چین وسطی ایشیائی ممالک کا سب سے بڑا تجارتی شراکت دار بن گیا

بیجنگ۔18جنوری (اے پی پی):چین کی وزارت تجارت نے کہا ہے کہ سال 2025 میں چین اور وسطی ایشیا کے درمیان اقتصادی اور تجارتی تعاون میں نمایاں پیش رفت حاصل ہوئی ہے اور چین وسطی ایشیائی ممالک کا سب سے بڑا تجارتی شراکت دار بن گیا ہے۔سی جی ٹی این کے مطابق چائنا کسٹمز کے اعدادوشمار ظاہر کرتے ہیں کہ سال 2025 میں اشیا کی کل درآمد اور برآمد کا حجم …

بیجنگ۔18جنوری (اے پی پی):چین کی وزارت تجارت نے کہا ہے کہ سال 2025 میں چین اور وسطی ایشیا کے درمیان اقتصادی اور تجارتی تعاون میں نمایاں پیش رفت حاصل ہوئی ہے اور چین وسطی ایشیائی ممالک کا سب سے بڑا تجارتی شراکت دار بن گیا ہے۔سی جی ٹی این کے مطابق چائنا کسٹمز کے اعدادوشمار ظاہر کرتے ہیں کہ سال 2025 میں اشیا کی کل درآمد اور برآمد کا حجم 106.3 بلین یو ایس ڈالر تک پہنچا جو کہ سال بہ سال 12 فیصد کا اضافہ ہے ۔رپورٹ کے مطابق چین اور وسطی ایشیا کے درمیان درآمدات اور برآمدات کی کل مالیت نے تاریخ میں پہلی بار 100 بلین یو ایس ڈالر سے تجاوز کیا ہے جو مسلسل پانچ سالوں سے مثبت ترقی کو برقرار رکھے ہوئے ہے۔

چینی وزارت تجارت کے مطابق پہلی بار چین وسطی ایشیائی ممالک کا سب سے بڑا تجارتی شراکت دار بنا ہے اور چین کی بیرونی تجارت میں وسطی ایشیا کا حصہ مزید بڑھ گیا ہے۔اگلے مرحلے میں وزارت تجارت چین وسطی ایشیا سربراہی اجلاس کے اہم نتائج کو مکمل طور پر نافذ کرے گی، اقتصادی اور تجارتی تعاون کے معیار اور کارکردگی کو بہتر بنانے کی کوشش کرے گی، تجارتی ڈھانچے کو بہتر بنائے گی، تجارت اور سرمایہ کاری کی مربوط ترقی کو فروغ دے گی تاکہ چین وسطی ایشیا کے ہم نصیب معاشرے کی اقتصادی و تجارتی گہرائی میں مزید اضافہ ہو ۔