غذائی درآمدات میں کمی کیلئے دال،چائے،سویابین وگنے کی کاشت بڑھانے کی ضرورت ہے، شاہد عمران

لاہور۔18جنوری (اے پی پی):فیڈریشن آف پاکستان چیمبرز آف کامرس اینڈ انڈسٹری کے فوڈ ریجنل کمیٹی کے کنوینئر شاہد عمران نے کہا ہے کہ پاکستان زیادہ زرعی رقبہ دالوں،چائے، سویابین اور گنے کی کاشت کے لیے استعمال کرکے بڑا زرمبادلہ بچا سکتا ہے۔ اتوار کو یہاں فوڈ درآمد کنندگان اور برآمد کنندگان کے وفد سے بات کرتے ہوئے انہوں نے بتایا کہ موجودہ مالی سال کے پہلے چار ماہ میں پاکستان …

لاہور۔18جنوری (اے پی پی):فیڈریشن آف پاکستان چیمبرز آف کامرس اینڈ انڈسٹری کے فوڈ ریجنل کمیٹی کے کنوینئر شاہد عمران نے کہا ہے کہ پاکستان زیادہ زرعی رقبہ دالوں،چائے، سویابین اور گنے کی کاشت کے لیے استعمال کرکے بڑا زرمبادلہ بچا سکتا ہے۔ اتوار کو یہاں فوڈ درآمد کنندگان اور برآمد کنندگان کے وفد سے بات کرتے ہوئے انہوں نے بتایا کہ موجودہ مالی سال کے پہلے چار ماہ میں پاکستان کا فوڈ امپورٹ بل 3.075 ارب ڈالر تک پہنچ گیا، جو گزشتہ سال کے اسی عرصے کے 2.340 ارب ڈالر سے 31.38 فیصد زیادہ ہے۔

انہوں نے کہاکہ یہ اضافہ چینی، خوردنی تیل اور چائے کی درآمدات میں اضافے کی وجہ سے ہوا ہے، جس سے ملکی طلب پوری کی جا رہی ہے۔ شاہد عمران نے کہا کہ دالوں کی پیداوار بڑھانے سے درآمدات پر انحصار کم اور زمین کی زرخیزی میں بھی اضافہ ہوگا۔ اسی طرح شمالی اور پہاڑی علاقوں میں چائے کی کاشت درآمد شدہ چائے کی جگہ لے سکتی ہے جبکہ سویابین خوردنی تیل اور مویشیوں کے چارے کی ضروریات پوری کرنے میں مدد دے گی، گنے کی پیداوار میں اضافہ بھی چینی کی درآمدات کم کرنے میں مددگار ثابت ہوگا۔

ان کا کہنا تھا کہ اسٹریٹجک فصلوں کی تقسیم، کسانوں کے لیے مراعات، معیاری بیج اور پانی کی بچت کے جدید طریقے پیداوار بڑھانے میں اہم کردار ادا کریں گے۔ زرعی ویلیو چینز اور تحقیقاتی معاونت مضبوط بنانے سے نہ صرف زرِ مبادلہ کی بچت ہوگی بلکہ دیہی روزگار میں اضافہ، خوراک کی سلامتی اور پائیدار اقتصادی ترقی بھی ممکن ہوگی۔