حکومت کی بنیادی ذمہ داری اختراعات کو آسان بنانا اور ابھرتی ہوئی ٹیکنالوجیز کے لیے سازگار ماحول پیدا کرنا ہے، خرم شہزاد

اسلام آباد/ لاہور۔18جنوری (اے پی پی):وفاقی وزیر خزانہ کے مشیر خرم شہزاد نےڈیجیٹل معیشت میں حکومت کے ابھرتے ہوئے کردار پر زور دیتے ہوئے کہا ہے کہ حکومت کی بنیادی ذمہ داری اختراعات کو آسان بنانا اور ابھرتی ہوئی ٹیکنالوجیز کے لیے سازگار ماحول پیدا کرنا ہے۔ ان خیالات کا اظہارانہوں نے اتوار کو 27ویں آئی ٹی سی این ایشیا میں "ٹوکنائزنگ دی سوورین ایسٹس-لیکویڈیٹی ریڈی" کے حوالہ سے منعقدہ …

اسلام آباد/ لاہور۔18جنوری (اے پی پی):وفاقی وزیر خزانہ کے مشیر خرم شہزاد نےڈیجیٹل معیشت میں حکومت کے ابھرتے ہوئے کردار پر زور دیتے ہوئے کہا ہے کہ حکومت کی بنیادی ذمہ داری اختراعات کو آسان بنانا اور ابھرتی ہوئی ٹیکنالوجیز کے لیے سازگار ماحول پیدا کرنا ہے۔ ان خیالات کا اظہارانہوں نے اتوار کو 27ویں آئی ٹی سی این ایشیا میں "ٹوکنائزنگ دی سوورین ایسٹس-لیکویڈیٹی ریڈی” کے حوالہ سے منعقدہ تقریب سے خطاب کے دوران کیا۔

وزارت خزانہ کی جانب سے جاری اعلامیہ کے مطابق انہوں نے کہا کہ حکومت نوجوانوں کو بااختیار بنانے کی پالیسیوں اور خاص طور پر جدید مالیاتی اور ڈیجیٹل شعبوں میں نئے مواقع پیدا کرنے کیلئے فعال طور پر کام کر رہی ہے ۔عالمی سیاق و سباق پر روشنی ڈالتے ہوئے انہوں نے کہا کہ بٹ کوائن کی عالمی سطح پر تقریباً 21 ملین کی سپلائی ہے جو ڈیجیٹل اثاثوں کو آج کے مالیاتی منظر نامے میں ایک اہم بحث کا درجہ دیتی ہے۔

خرم شہزاد نےکہا کہ رپورٹس کے مطابق پاکستان میں بٹ کوائن/کرپٹو مائننگ پہلے سے ہی ہو رہی ہے جو کرپٹو سے متعلقہ ٹیکنالوجیز کے ساتھ بڑھتی ہوئی مقامی سرگرمیوں کی نشاندہی کرتی ہے۔ انہوں نے یہ بھی بتایا کہ وزارت خزانہ، حکومت پاکستان نے پہلے مرحلے میں 2 بلین ڈالر مالیت کے اپنے گھریلو قرضوں کے کچھ حصے کو ٹوکنائز کرنے کا بھی منصوبہ بنایا ہے۔

ریگولیٹری اور ادارہ جاتی پیش رفت پر تبادلہ خیال کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ایک وقف فریم ورک یا اتھارٹی بنانے کے پیچھے خیال کرپٹو اثاثوں کو ریگولیٹ کرنے اور سمجھنے سے منسلک ہے،انہوں تسلیم کیا کہ پاکستان ابھی بھی اس شعبے میں ابتدائی مرحلے پر ہے۔ انہوں نے متحدہ عرب امارات کی مثال پیش کی، جس نے پہلے ہی ورچوئل اثاثوں کے لیے منظم طریقہ کار قائم کر رکھا ہے اور اس بات پر زور دیا کہ پاکستان اس ڈومین میں سیکھ رہا ہے اور احتیاط سے آگے بڑھ رہا ہے۔

سیشن کا اختتام متوازن پالیسی سازی کی اہمیت، اختراع کے لیے دوستانہ ضوابط، اور عالمی بہترین طریقوں پر بحث کے ساتھ ہوا تاکہ اس بات کو یقینی بنایا جا سکے کہ پاکستان ڈیجیٹل اور خودمختار اثاثہ ٹوکنائزیشن میں ذمہ داری سے مواقع تلاش کر سکتا ہے۔

مزید خبریں