معروف صحافی، شاعر اور ادیب منو بھائی کی برسی پیر کو منائی گئی

اسلام آباد۔19جنوری (اے پی پی):معروف صحافی، شاعر اور ادیب منو بھائی کی برسی پیر 19 جنوری کو منائی گئی۔ ان کا اصل نام منیر احمد قریشی تھا اور وہ 6 فروری 1933کو وزیرآباد میں پیدا ہوئے۔ ان کے والد محمد عظیم قریشی ریلوے ملازم تھے جبکہ پنجابی کے معروف شاعر شریف کنجاہی ان کے ماموں تھے۔ 1947ء میں میٹرک کرنے کے بعد منو بھائی نے گورنمنٹ کالج اٹک سے گریجوایشن …

اسلام آباد۔19جنوری (اے پی پی):معروف صحافی، شاعر اور ادیب منو بھائی کی برسی پیر 19 جنوری کو منائی گئی۔ ان کا اصل نام منیر احمد قریشی تھا اور وہ 6 فروری 1933کو وزیرآباد میں پیدا ہوئے۔ ان کے والد محمد عظیم قریشی ریلوے ملازم تھے جبکہ پنجابی کے معروف شاعر شریف کنجاہی ان کے ماموں تھے۔ 1947ء میں میٹرک کرنے کے بعد منو بھائی نے گورنمنٹ کالج اٹک سے گریجوایشن کی ڈگری حاصل کی اور انہیں غلام جیلانی برق، پروفیسر عثمان اور مختار صدیقی جیسے اساتذہ سے مستفید ہونے کا موقع ملا۔

انہوں نے پنجابی شاعری کا اآغاز اسی دور میں کیا۔ منو بھائی مختلف اخبارات میں ادارتی عہدوں پر بھی فائز رہے جبکہ انہوں نے پاکستان ٹيلی وژن کیلئے بہت سے ڈرامے تحریر کئے ، ان کا سب سے مشہور ڈرامہ ’سونا چاندی‘ ہے جبکہ دیگر ڈراموں میں ’دشت‘ اور ’آشیانہ‘ بھی بہت مقبول ہوئے۔ منو بھائی نے شاعری کے ساتھ ساتھ ہزاروں کالم بھی لکھے۔ بطور حیثیت صحافی انہوں نے سیاست سے لے کر ثقافت کا قریب سے مشاہدہ کیا جس کی بنیاد پر ان کی شاعری میں حقیقت نگاری کا عنصر نمایاں ہے۔

منو بھائی کی مشہور تصانیف میں ’ محبت کی ایک سو نظمیں‘، ’جنگل اداس ہے‘ اور ’انسانی منظر نامہ‘ وغیرہ شامل ہیں۔منو بھائی نے تھیلی سیمیا میں مبتلا بچوں کیلئے سندس فاؤنڈیشن کی بنیاد رکھی اوی اس کے تاحیات چیئرمین رہے۔ سندس فائونڈیشن کی جانب سے خدمت خلق کا سلسلہ اآج بھی جاری ہے۔منو بھائی کو صحافت اور ادب میں نمایاں خدمات پر تمغہ برائے حسن کارکردگی سمیت مختلف قومی و بین الاقوامی ایوارڈز سے بھی نوازا گیا ۔

منو بھائی طویل علالت کے بعد 19 جنوری 2018کو 85 سال کی عمر میں لاہور میں انتقال کر گئے اور انہیں میانی صاحب قبرستان میں سپردخاک کیا گیا۔ منو بھائی کی بعسی کے موقع پر علمی و ادبی حلقوں اور صحافتی برادری سمیت ان کے چاہنے والوں نے بھر پور انداز میں خراج تحسین پیش کیا۔

 

مزید خبریں