پاکستان کرکٹ ٹیم کے پہلے کپتان اور بین الاقوامی کرکٹر عبد الحفیظ کاردار کی سالگرہ ہفتہ کو منائی گئی

اسلام آباد۔17جنوری (اے پی پی):پاکستان کرکٹ ٹیم کے پہلے کپتان اور بین الاقوامی کرکٹر عبد الحفیظ کاردار کی سالگرہ ہفتہ 17 جنوری کو منائی گئی۔ انھوں نے نہ صرف پاکستانی کرکٹ کی بنیاد رکھی اور اسے انتہائی قلیل مدت میں پروان چڑھایا اور بین الاقوامی سطح پر متعارف کرایا۔عبد الحفیظ کاردار کو یہ منفرد اعزاز بھی حاصل ہے کہ انھوں نے غیر منقسم بھارت میں انگلینڈ کے دورے پر بھارتی …

اسلام آباد۔17جنوری (اے پی پی):پاکستان کرکٹ ٹیم کے پہلے کپتان اور بین الاقوامی کرکٹر عبد الحفیظ کاردار کی سالگرہ ہفتہ 17 جنوری کو منائی گئی۔ انھوں نے نہ صرف پاکستانی کرکٹ کی بنیاد رکھی اور اسے انتہائی قلیل مدت میں پروان چڑھایا اور بین الاقوامی سطح پر متعارف کرایا۔عبد الحفیظ کاردار کو یہ منفرد اعزاز بھی حاصل ہے کہ انھوں نے غیر منقسم بھارت میں انگلینڈ کے دورے پر بھارتی ٹیم کی قیادت کی۔ اس کے علاوہ انھیں آکسفورڈ بلیو اور واروِک شائر کا نمایاں کھلاڑی ہونے کا بھی اعزاز حاصل ہے۔بابائے پاکستان کرکٹ عبد الحفیظ کاردار لاہور کے مشہور محلے اندرون بھاٹی گیٹ میں 17جنوری 1925کو پیدا ہوئے۔انھوں نے میٹرک کا امتحان اسلامیہ ہائی سکول جبکہ انٹردیال سنگھ کالج اور بی اے کاامتحان اسلامیہ کالج سے پاس کیا۔ ان کو کرکٹ کا شوق بچپن ہی سے تھا۔

ابتدا انہیں خواجہ سعیداحمد جیسے عظیم کرکٹ کھلاڑی کی سرپرستی حاصل ہوئی جو اس سے پہلے نذر محمد ،گل محمد ،امتیاز احمد جیسے نامور کرکٹ کھلاڑی قومی سطح پر متعارف کرواچکے تھے۔عبد الحفیظ کاردار بائیں ہاتھ سے میڈیم پیس باولنگ اور جارحانہ بیٹنگ کرتے تھے۔ رانجی ٹرافی میں ناردرن انڈیا کرکٹ ایسوسی ایشن کی طرف سے حصہ لیااور کامیاب کھلاڑیوں میں شمار کیے گئے۔ پنجاب یونیورسٹی کرکٹ ٹیم کی قیادت کے بعد آپ 1946 میں نواب آف پٹودی کی کپتانی میں آل انڈیا کرکٹ ٹیم میں منتخب کرلیے گئے جو انگلستان کے دورے پر جارہی تھی،اس دورے میں آپ کا شمار بہترین کھلاڑیوں میں کیا گیا۔

بعد ازاں مزید حصول تعلیم کے لیے عبدالحفیظ کاردار نے آکسفورڈ یونیورسٹی میں داخلہ لیا۔عبد الحفیظ کارداد کی شہرت اگرچہ کرکٹ کے حوالے سے ہےلیکن انھوں نے کرکٹ کے ساتھ ساتھ رگبی، فٹ بال، کراس کنٹری اور کشتی رانی میں بھی حصہ لیا اور ہر کھیل میں نمایاں پوزیشن حاصل کی۔ ان کو ایک مکمل سپورٹس مین قرار دیا جا سکتا ہے ۔آکسفورڈ یونیورسٹی سے فراغت کے بعد وہ دو سال تک انگلستان میں ہی وارکشائر کائونٹی کی جانب سے کرکٹ کھیلتے رہے۔قیام پاکستان کے چند سال بعد وہ پاکستان لوٹ آئے اور ایک آئل کمپنی میں ملازمت اختیار کرلی۔ اس زمانے میں پاکستان کرکٹ بورڈ کے چیئرمین جسٹس کارنیلیس تھے، ان کی طرف سےعبد الحفیظ کاردار کو پاکستان کرکٹ ٹیم کی کپتانی کی پیش کش ہوئی کیونکہ نومبر دسمبر 1951سے ایم سی سی کی کرکٹ ٹیم پاکستان کے دورے پر آرہی تھی۔

