ٹرمپ کی جانب سے یہ تازہ دھمکی امیگریشن اہلکاروں کے وینزویلا کے ایک شہری پر منیاپولیس میں ہی گولی چلانے کے واقعے کے بعد سامنے آئی ہے، اس کے بعد حکام نے بتایا تھا کہ جب گاڑی کو روکنے کا اشارہ کیا گیا تو اس نے گاڑی بھگا دی تھی جس پر اہلکاورں کو فائرنگ کرنا پڑی، جس سے وہ شخص زخمی ہو گیا تھا۔صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے سوشل میڈیا پر ایک پوسٹ میں لکھا کہ ’اگر منیسوٹا سے تعلق رکھنے والے بدعنوان سیاست دان قانون کی پابندی نہیں کرتے اور پیشہ ور مظاہرین کو آئی سی ای کے محب وطن اہلکاروں جو صرف اپنا کام کر رہے ہیں، پر حملوں سے نہیں روکتے تو بغاوت کے ایکٹ کو نافذ کیا جائے گا۔
ریپبلکن پارٹی سے تعلق رکھنے والے صدر ٹرمپ کئی ہفتوں سے ریاست سے تعلق رکھنے والے ڈیموکریٹک رہنماؤں کا مذاق اڑا رہے ہیں اور وہاں کے صومالی نژاد لوگوں کو ’کوڑا کرکٹ‘ قرار دیا، جن کو ان کے مطابق ’ملک سے باہر پھینک دینا چاہیے۔امریکی صدر پہلے ہی منیاپولیس شہر میں تین ہزار فیڈرل آفیسرز کو بھجوا چکے ہیں، جو شہر کی گلیوں میں اسلحہ لیے پھرتے ہوئے نظر آ رہے ہیں اور انہوں نے فوجیوں کی طرح وردیاں پہن رکھی ہیں اور دوسرا سامان اٹھا رکھا ہے جبکہ چہروں پر ماسک بھی چڑھائے ہوئے ہیں اور ان کو دن رات علاقے کے برہم مکینوں کا سامنا رہتا ہے۔








