حکومت کو بجلی کی طلب میں کمی کی صورتحال کا ادراک ہے، حکومت مختلف اصلاحات کے ذریعے بجلی کی قیمتوں کو مزید کم کرنے کی کوششوں میں مصروف ہے، وفاقی وزیر سردار اویس احمد خان لغاری

اسلام آباد۔18جنوری (اے پی پی):وفاقی وزیر توانائی سردار اویس احمد خان لغاری نے نیپرا کی رپورٹ پر تحفظات کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ حکومت کو بجلی کی طلب میں کمی کی صورتحال کا ادراک ہے، حکومت مختلف اصلاحات کے ذریعے بجلی کی قیمتوں کو مزید کم کرنے کی کوششوں میں مصروف ہے، حکومت نے سرچارج سے موجودہ قرض کی مکمل ادائیگی کو ممکن بنایا،5سے6سالوں میں قرض کی مکمل …

اسلام آباد۔18جنوری (اے پی پی):وفاقی وزیر توانائی سردار اویس احمد خان لغاری نے نیپرا کی رپورٹ پر تحفظات کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ حکومت کو بجلی کی طلب میں کمی کی صورتحال کا ادراک ہے، حکومت مختلف اصلاحات کے ذریعے بجلی کی قیمتوں کو مزید کم کرنے کی کوششوں میں مصروف ہے، حکومت نے سرچارج سے موجودہ قرض کی مکمل ادائیگی کو ممکن بنایا،5سے6سالوں میں قرض کی مکمل ادئیگی ہوجائے گی

،جون 2023 تک کے الیکٹرک کی عدم ادائیگیوں سے سرکلر ڈیٹ میں 640 ارب روپے کا اضافہ ہوا،حکومت نے پہلی بار میرٹ پر فیصلے کرکے مستقبل کے 8000میگاواٹ کے مہنگے منصوبے ختم کئے، مستقبل کی سرپلس پاور کی فضول خرچی کو کم کیا ہے۔اتوار کو یہاں پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے وفاقی وزیر نے کہا کہ نیپرا کہتا ہے گردشی قرض میں کمی اصلاحات سے نہیں آئی یہ غلط ہے، ہم نے نقصانات کو 183ارب کم کیا، لیٹ پیمنٹ سرچارج 260اور اصلاحات سے 300ارب کا بوجھ کم کیا۔

اویس لغاری نےنیپرا کی رپورٹ پر تحفظات کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ ناکافی اعداد و شمار کی وجہ سے رپورٹ میں غلط فہمیاں پیدا ہوئیں، بجلی کے نقصانات صارفین کو منتقل نہیں ہوتے،40 ارب روپے کی اوور بلنگ کا بوجھ صارفین پر نہیں ڈالا گیا۔اُنہوں نے کہا کہ غیرضروری بجلی کا 17 ارب ڈالر کا بوجھ مکمل ختم کر دیا،سبسڈی سے ہونیوالے نقصانات حکومت برداشت کرتی ہے،اصلاحات لاکر مسائل کم کر رہے ہیں، ایک سال میں میٹر ریڈر کا اختیار عام آدمی کو دیا گیا،5سے 6 سال میں گردشی قرض کی مکمل ادائیگی ہوجائے گی۔

اویس لغاری نے کہا کہ نیپرا کی رپورٹ کو اگست 2025میں جاری ہونا چاہیے تھا اور ناکافی اعداد شمار کی وجہ سے رپورٹ سے غلط فہمیاں پیدا ہوئیں،رپورٹ پاور سیکٹر کے صحیح منظر نامے کو پیش کرنے میں ناکام ہوئی ہے،رپورٹ میں حکومت کی طرف سے مقر کردہ اہداف کو حاصل کرنے کی پذیرائی نہیں ملی۔وفاقی وزیر نے کہا کہ ہماری حکومت نے پہلی بار میرٹ پر فیصلے کرکے مستقبل کے 8000میگاواٹ کے مہنگے منصوبے ختم کئے، ان اقدامات کی بدولت ملک کو 17ارب ڈالر سے زائد بچت کا تخمینہ ہے۔

