جنوبی کوریا کے سابق صدر یون سوک یول کو گرفتاری میں رکاوٹ ڈالنے پر پانچ سال قید کی سزا

سیول۔16جنوری (اے پی پی):جنوبی کوریا کی ایک عدالت نے سابق صدر یون سوک یول کو گرفتاری میں رکاوٹ ڈالنے کے جرم میں پانچ سال قید کی سزا سنا دی ہے۔ تاس کے مطابق یہ فیصلہ سیول سینٹرل ڈسٹرکٹ کورٹ نے سنایا، جس کی کارروائی یونہاپ نیوز ٹی وی پر براہِ راست نشر کی گئی۔عدالتی فیصلے کے مطابق 3 جنوری 2025 کو صدارتی سکیورٹی سروس نے قانون نافذ کرنے والے اداروں …

سیول۔16جنوری (اے پی پی):جنوبی کوریا کی ایک عدالت نے سابق صدر یون سوک یول کو گرفتاری میں رکاوٹ ڈالنے کے جرم میں پانچ سال قید کی سزا سنا دی ہے۔ تاس کے مطابق یہ فیصلہ سیول سینٹرل ڈسٹرکٹ کورٹ نے سنایا، جس کی کارروائی یونہاپ نیوز ٹی وی پر براہِ راست نشر کی گئی۔عدالتی فیصلے کے مطابق 3 جنوری 2025 کو صدارتی سکیورٹی سروس نے قانون نافذ کرنے والے اداروں کو سیول میں یون سوک یول کی رہائش گاہ پر انہیں گرفتار کرنے سے روک دیا تھا۔ حکام دوسری کوشش میں 15 جنوری 2025 کو گرفتاری میں کامیاب ہوئے۔ اس وقت اگرچہ وہ باضابطہ طور پر صدر تھے، تاہم پارلیمنٹ کی جانب سے مواخذے کے بعد ان کے اختیارات معطل ہو چکے تھے۔

استغاثہ نے اس کیس میں 10 سال قید کی سزا کا مطالبہ کیا تھا۔یہ فیصلہ یون سوک یول کے خلاف پہلی سطح پر سنایا جانے والا پہلا عدالتی حکم ہے۔ جنوبی کوریا کے عدالتی نظام میں عمومی نوعیت کے مقدمات کے لیے تین درجات شامل ہیں، جن میں اپیلٹ کورٹس اور سپریم کورٹ بھی شامل ہیں۔یون سوک یول اس وقت مجموعی طور پر آٹھ مقدمات کا سامنا کر رہے ہیں، جن میں سے چار کا تعلق مارشل لا کے نفاذ سے ہے۔ 13 جنوری 2026 کو ایک علیحدہ مقدمے میں، جس میں ریاست کے خلاف بغاوت کے الزامات شامل ہیں، خصوصی استغاثہ ٹیم نے سزائے موت کا مطالبہ کیا تھا۔

اس جرم پر قانون کے تحت صرف سزائے موت یا عمر قید کی سزا دی جا سکتی ہے۔یاد رہے کہ یون سوک یول نے 3 دسمبر 2024 کو آئین کی خلاف ورزی کرتے ہوئے مارشل لا نافذ کرنے کا اعلان کیا تھا، جس کے بعد اپریل میں آئینی عدالت نے انہیں عہدے سے ہٹا دیا تھا۔عدالت نے اپنے فیصلے میں کہا کہ یون سوک یول نے 3 دسمبر 2024 کو مارشل لا کے نفاذ سے متعلق اجلاس میں سات کابینہ ارکان کو مدعو نہ کر کے ان کے حقوق کی خلاف ورزی کی۔ انہیں مارشل لا کے اعلان کے نظرثانی شدہ مسودے کی تیاری اور سرکاری عہدے کے غلط استعمال کے ذریعے غیر قانونی دستاویزات بنانے کا بھی مجرم قرار دیا گیا۔

عدالتی فیصلے کے مطابق یون سوک یول نے محفوظ ٹیلی فون سرورز پر موجود کال لاگز کے ریکارڈ کو تباہ کرنے کی کوشش بھی کی۔ عدالت نے یہ بھی قرار دیا کہ ملک کے انسدادِ بدعنوانی ادارے کو بغاوت کے الزامات کی تحقیقات کا اختیار حاصل تھا، اس لیے گرفتاری کا وارنٹ اور ان کی رہائش گاہ کی تلاشی قانونی تھی۔یہ فیصلہ جنوبی کوریا کی سیاسی تاریخ میں ایک اہم سنگِ میل قرار دیا جا رہا ہے، جس نے ملک میں قانون کی بالادستی اور احتساب کے عمل کو مزید نمایاں کر دیا ہے۔