انہوں نے پیشکش قبول کرتے ہوئے ایم سی سی کے خلاف پہلا میچ لاہور میں کھیلا جو ہارجیت کا فیصلہ ہوئے بغیر ختم ہو گیا جبکہ کراچی ٹیسٹ میں کاردار کی قیادت میں ایم سی سی ٹیم کو شکست کا سامنا کرنا پڑا۔برصغیر پاک و ہند میں یہ ایم سی سی ٹیم کی پہلی شکست تھی۔اس سے پاکستانی ٹیم کو ٹیسٹ کرکٹ کا درجہ ملنے پر غور ہوا اور بعد ازاں ایشیا میں بھارت کے بعد پاکستان کی ٹیم ٹیسٹ سٹیس کا درجہ رکھنے والی دوسری ٹیم بن گئی۔عبد الحفیظ کاردار نے اپنا پہلا ٹیسٹ بھارت کی جانب سے 1946کے دورہ انگلستان میں کھیلا تھا اور اس سیریز کے بعد وہ بھارت واپس آنے کی بجائے آکسفرڈ یونیورسٹی میں تعلیم حاصل کرنے کے لیے انگلستان ہی میں ٹھہر گئے اور اس دوران اپنی کرکٹ کو بھی جاری رکھا۔

اس دوران واروکشائر کاؤنٹی نے آپ سے معاہدہ کر لیا تقسیم ہند کے بعد عبد الحفیظ کاردار نے بھارت کی بجائے پاکستان کو اپنا وطن منتخب کیا۔ عبد الحفیظ کاردار 1952میں بیرون ملک کا پہلا دورہ کرنے والے پاکستانی دستے کے قائد تھے۔عبد الحفیظ کاردار کے کیریئرکی دوسری یادگار جیت 1954ء میں دورۂ انگلستان میں اوول ٹیسٹ کی فتح تھی۔1952ء میں حفیظ کاردار کی قیادت میں ہی پاکستانی کرکٹ ٹیم نے بھارت کادورہ کیا اس دورے میں کاردار نے 416 رنز بنائے اور 13وکٹیں حاصل کیں۔1954میں انگلستان کے دورے کے دوران اوول میں آپ ہی کی قیادت میں انگلستان کی ٹیم کو شکست کا سامنا کرنا پڑا پھر یکے بعد دیگرے بھارتی کرکٹ ٹیم ، نیوزی لینڈاور آسٹریلیا کی ٹیموں کے خلاف کھیلتے ہوئے نہ صرف کامیابی حاصل کی بلکہ ان کی اپنی آل رائونڈ کارکردگی بھی سب سے نمایاں رہی۔1957-58ء میں ویسٹ انڈیز کے مقابلے میں پاکستان کو شکست ہوئی لیکن کاردار کے 253 رنز یادگار حیثیت اختیار کر گئے۔

اس سیریز میں کاردار اور وزیر محمد کی چھٹی وکٹ کی شراکت 168رنز رہی۔یہ ریکارڈ 2000ء میں ویسٹ انڈیز ہی کے خلاف کھیلتے ہوئے انضمام الحق اور عبد الرزاق نے توڑا اس دورے میں انھیں انگلی پر شدید چوٹ آئی لیکن ڈاکٹروں کی ہدایت کی پروا نہ کرتے ہوئے پاکستان کی عزت و وقار کو مدنظر رکھ کر انھوں نے 37 اوورز کیے اور 57 رنز بنائے۔۔1958 تک حفیظ کاردار نے پاکستانی کرکٹ ٹیم کو ایک مضبوط ٹیم کے طور پر مستحکم بنیادوں پر استوار کیا اس طرح پہلے 23 ٹیسٹوں میں عبد الحفیظ کاردار نے قومی ٹیم کی کامیاب قیادت کی کاردار ہی کی زیر قیادت پاکستان نے 1955 میں نیوزی لینڈ کو اپنے میدانوں میں سیریز میں شکست دی اور پھر 1956میں آسٹریلیا کے خلاف واحد ٹیسٹ میں کامیابی سمیٹی۔

