اسلام آباد۔19جنوری (اے پی پی):پاکستان میں ملائیشیا کے ہائی کمشنر داتو محمد اظہر مزلان نے تجارت، سرمایہ کاری اور عوام سے عوام کے روابط کو وسعت دے کر پاکستان اور ملائیشیا کے اقتصادی تعلقات کو مزید مضبوط بنانے کی اہمیت پر زور دیا ہے۔پیر کے روز اسلام آباد چیمبر آف کامرس کی جانب سے جاری بیان کے مطابق ان خیالات کا اظہار انہوں نے اسلام آباد چیمبر آف کامرس اینڈ …
صدر آئی سی سی آئی سردار طاہر محمود کی ملائیشین ہائی کمشنر سے ملاقات، دوطرفہ تجارتی حجم کو 3 سے 4 بلین ڈالر تک بڑھانے کیلئے پرعزم

مزید خبریں
اسلام آباد۔19جنوری (اے پی پی):پاکستان میں ملائیشیا کے ہائی کمشنر داتو محمد اظہر مزلان نے تجارت، سرمایہ کاری اور عوام سے عوام کے روابط کو وسعت دے کر پاکستان اور ملائیشیا کے اقتصادی تعلقات کو مزید مضبوط بنانے کی اہمیت پر زور دیا ہے۔پیر کے روز اسلام آباد چیمبر آف کامرس کی جانب سے جاری بیان کے مطابق ان خیالات کا اظہار انہوں نے اسلام آباد چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری (آئی سی سی آئی) کے صدر سردار طاہر محمود کی سربراہی میں ایک وفد سے ملاقات کے دوران کیا جس نے پیر کو ملائیشین ہائی کمیشن میں ان سے ملاقات کی۔
آئی سی سی آئی کے وفد میں سینئر نائب صدر طاہر ایوب، نائب صدر عرفان چوہدری اور آئی سی سی آئی کی قائمہ کمیٹی برائے آسیان کے کنوینر چوہدری محمد علی شامل تھے۔ملائیشیا کے ہائی کمشنر نے بزنس ٹو بزنس لینکیجز کو فروغ دینے میں آئی سی سی آئی کے فعال کردار کو سراہا اور پاکستان کے ساتھ اقتصادی تعاون کو مزید مستحکم کرنے کے لیے ملائیشیا کے عزم کا اعادہ کیا۔ انہوں نے کہا کہ ملائیشیا ایک اہم اقتصادی شراکت دار کے طور پر پاکستان کو بہت اہمیت دیتا ہے۔
انہوں نے دونوں ممالک کے نجی شعبوں کے درمیان رابطوں کو بڑھانے کی ضرورت پر بھی زور دیا۔ انہوں نے اسلام آباد کی تاجر برادری کے ساتھ براہ راست بات چیت کے لیے جلد از جلد چیمبر کا دورہ کرنے پر بھی اتفاق کیا۔ دونوں فریقوں نے دوطرفہ تجارتی حجم کو 3 سے 4 بلین ڈالر تک بڑھانے کے لیے مشترکہ کوششیں کرنے پر بھی اتفاق کیا۔اس موقع پر خطاب کرتے ہوئے آئی سی سی آئی کے صدر سردار طاہر محمود نے پاکستان اور ملائیشیا کے درمیان دیرینہ اور خوشگوار دوطرفہ تعلقات پر روشنی ڈالی۔
انہوں نے پاکستان میں خاص طور پر پام آئل، ٹیلی کام، تعلیم اور حلال سیکٹر میں ملائیشیا کی نمایاں تجارتی موجودگی کا اعتراف کیا تاہم انہوں نے نشاندہی کی کہ مضبوط تعلقات کے باوجود، تجارتی توازن کا جھکائو یکطرفہ ہے۔آئی سی سی آئی کے صدر نے حلال انڈسٹری کو فوری تعاون کے لیے ایک اہم شعبے کے طور پر شناخت کیا اور مشترکہ حلال سرٹیفیکیشن ، حلال پارکس کے قیام، فوڈ پراسیسنگ کی سہولیات اور گوشت کی برآمدات میں توسیع کی اہمیت کو اجاگر کیا۔انہوں نے آئی ٹی اور ڈیجیٹل معیشت، رئیل اسٹیٹ، کم قیمت مکانات جیسے شعبوں میں تعاون پر زور دیا۔
انہوں نے زرعی شعبے میں ویلیو ایڈیشن کے لیے مشترکہ منصوبوں کی اہمیت کو اجاگر کیا اور شراکت کو تیز کرنے کے لیے پاکستانی اور ملائیشین کمپنیوں کے درمیان بی ٹو بی میچ میکنگ کی تجویز پیش کی۔آئی سی سی آئی کے سینئر نائب صدر طاہر ایوب نے زرعی برآمدات خاص طور پر آم اور سٹریس فروٹ کو بڑھانے کی ضرورت پر زور دیا۔ انہوں نے ان کی ویلیوایڈیشن پر بھی توجہ مرکوز کرنے کی ضرورت کو اجاگر کیا اور کہا کہ اس طرح کے اقدامات دونوں ممالک کی کاروباری برادریوں اور عوام کے لیے باہمی فائدے مند ثابت ہونگے۔
آئی سی سی آئی کے نائب صدر عرفان چوہدری نے کہا کہ مضبوط ادارہ جاتی روابط اور باقاعدہ کاروباری تبادلوں سے خیر سگالی کو ٹھوس اقتصادی نتائج میں تبدیل کرنے میں مدد ملے گی۔آئی سی سی آئی کے وفد نے کوالالمپور میں پاکستان-ملائیشیا بزنس فورم کے انعقاد اور تجارتی فروغ کے موثر طریقہ کار کے طور پر سیکٹر کے لیے مخصوص بی ٹو بی میٹنگز کے انعقاد کی تجویز پیش کی۔
آئی سی سی آئی اور متعلقہ ملائشین چیمبرز کے درمیان مفاہمت کی ایک یادداشت پر دستخط کرنے اور ایک مشترکہ ورکنگ گروپ کے قیام کی تجویز بھی پیش کی تاکہ موثر فالو اپ اور عمل درآمد کو یقینی بنایا جا سکے۔ دونوں فریقوں نے بات چیت کو ٹھوس تجارت اور سرمایہ کاری کے مواقع میں تبدیل کرنے کے لیے مل کر کام کرنے پر اتفاق کیا اور ملائیشیا کے تاجروں کو آئی سی سی آئی ممبران کے طور پر رجسٹر ہونے کی ترغیب دی۔
آئی سی سی آئی کے وفد نے ملائیشیا کے ہائی کمشنر کو آئی سی سی آئی کا دورہ کرنے اور اسلام آباد کی تاجر برادری سے براہ راست بات چیت کرنے کی باضابطہ بھی دعوت دی۔آئی سی سی آئی قائمہ کمیٹی برائے آسیان کے کنوینر چوہدری محمد علی نے بھی اپنے خیالات کا اظہار کیا۔








