کاشتکار گندم کی بمپر کراپ کے حصول کیلئے ماہرین کی سفارشات کے مطابق بروقت آبپاشی یقینی بنائیں، محکمہ زراعت سمبڑیال

سیالکوٹ ۔ 16 جنوری (اے پی پی):اسسٹنٹ ڈائریکٹر محکمہ زراعت سمبڑیال ڈاکٹر افتخار حسین بھٹی نے کہا ہے کہ کاشتکار گندم کی بمپر کراپ کے حصول کیلئے ماہرین کی سفارشات کے مطابق بروقت آبپاشی یقینی بنائیں۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے جمعہ کو گندم کے کاشتکاروں کے نام اپنے پیغام میں کیا۔ انہوں نے کہا کہ کاشتکار بروقت آبپاشی سے نہ صرف پیداوار میں اضافہ بلکہ پانی کی بچت …

سیالکوٹ ۔ 16 جنوری (اے پی پی):اسسٹنٹ ڈائریکٹر محکمہ زراعت سمبڑیال ڈاکٹر افتخار حسین بھٹی نے کہا ہے کہ کاشتکار گندم کی بمپر کراپ کے حصول کیلئے ماہرین کی سفارشات کے مطابق بروقت آبپاشی یقینی بنائیں۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے جمعہ کو گندم کے کاشتکاروں کے نام اپنے پیغام میں کیا۔

انہوں نے کہا کہ کاشتکار بروقت آبپاشی سے نہ صرف پیداوار میں اضافہ بلکہ پانی کی بچت بھی ہوتی ہے۔انہوں نے کہا کہ گندم کے کاشتکار اچھی پیداوار کیلئے وقت پر کاشت کی گئی گندم کو دوسرا پانی بوائی کے 80سے90دن بعد جبکہ پچھیتی کاشتہ فصل کو دوسرا پانی 70سے80دن بعد گوبھ کے وقت لگائیں۔انہوں نے کہاکہ کا شتکار اگر پہلے پانی کے ساتھ ایک بوری یوریا فی ایکڑ نہیں ڈال سکے تو دوسرے پانی کے ساتھ ڈال دیں۔

انہوں نے بتایا کہ گندم کی فصل کا آبپاشی کے لحاظ سے دوسرا نازک مرحلہ اس وقت شروع ہوتا ہے جب فصل گوبھ یا سٹے نکالنے کے قریب ہو اور یہ نازک مرحلہ وقت کاشت کے 80سے 90دن بعد شروع ہوتاہے اسلئے اگر اس مرحلے پر پانی کی کمی آجائے تو زرپاشی کا عمل متاثر ہوتا ہے جس کی وجہ سے سٹوں میں دانے کم بنتے ہیں اور پیداوار میں 12فیصد تک کمی واقع ہو جاتی ہے اور گوبھ کی حالت میں فصل کو پانی ضرور لگانا چاہیے۔

انہوں نے کہا کہ بارانی علاقوں میں کاشتکارجڑی بوٹیوں کی تلفی بذریعہ گوڈی اور آبپاش علاقوں میں چوڑے پتوں اور نوکیلے پتوں والی جڑی بوٹیوں کی تلفی کیلئے محکمہ زراعت کے مقامی عملہ کے مشورہ سے جڑی بوٹی مار زہروں کا سپرے کریں۔انہوں نے بتایاکہ ماہرین کے مطابق ہمارے گندم کے 80فیصد کھیتوں میں جڑی بوٹیاں نقصان کی معاشی حد سے زیادہ ہوتی ہیں جنہیں کیمیائی زہریں سپر ے کرکے تلف کیا جانا ضروری ہے۔انہوں نے بتایاکہ جڑی بوٹیاں پیداوار کو 44فیصد کم کر سکتی ہیں اسلئے کاشتکار جڑی بوٹیوں کی تلفی پر خصوصی توجہ دیں۔