ان کا آخری دورہ ویسٹ انڈیز کا تھا جو 1958ء میں کیا گیا اور عبد الحفیظ کاردار کے آخری ٹیسٹ میں پاکستان نے ویسٹ انڈیز جیسے سخت حریف کو ایک اننگز اور ایک رن کے فرق سے شکست دی۔ 26 ٹیسٹ مقابلوں پر محیط اپنے دور میں عبد الحفیظ کارداد نے 23 مقابلوں میں پاکستان اور 3 مقابلوں میں بھارت کی نمائندگی کی۔ان کی قیادت کے دور میں پاکستان نے 23 ٹیسٹ میچوں میں6 میچ جیتے، 6 ہارے اور 6 میچ برابر رہے۔عبد الحفیظ کاردار نے دست آہن کے ساتھ پاکستانی ٹیم کی قیادت کی۔

کرکٹ سے ریٹائرمنٹ کے بعد عبد الحفیظ کاردار نے سیاست میں بھی بڑھ چڑھ کر حصہ لیا اور ایک مرتبہ پاکستان پیپلز پارٹی کے ٹکٹ پر رکن پنجاب صوبائی اسمبلی بھی منتخب ہوئے اور صوبائی کابینہ میں وزیر خوراک، کواپریٹو، تعلیم ،پلاننگ اینڈ ڈویلپمنٹ اور محکمہ صنعت رہے۔ان کاایک اور کارنامہ امپریل کرکٹ کانفرنس کانام تبدیل کرکے انٹر نیشنل کرکٹ کانفرنس رکھنے کی تجویز دینا تھا۔ آئی سی سی کی میٹنگ کے دوران پہلے سری لنکا کو ٹیسٹ پھر بنگلہ دیش کو ایسوسی ایٹ ممبر کا درجہ دلایا۔ وہ 1972میں پاکستان کرکٹ بورڈ سے وابستہ ہوئے اور یہاں تک کہ اس کے سربراہ بھی بن گئے۔

انھوں نے انٹرنیشنل کرکٹ کونسل میں ایشیائی اور افریقی ممالک کی کرکٹ ٹیموں کو زیادہ سے زیادہ نمائندگی دلانے کے لیے بہترین کاوشیں کیں۔ کرکٹ اور سیاست دونوں کو خیرباد کہنے کے بعد انھیں سفارت کاری کے میدان میں بھی ایک اعلیٰ مقام ملا جس کے نتیجے میں وہ سوئٹزر لینڈمیں پاکستان کے سفیر بنا دیے گئے۔ علمی اور سماجی بھلائی کے کاموں میں بھی عبد الحفیظ کاردار کو بڑی گہری دلچسپی تھی۔

چنانچہ ان دونوں شعبوں میں بھی انھوں نے ناقابل فراموش خدمات انجام دیں۔2019 میں عبد الحفیظ کاردار کی 94ویں سالگرہ پر انھیں گوگل ڈوڈل کے طور پر دکھایا گیا تھا۔عبد الحفیظ کاردار کو 1958میں پرائیڈ آف پرفارمنس ایوارڈ اور 2012ء میں، انھیں پاکستان کی کرکٹ میں خدمات کے اعتراف میں بعد از مرگ ہلال امتیاز سے نوازا گیا۔ عبد الحفیظ کاردار ایک علمی شغف رکھنے والی شخصیت بھی تھے جنھوں نے کرکٹ اور سیاسی موضوعات پر درجن کے لگ بھگ کتابیں تحریر کیں۔

پاکستان کرکٹ کو ترقی اور کامرانی کی منازل تک پہنچانے والے عبد الحفیظ کاردار 21 اپریل 1996کو لاہور میں دنیا فانی سے رخصت ہو گئے اور میانی صاحب قبرستان لاہور میں آسودہ خاک ہوئے ۔ عبد الحفیظ کاردار کی سالگرہ کے موقع پر ان کی خدمات کے اعتراف میں انہیں خراج عقیدت پیش کیا گیا۔