انہوں نے کہا کہ نیپرا کو ہماری ان کاوشوں کو سراہنا چاہئے تھا،نیپرا کا کمرشل بیس لوڈ شیڈنگ کو ریگولیٹری فریم ورک سے خارج قرار دیناغلط ہےجبکہ نیپراکی سرکلر ڈیٹ میں 780ارب روپے کمی بارے معلومات غلط ہیں، سرکلر ڈیٹ کے 780 ارب روپے کی کمی میں ڈسکوز کے 193 ارب کے نقصانات شامل ہیں،آئی پی پی سے کامیاب مذاکرات سے 260 ارب روپے کی کمی شامل ہے،میکرو اکنامک اشاروں میں بہتری سے300 ارب روپے کی شامل ہے،یہ تمام اعداد وشمار نیپرا کو فراہم کیے گئے ہیں تاہم اس سے بے خبری حیران کن ہے۔

وفاقی وزیر نے کہا کہ سرکلر ڈیٹ میں کوئی بھی اضافہ نہیں ہوا ہے،پہلی بار گزشتہ سال اس میں نمایاں کمی دیکھی گئی،سرکلر ڈیٹ 2.4 ٹریلین روپے سے کم ہو کر 1.6 ٹریلین روپے پر آ گیا،سرکلر ڈیٹ کے مکمل خاتمے کے 6 سالہ منصوبے پر عمل جاری ہے، نیپرا کو پچھلے سال کی نسبت وصولیوں میں اضافہ نظر نہ آنا حیران کن ہے۔ وفاقی وزیر نے کہا کہ مالی سال 2025 کے دوران ڈسکوز کی وصولیاں 92.4 فیصد سے بڑھ کر 96.6 فیصد ہو گئیں،وصولیوں میں فرق 315 ارب روپے سے کم ہو کر 2025 میں صرف 132 ارب روپے رہ گیا،وصولیوں کے فرق میں 183 ارب روپے کی کمی واقع ہوئی۔

انہوں نے کہا کہ نیپرا کی رپورٹ کو اگست 2025میں جاری ہونا چاہیے تھا اور ناکافی اعداد شمار کی وجہ سے رپورٹ سے غلط فہمیاں پیدا ہوئیں،2026 (جولائی تا دسمبر) کے پہلے 6 ماہ میں بھی مسلسل بہتری جاری ہے، گزشتہ سال کی اسی مدت کی بہ نسبت وصولیوں میں 43 ارب روپے کا اضافہ ہوا ہے،حکومتی محکموں سے وصولیوں کے لیے ایک مؤثر طریقہ کار نافذ کیا گیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ تصدیق شدہ بلوں کی وفاقی ایڈجسٹر کے ذریعے 25 فیصد کی شرح سے وصولیاں کی جا رہی ہیں۔

وفاقی وزیر نے کہا کہ حکومت پرعزم ہے کہ وہ ڈسکوز کی نااہلیوں میں بتدریج کمی لائے گی، جدید ترین سمارٹ فون ایپلیکیشن اپنا میٹر اپنی ریڈنگ اب تمام صارفین کیلیے دستیاب ہے،نیپرا کوبجلی صارفین کو 40 ارب روپے اور بلنگ کی مد میں واپسی پر ہمیں سر اہنا چاہیے تھا،ڈسکو زکی نا اہلی بجلی صارفین کو منتقل نہیں ہورہی، کمرشل نقصانات کی بنیاد پر لوڈمنیجمنٹ قومی بجلی پلان سے تصدیق شدہ ہے۔

وفاقی وزیر نے کہا کہ حکومت بجلی کے شعبے میں موئژ اور جامع ڈیجیٹلائزیشن کر رہی ہے،ان اقدامات سے ٹرانسفارمرز کی سطح پر لوڈمنیجمنٹ ممکن ہوسکے گی،نیپرا کی سمارٹ میٹر ز بارے معلومات میں کافی کمی ہے،اب تک 1.6 میلین سمارٹ میٹر ز نصب کیے جاچکے ہیں،ان سمارٹ میٹرز کی مواصلاتی دستیابی 90 فصد ہے،نیپرا کی میٹر ریڈنگ اور اوربلنگ سے متعلق معلومات بھی ناکافی ہے،بجلی صارفین کو اپنے میٹر کی خود ریڈنگ کا اختیار دیا جا چکا ہے۔

