اپوزیشن لیڈر محمود خان اچکزئی سیاسی وفاداری پر ملکی مفاد کو ترجیح دیں، مثبت اپوزیشن کا کردار ادا کریں ، کھیئل داس کوہستانی

اسلام آباد۔18جنوری (اے پی پی):وزیر مملکت برائے مذہبی امور کھیئل داس کوہستانی نے اپوزیشن لیڈر محمود خان اچکزئی سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ آئینی فریم ورک کے تحت مذاکرات میں فعال کردار ادا کریں، این ایف سی سے متعلق اصلاحات تمام اپوزیشن جماعتوں خصوصاً پیپلز پارٹی کی حمایت سے ہی متعارف کرائی جا سکتی ہیں۔ اتوار کو ایک مقامی نیوز چینل سے گفتگو کرتے ہوئے وزیر مملکت نے کہا …

اسلام آباد۔18جنوری (اے پی پی):وزیر مملکت برائے مذہبی امور کھیئل داس کوہستانی نے اپوزیشن لیڈر محمود خان اچکزئی سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ آئینی فریم ورک کے تحت مذاکرات میں فعال کردار ادا کریں، این ایف سی سے متعلق اصلاحات تمام اپوزیشن جماعتوں خصوصاً پیپلز پارٹی کی حمایت سے ہی متعارف کرائی جا سکتی ہیں۔ اتوار کو ایک مقامی نیوز چینل سے گفتگو کرتے ہوئے وزیر مملکت نے کہا کہ اپوزیشن لیڈر محمود خان اچکزئی کو بانی پی ٹی آئی سے ذاتی وفاداری سے بڑھ کر ملک کی فلاح و بہبود کے لیے تعمیری کردار ادا کرنا چاہیے۔

وزیر مملکت نے مزید زور دیا کہ محمود اچکزئی کو قوم کو درپیش حقیقی مسائل پر توجہ مرکوز کرنے کی ضرورت ہے جس کے لیے تمام فریقین سے تعاون اور اتفاق رائے کی ضرورت ہے۔انہوں نے قوم کے مفادات کو اولیت دینے اور بات چیت اور اتفاق رائے کے لیے مثبت کردار ادا کرنے کی اہمیت پر زور دیا۔

انہوں نے مزید کہا کہ وزیر اعظم محمد شہباز شریف نے واضح طور پر مذاکرات کی پیشکش کی ہے لیکن اگر پی ٹی آئی اور محمود خان اچکزئی ، بانی پی ٹی آئی کی ہدایات پر عمل کرتے رہے اور اپنا نکتہ نظر واضح کرنے میں ناکام رہے تو مزید مذاکرات ممکن نہیں ہوں گے۔ وزیر مملکت برائے مذہبی امور کھیئل داس کوہستانی نے زور دے کر کہا کہ بامعنی بات چیت کے لیے تمام فریقین کی جانب سے تعاون پر مبنی رویہ کی ضرورت ہوتی ہے۔

این ایف سی اور دیگر آئینی اصلاحات کے بارے میں بات کرتے ہوئے وزیر مملکت نے کہا کہ اس طرح کی اصلاحات اس وقت تک ممکن نہیں ہوں گی جب تک اپوزیشن جماعتیں، خاص طور پر پی پی پی ساتھ نہ ہوں۔انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ ہر پارٹی کو قائل کئے بغیر ان اہم اصلاحات کے ساتھ آگے بڑھنے کا کوئی راستہ نہیں ہے۔

انہوں نے مزید کہا کہ ایک بار جب تمام جماعتیں مکمل طور پر آن بورڈ ہو جائیں تو اصلاحات کو تعمیری اور ہم آہنگی کے ساتھ نافذ کیا جا سکتا ہے۔ وزیر مملکت برائے مذہبی امور کھیئل داس کوہستانی نے زور دیا کہ بامعنی آئینی تبدیلیوں کے لیے تعاون اور اتفاق رائے ضروری ہے۔

مزید خبریں