جنگیں اور حقِ خودارادیت سے انکار عالمی نظام کو کمزور کر رہا ہے، پاکستان کا اقوامِ متحدہ میں انتباہ

اقوام متحدہ ۔16جنوری (اے پی پی):پاکستان نے اقوامِ متحدہ کی جنرل اسمبلی کو خبردار کیا ہے کہ مشرقِ وسطیٰ، یورپ اور افریقہ میں جاری جنگیں، اور بالخصوص فلسطین اور کشمیر میں حقِ خودارادیت سے انکار عالمی نظام کی ساکھ کو شدید نقصان پہنچا رہے ہیں۔اقوامِ متحدہ میں پاکستان کے مستقل مندوب عاصم افتخار احمد نے سیکرٹری جنرل انتونیو گوتریش کی جانب سے 2026 کے لیے پیش کی گئی ترجیحات پر …

اقوام متحدہ ۔16جنوری (اے پی پی):پاکستان نے اقوامِ متحدہ کی جنرل اسمبلی کو خبردار کیا ہے کہ مشرقِ وسطیٰ، یورپ اور افریقہ میں جاری جنگیں، اور بالخصوص فلسطین اور کشمیر میں حقِ خودارادیت سے انکار عالمی نظام کی ساکھ کو شدید نقصان پہنچا رہے ہیں۔اقوامِ متحدہ میں پاکستان کے مستقل مندوب عاصم افتخار احمد نے سیکرٹری جنرل انتونیو گوتریش کی جانب سے 2026 کے لیے پیش کی گئی ترجیحات پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا کہ اقوامِ متحدہ کی سلامتی کونسل کی قراردادوں پر عمل درآمد یقینی بنانا اور اقوامِ متحدہ کے چارٹر پر مبنی تمام طریقۂ کار کو منصفانہ اور پُرامن تنازعات کے حل کے لیے بروئے کار لانا ناگزیر ہے۔

انہوں نے کہا کہ پاکستان سفارتکاری، ثالثی اور امن سازی کی بھرپور حمایت کرتا ہے۔ ان کے مطابق اقوامِ متحدہ کی نیک نیتی پر مبنی خدمات، پیشگی سفارتکاری اور امن مشنز کو زیادہ مؤثر انداز میں استعمال کیا جانا چاہیے تاکہ کشیدگی کو بڑھنے سے روکا جا سکے اور تنازعات کا حل سیاسی ذرائع سے ممکن بنایا جا سکے۔پاکستانی سفیر عاصم افتخار احمد نے کہا کہ 2024 کا اقوامِ متحدہ کا ’’پیکٹ فار دی فیوچر‘‘ کثیرالجہتی نظام پر اعتماد کی بحالی کے لیے ایک اہم خاکہ فراہم کرتا ہے، جبکہ سیکرٹری جنرل کا یو این 80 انیشی ایٹو ادارے کی کارکردگی بہتر بنانے کے لیے ہے۔

انہوں نے زور دیا کہ اصلاحات کو صرف اخراجات میں کمی یا اقوامِ متحدہ کے بنیادی مینڈیٹس کو کمزور کرنے تک محدود نہیں کیا جانا چاہیے، بلکہ امن، ترقی اور انسانی حقوق کے تینوں ستونوں کو یکساں اہمیت دی جانی چاہیے۔پاکستانی سفیر نے منصفانہ قرضہ جاتی اصلاحات، ڈیجیٹل خلیج کو ختم کرنے اور فوری ماحولیاتی اقدامات پر زور دیتے ہوئے کہا کہ پاکستان سمیت کمزور ممالک بدستور تباہ کن سیلابوں، شدید گرمی اور پانی کی قلت کا سامنا کر رہے ہیں۔ انہوں نے ماحولیاتی مالی معاونت، بالخصوص موافقت کے لیے فنڈنگ اور لاس اینڈ ڈیمیج فنڈ کے لیے وسائل بڑھانے کو ناگزیر قرار دیا۔

انہوں نے واضح کیا کہ پانی کو کبھی بھی ہتھیار نہیں بنایا جانا چاہیےکیونکہ پانی تک رسائی بنیادی انسانی حق اور بقا کی بنیاد ہے، جو بین الاقوامی معاہدوں، خصوصاً سندھ طاس معاہدے کی پابندی کی اہمیت کو اجاگر کرتا ہے۔پاکستانی مندوب نے کہا کہ بڑھتے ہوئے فوجی اخراجات ترقی کے وسائل کو کم کر رہے ہیں اور تباہ کن جنگوں کے خطرات میں اضافہ ہو رہا ہے۔ انہوں نے تمام ریاستوں کے لیے مساوی اور ناقص نہ ہونے والی سلامتی کی بنیاد پر اسلحہ کے خاتمے، جوہری تخفیفِ اسلحہ اور نئی اسلحہ جاتی ٹیکنالوجیز پر پابندیوں کے لیے نئے عالمی اتفاقِ رائے کی ضرورت پر زور دیا۔