اسلام آباد۔16جنوری (اے پی پی):الیکشن کمیشن آف پاکستان نے مالی سال 25-2024 کے لئے اثاثہ جات اور واجبات کی تفصیلات مقررہ مدت میں جمع نہ کرانے پر قومی اسمبلی، پنجاب اسمبلی اور سندھ اسمبلی کے متعدد ارکان کی رکنیت معطل کر دی ہے۔الیکشن کمیشن کی جانب سے جمعہ کو جاری نوٹیفکیشنز کے مطابق انتخابات ایکٹ 2017 کی شق 137 کے تحت اثاثہ جات کی تفصیلات جمع نہ کرانے والے ارکان …
الیکشن کمیشن نے مالی سال 25-2024 کے لئے اثاثہ جات اور واجبات کی تفصیلات مقررہ مدت میں جمع نہ کرانے پر قومی اسمبلی، پنجاب اور سندھ اسمبلی کے متعدد ارکان کی رکنیت معطل کر دی

مزید خبریں
اسلام آباد۔16جنوری (اے پی پی):الیکشن کمیشن آف پاکستان نے مالی سال 25-2024 کے لئے اثاثہ جات اور واجبات کی تفصیلات مقررہ مدت میں جمع نہ کرانے پر قومی اسمبلی، پنجاب اسمبلی اور سندھ اسمبلی کے متعدد ارکان کی رکنیت معطل کر دی ہے۔الیکشن کمیشن کی جانب سے جمعہ کو جاری نوٹیفکیشنز کے مطابق انتخابات ایکٹ 2017 کی شق 137 کے تحت اثاثہ جات کی تفصیلات جمع نہ کرانے والے ارکان تفصیلات جمع کرانے تک بطور رکن اسمبلی کوئی ذمہ داری ادا نہیں کر سکیں گے۔نوٹیفکیشن کے مطابق قومی اسمبلی کے 32 ارکان نے اثاثہ جات کی تفصیلات جمع نہیں کرائیں جن میں محمد ادریس (این اے-12)، مجاہد علی (این اے-21)، فضل محمد خان (این اے-25)، ذوالفقار علی (این اے-34)، شاہد احمد (این اے-38)، نسیم علی شاہ (این اے-39)، مصباح الدین (این اے-40)، طاہر اقبال (این اے-58 )، سردار غلام عباس (این اے-59)، اسامہ احمد میلہ (این اے-83)، محمد محبوب سلطان (این اے-108)،
خرم شہزاد ورک (این اے-115)، رشید احمد خان (این اے-32)، رانا محمد حیات خان (این اے-134)، سید علی موسیٰ گیلانی (این اے-151)، سید عبدالقادر گیلانی (این اے-152)، عالم داد لالیکا (این اے-161)، ملک محمد اقبال (این اے-168)، محمد معظم علی خان (این اے -177)، محمد شبیر علی قریشی (این اے-179)، میر عامر علی خان مگسی (این اے-197)، پیر امیر علی شاہ جیلانی (این اے-214)، عبدالحکیم بلوچ (این اے-231)، صادق افتخار (این اے-238)، ارشد عبداللہ ووہرا (این اے-240 )، خالد مقبول صدیقی (این اے-248) اور محمد اختر مینگل (این اے-256) شامل ہیں۔خواتین کی مخصوص نشستوں پر منتخب معطل ارکان میں سائرہ طارق، شازیہ فرید، ماہین رضاق بھٹو، صوفیہ سعید شاہ اور سعیدہ جمشید شامل ہیں۔پنجاب اسمبلی کے جن 50 ارکان کی رکنیت معطل کی گئی ان میں سید اعجاز حسین بخاری (پی پی-3)، ملک عتیبر خان (پی پی -5 )، چوہدری نعیم اعجاز (پی پی-10)، شاہد رضا (پی پی-28)، چوہدری اعجاز احمد (پی پی-34)، وقار احمد چیمہ (پی پی-35)، محمد نواز چوہان (پی پی-62)، منصور اعظم (پی پی-72)، سردار محمد عاصم شیر مکن (پی پی-80)، محمد آصف ملک (پی پی-82 )، علی حسین خان (پی پی-83 )،
