وینزویلا کی اپوزیشن رہنما ماریا کورینا ماچادو نے اپنا نوبیل امن انعام امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو دے دیا، فاکس نیوز

واشنگٹن ۔16جنوری (اے پی پی):وینزویلا کی اپوزیشن رہنما ماریا کورینا ماچادو نے اپنا نوبیل امن انعام امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو دے دیا ہے، جسے صدر ٹرمپ نے قبول بھی کر لیا ہے۔فاکس نیوز وائٹ ہاؤس حکام کے حوالہ سے بتایا کہوینزویلا کی اپوزیشن رہنما ماریا کورینا ماچادو نے اس نوبیل امن انعام صدر ٹرمپ کو پیش کرنے پر اصرار کیا جس کے بعد امریکی صدر نے اسے قبول کر …

واشنگٹن ۔16جنوری (اے پی پی):وینزویلا کی اپوزیشن رہنما ماریا کورینا ماچادو نے اپنا نوبیل امن انعام امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو دے دیا ہے، جسے صدر ٹرمپ نے قبول بھی کر لیا ہے۔فاکس نیوز وائٹ ہاؤس حکام کے حوالہ سے بتایا کہوینزویلا کی اپوزیشن رہنما ماریا کورینا ماچادو نے اس نوبیل امن انعام صدر ٹرمپ کو پیش کرنے پر اصرار کیا جس کے بعد امریکی صدر نے اسے قبول کر لیا۔اس سے قبل ماریا کورینا ماچادو نے کہا تھا کہ انہوں نے اپنا نوبیل انعام ڈونلڈ ٹرمپ کو ’’پیش‘‘ کر دیا ہے، تاہم اس وقت انہوں نے یہ واضح نہیں کیا تھا کہ آیا امریکی صدر نے انعام قبول کیا یا نہیں۔

واضح رہے کہ صدر ڈونلڈ ٹرمپ متعدد مواقع پر یہ بیان دے چکے ہیں کہ وہ نوبیل امن انعام کے مستحق ہیں۔ تاہم 10 اکتوبر 2025 کو نوبیل کمیٹی نے اعلان کیا تھا کہ رواں سال کا نوبیل امن انعام وینزویلا کی دائیں بازو کی اپوزیشن جماعت کی رہنما ماریا کورینا ماچادو کو دیا جا رہا ہے۔

ادھر واشنگٹن پوسٹ نے جنوری کے اوائل میں رپورٹ کیا تھا کہ صدر ٹرمپ نے ماریا کورینا ماچادو کی سیاسی حمایت نہ کرنے کا فیصلہ کیا تھا، جس کی وجہ یہ بتائی گئی کہ انہوں نے 2025 میں نوبیل امن انعام سے صدر ٹرمپ کے حق میں دستبردار ہونے کی بجائے اسے قبول کر لیا تھا۔

اس پیش رفت کے بعد عالمی سیاسی حلقوں میں اس غیر معمولی اقدام پر بحث شروع ہو گئی ہے، کیونکہ نوبیل امن انعام کا کسی اور شخصیت کو منتقل کیا جانا ایک غیر روایتی اور متنازع عمل سمجھا جا رہا ہے۔