لاہور۔18جنوری (اے پی پی):پاکستان فرنیچر کونسل کے سی ای او میاں کاشف اشفاق نے پرانی و روایتی برآمدی منڈیوں کے ساتھ ساتھ برآمدات کوافریقہ، لاطینی امریکا اور جنوب مشرقی ایشیاء تک متنوع بنانے اور نئے تجارتی معاہدوں کی ضرورت پر زور دیا ہے۔ اتوار کو یہاں بورڈ آف ڈائریکٹرز کے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ تیزی سے فروغ پذیر فرنیچر انڈسٹری سمیت تمام برآمدی شعبوں کو …
برآمدی منڈیوں کوافریقہ، لاطینی امریکا و جنوب مشرقی ایشیا تک متنوع بنانے کی ضرورت ہے، میاں کاشف

مزید خبریں
لاہور۔18جنوری (اے پی پی):پاکستان فرنیچر کونسل کے سی ای او میاں کاشف اشفاق نے پرانی و روایتی برآمدی منڈیوں کے ساتھ ساتھ برآمدات کوافریقہ، لاطینی امریکا اور جنوب مشرقی ایشیاء تک متنوع بنانے اور نئے تجارتی معاہدوں کی ضرورت پر زور دیا ہے۔ اتوار کو یہاں بورڈ آف ڈائریکٹرز کے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ تیزی سے فروغ پذیر فرنیچر انڈسٹری سمیت تمام برآمدی شعبوں کو عالمی غیر یقینی صورتحال سے بچانے کے لیے ہمیں اپنی رسائی کو غیر روایتی منڈیوں تک وسیع کرنا چاہیے۔میاں کاشف نے کہاکہ غیر مستحکم علاقائی حرکیات، تجارتی رکاوٹوں اور بدلتے ہوئے عالمی اتحادوں نے افریقہ اور وسطی ایشیاء کی نئی مارکیٹوں کی اہمیت کو اجاگر کیا ہے۔
انہوں نے پالیسی سازوں پر زور دیا کہ وہ جوائنٹ وینچرز کے ذریعے ایک جارحانہ برآمدی حکمت عملی ترتیب دیں۔اس سے دیگر معیشتوں کے ساتھ کاروباری روابط کو مضبوط بنانے سے پاکستانی برآمد کنندگان کو طویل مدتی شراکت داریوں میں مدد ملے گی۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان کو ریڈی میڈ ملبوسات، پراسیس شدہ زرعی سامان، کیمیکلز، انجینئرنگ مصنوعات اور آئی ٹی خدمات پر توجہ دینے کی ضرورت ہے، اس سے جدت، روزگار کے مواقع، سپلائی چین اور عالمی مسابقت میں بہتری آئے گی۔ انہوں نے کہا کہ برآمد کنندگان کو درپیش مسائل ٹیکس ریفنڈ میں تاخیر، مالیاتی رکاوٹوں، بوجھل ریگولیشنز کا خاتمہ اور ایکسپورٹ فنانسنگ اسکیم تک قابل عمل رسائی ضروری ہے۔اسی طرح بیوروکریٹک رکاوٹوں کو بھی دور کیا جانا اور برآمدی بنیادی ڈھانچہ قابل اعتماد و کاروبار دوست ہونا چاہیے۔