جعفر علی ہوچہ (پی پی-102)، عارف محمود گل (پی پی-104)، جاوید نیاز منج (پی پی-107)، محمد طاہر پرویز (پی پی-115)، مہر محمد نواز (پی پی-126)، میاں محمد آصف (پی پی-129)، محمد کاشف (پی پی-134)، خرم اعجاز (پی پی-137)، رانا طاہر اقبال (پی پی-139)، ملک غلام حبیب اعوان (پی پی-154)، امتیاز محمود (پی پی-155)، رانا سکندر حیات (پی پی-183)، علی عباس (پی پی-189)، میاں محمد منیر (پی پی-191)، عمران اکرم (پی پی-195)، رانا ریاض احمد (پی پی-202)، اسامہ فضل (پی پی-206)، امیر حیات ہراج (پی پی-207)، رانا محمد سلیم (پی پی-211)، نوابزادہ وسیم خان بدوزئی (پی پی-214)، محمد معین الدین ریاض (پی پی-215)، محمد عدنان ڈوگر (پی پی-216 )، محمد اقبال (پی پی-220)، محمد علی رضا خان خاکوانی (پی پی-236 )، کاشف نوید (PP-242)، میاں علمدار عباس قریشی (PP-269)، محمد عون حمید (PP-271)، رانا عبد المنان ساجد (PP-272)، محمد داؤد خان (PP-273)، محمد سبطین رضا (PP-274)، غلام اصغر خان (پی پی-283)، صلاح الدین خان (پی پی-286)،
سردار شیر افغان گورچانی (پی پی-292) اور سردار پرویز اقبال گورچانی (پی پی-294) شامل ہیں۔ خواتین اور غیر مسلموں کی مخصوص نشستوں پر معطل ارکان میں طاہرہ نون، روبینہ نذیر، تشفین صفدر، ایمانوئل اَتھر اور طارق مسیح شامل ہیں۔سندھ اسمبلی کے 33 معطل ارکان میں عبدالرؤف کھوسہ (پی ایس-4 )، آغا شہباز علی درانی (پی ایس-9)، نوابزادہ برہان چانڈیو (پی ایس-17)، سید اویس قادر شاہ (پی ایس-23)، سید قائم علی شاہ (پی ایس-26)، شیراز شوکت راجپر (پی ایس-29)، نعیم احمد کھرل (پی ایس-30)، ممتاز علی (پی ایس-34)، بہادر خان دھاری (پی ایس-39)، غلام دستگیر (پی ایس-40 )، علی حسن (پی ایس-41 )، جام شبیر علی خان (پی ایس-42)، پارس ڈیرو (پی ایس-43)، طارق علی (پی ایس-48)، محمد تیمور تالپور (پی ایس-51)، جام خان شورو (پی ایس-60)،
زبیر احمد جونیجو (پی ایس-80)، اعجاز خان (پی ایس-88)، سعید غنی (پی ایس-105)، لیاقت علی عسکانی (پی ایس-111)، اعجاز الحق (پی ایس-121)، سید عادل عسکری (پی ایس-125) اور حافظ نعیم الرحمن خان (پی ایس-129 ) شامل ہیں۔ خواتین کی مخصوص نشستوں پر رخسانہ پروین، سائمہ آغا، رومہ صباحت، ملیحہ منظور، شازیہ عمر، فرح سہیل اور فوزیہ کوثر جبکہ غیر مسلم نشستوں پر ہمیر سنگھ، مکیش کمار چاولہ اور کھٹومل شامل ہیں۔الیکشن کمیشن کے مطابق تمام معطل ارکان اثاثہ جات اور واجبات کی تفصیلات جمع کرانے کے بعد ہی دوبارہ بطور رکن اسمبلی فرائض انجام دے سکیں گے۔