وفاقی وزیر نے کہا کہ قومی سطح پر بجلی کی قیمت میں واضع کمی آئی ہے،مارچ 2024 میں بجلی کی قومی اوسط 53.04 روپے فی یونٹ تھی،دسمبر 2025 میں بجلی کی قیمت 42.27 روپے فی یونٹ رہی، حکومت کو بجلی کی طلب میں کمی کی صورتحال کا ادراک ہے۔انہوں نے کہا کہ ڈیٹ سروس سرچارج کے الیکٹرک اور دیگر ڈسکوز پر سرکلر ڈیٹ بڑھنے کی ذمہ داری کے باعث عائد کیا گیا ہے،نیپرا ماضی میں بجلی کے پیداواری پلاننگ کو بغیر کسی مربوط سٹڈی کے اجازت دیتا چلا آیا ہے، وجوہات میں اقتصادی عوامل اور صارفین کا متبادل ذرائع کی طرف رجحان شامل ہیں۔

وفاقی وزیر نے کہا کہ حکومت مختلف اصلاحات کے ذریعے بجلی کی قیمتوں کو مزید کم کرنے کی کوششوں میں مصروف ہے،اقدامات میں تین سالہ اضافی مراعاتی پیکجز، ٹیرف کی دوبارہ بات چیت، اور قرضے کی ری فنانسنگ وغیرہ شامل ہیں،نیپرا کا ڈیٹ سروس سرچارج کے حوالے سے بھی موقف حقائق کے منافی ہے، یہ سرچارج آج نہیں لگا بلکہ سالہا سال سے چلا آرہا ہے۔وفاقی وزیر نے کہا کہ کے الیکٹرک نے بجلی کی ادائیگیاں بروقت نہ کرکے سرکلر ڈیٹ کے بڑھنے میں اپنا حصہ ڈالا ہے،جون 2023 تک کے الیکٹرک کی عدم ادائیگیوں سے سرکلر ڈیٹ میں 640 ارب روپے کا اضافہ ہوا،30 نومبر 2025 تک کے الیکٹرک کے ذمہ 300 ارب روپے سے زائد واجبات ہیں۔

وفاقی وزیرنے کہا کہ نیپرا نے کے الیکٹرک کو آسان ریگولیٹری ہدف دئیے ہیں،5 سالوں میں کے الیکٹرک نے 600 ارب روپے سے زیادہ کی سبسڈی لی ہے،یہ قومی خزانے اور ملک کے عوام پر اضافی بوجھ ہے۔ وفاقی وزیر نے کہا کہ آج جتنی بھی مہنگی بجلی کی پیداوار ہے اسمیں نیپرا کا سب سے بڑا کردار ہے، اس سرچارج سے صرف سودادائیگی ہوتی تھی،اصل قرض اسی طرح برقرا تھا،ہماری حکومت نے سرچارج سے موجودہ قرض کی مکمل ادائیگی کو ممکن بنایا۔

انہوں نے کہا کہ 5سے6سالوں میں قرض کی مکمل ادئیگی ہوجائے گی،سرچارج کے بلوں سے ختم ہونے کا انتظام کر دیا گیا ہے،نیپرا نےکےالیکٹرک کو سرکلر ڈیٹ کے بڑھنے میں ذمہ داری سے کلین چٹ دینا سراسر غلط ہے،ڈسکوز کی نااہلی سرکلر ڈیبٹ کا حصہ بھی نہیں بن رہی ہے،حکومت ان نا اہلیوں کو اپنے وسائل سے پورا کر رہی ہے۔وفاقی وزیر نے کہا کہ مستقبل میں اصلاحات کی بدولت ملک کے عوام پر 400 ارب روپے کے بوجھ میں کمی کا امکان ہے۔

وفاقی وزیر توانائی نے کہا کہ پاور سیکٹر میں 30 سے زائد اصلاحات کے مثبت اثرات سامنے آ نا شروع ہو گئے ہیں جن میں گردشی قرض میں نمایاں کمی، پاور سیکٹر میں بہتری ،پاور لوڈ ایڈجسٹمنٹ چارجز میں خاطر خواہ کمی،ٹرانسفارمرز اور فیڈرز کی اوور لوڈنگ میں بہتری ،ملازمین کے مہلک حادثات میں واضح کمی شامل ہیں۔ اویس لغاری نے کہا کہ پاور اور انرجی سیکٹر کو عالمی معیار پر لانے کا عزم عوامی تعاون کا طلبگار ہے۔

مزید خبریں