اقوامِ متحدہ میں بچوں کے حقوق پر پاکستان کا جائزہ؛ اسلام آباد میں براہِ راست اسکریننگ کا انعقاد

اسلام آباد۔17جنوری (اے پی پی):جسٹس پراجیکٹ پاکستان (جے پی پی) نے نیشنل کمیشن فار ہیومن رائٹس (این سی ایچ آر) اور دیگر شراکت داروں کے تعاون سے اقوامِ متحدہ کی کمیٹی برائے حقوقِ اطفال کے سامنےپاکستان کے جائزے کی براہِ راست اسکریننگ کا اہتمام کیا۔ جنیوا میں ہونے والے اس اہم اجلاس کو اسلام آباد میں سفارت کاروں، انسانی حقوق کے علمبرداروں اور پالیسی سازوں نے براہِ راست دیکھا۔ تقریب …

اسلام آباد۔17جنوری (اے پی پی):جسٹس پراجیکٹ پاکستان (جے پی پی) نے نیشنل کمیشن فار ہیومن رائٹس (این سی ایچ آر) اور دیگر شراکت داروں کے تعاون سے اقوامِ متحدہ کی کمیٹی برائے حقوقِ اطفال کے سامنےپاکستان کے جائزے کی براہِ راست اسکریننگ کا اہتمام کیا۔ جنیوا میں ہونے والے اس اہم اجلاس کو اسلام آباد میں سفارت کاروں، انسانی حقوق کے علمبرداروں اور پالیسی سازوں نے براہِ راست دیکھا۔

تقریب کے دوران لیگل ایڈ اینڈ جسٹس اتھارٹی کے ڈائریکٹر جنرل عادل انور نے بتایا کہ ‘لیگل ایڈ اینڈ جسٹس ایکٹ’ کے تحت نئے رولز منظور کر لیے گئے ہیں۔ ان قواعد کے تحت اب ریاست تمام ضرورت مند پاکستانیوں کو مفت قانونی امداد فراہم کرے گی، جس سے بچوں کے لیے منصفانہ ٹرائل کے حقوق (آرٹیکل 40) کو یقینی بنایا جا سکے گا۔ریاستی وفد نےجنیوا میں شرکت کی،جنیوا میں پاکستان کے وفد کی قیادت وزیرِ مملکت برائے قانون و انصاف بیرسٹر عقیل ملک نے کی۔وفد نے دو روز تک کمیٹی کے سامنے چائلڈ لیبر، بچوں کی اسمگلنگ، تعلیم اور صحت تک رسائی جیسے اہم موضوعات پر جوابات دیئے۔

کمیٹی اب اس جائزے کی روشنی میں پاکستان کے لیے آئندہ دس سال کی ترجیحات اور سفارشات طے کرے گی۔ شفیق چوہدری نے کہا کہ پاکستان کا آئین بچوں کو حقوق کی ضمانت دیتا ہے، مگر اصل چیلنج ان قوانین پر سختی سے عملدرآمد کروانا ہے۔ویلری خان (ماہرِ حقوقِ اطفال)نے زور دیا کہ یہ عمل صرف حکومت ہی نہیں بلکہ عدلیہ اور مقننہ کے احتساب کا بھی ذریعہ ہے۔

پاکستان نے 1990 میں بچوں کے حقوق کے عالمی کنونشن کی توثیق کی تھی، جس کے تحت وہ اپنے قوانین کو بین الاقوامی معیار کے مطابق ڈھالنے کا پابند ہے۔ جسٹس پراجیکٹ پاکستان (جے پی پی) کے مطابق اس طرح کی اسکریننگ کا مقصد عالمی سطح پر ہونے والی جوابدہی کے عمل کو عام عوام تک پہنچانا اور ملکی سطح پر اصلاحات کی راہ ہموار کرنا ہے۔