ایس ای سی پی نے رائٹس ایشو کے عمل کو آسان بنانے کیلئے قوانین میں ترامیم کا نوٹیفکیشن جاری کر دیا

اسلام آباد۔19جنوری (اے پی پی):سکیورٹیز اینڈ ایکسچینج کمیشن آف پاکستان (ایس ای سی پی) نے کمپنیز(فردرایشو آف شیئرز) ریگولیشنز 2020 میں ترامیم کا نوٹیفکیشن جاری کر دیا ہے تاکہ لسٹڈ کمپنیوں کے لیے سرمایہ بڑھانے کے عمل کو آسان بنایا جا سکے، ساتھ ہی سرمایہ کاروں کے لیے مناسب ڈسکلوژرکی ضروریات برقرار رکھی جائیں۔یہ ترامیم اس چیلنج کو حل کرتی ہیں جس کا سامنا لسٹڈ کمپنیوں کو موجودہ شیئر ہولڈرز …

اسلام آباد۔19جنوری (اے پی پی):سکیورٹیز اینڈ ایکسچینج کمیشن آف پاکستان (ایس ای سی پی) نے کمپنیز(فردرایشو آف شیئرز) ریگولیشنز 2020 میں ترامیم کا نوٹیفکیشن جاری کر دیا ہے تاکہ لسٹڈ کمپنیوں کے لیے سرمایہ بڑھانے کے عمل کو آسان بنایا جا سکے، ساتھ ہی سرمایہ کاروں کے لیے مناسب ڈسکلوژرکی ضروریات برقرار رکھی جائیں۔یہ ترامیم اس چیلنج کو حل کرتی ہیں جس کا سامنا لسٹڈ کمپنیوں کو موجودہ شیئر ہولڈرز سے رائٹس ایشو کے ذریعے مزید سرمایہ حاصل کرنے میں ہوتا تھا۔

پچھلے فریم ورک کے تحت لسٹڈ کمپنیوں پر پابندی تھی کہ وہ رائٹس ایشو کا اعلان نہ کریں، اگر کمپنی، اس کے سپانسرز، پروموٹرز، اہم شیئر ہولڈرز یا ڈائریکٹرز کے کریڈٹ انفارمیشن بیورو (سی آئی بی) رپورٹ میں کوئی واجب الادا رقم یا ڈیفالٹ موجود ہو۔ اس پابندی کی وجہ سے مالی طور پر دبائو میں ہونے والی مگر قابل عمل کمپنیوں کے لیے سرمایہ بڑھانا مشکل ہو گیا حالانکہ ایسے حالات میں موجودہ شیئر ہولڈرز کمپنی کی بحالی، دوبارہ تنظیم یا کاروبار کے تسلسل میں مدد کرنے کے لیے تیار تھے۔

ترمیم شدہ فریم ورک کے تحت صاف سی آئی بی رپورٹ کی شرط اس صورت میں لاگو نہیں ہوگی، اگر متعلقہ افراد متعلقہ مالیاتی ادارے/اداروں سے مجوزہ رائٹس ایشو کے لیے این او سی فراہم کریں۔ شفافیت کو یقینی بنانے اور سرمایہ کاروں کے مفادات کے تحفظ کے لیے، ایسی صورتوں میں کمپنیوں کو رائٹس آفر ڈاکیومنٹ میں جامع انکشافات کرنا لازمی ہوں گے۔ ان انکشافات میں کسی بھی ڈیفالٹ یا واجب الادا رقم کی تفصیلات، جاری وصولی کے اقدامات اور کسی بھی قرض کی دوبارہ ترتیب کی حیثیت شامل ہونی چاہیے۔

ترمیم شدہ ریگولیشنز کارپوریٹ بحالی کی سہولت اور سرمایہ کاروں کو باخبر سرمایہ کاری کے فیصلے کرنے کے قابل بنانے کے درمیان مناسب توازن قائم کرتے ہیں۔ان ترامیم کی اطلاع ایک مشاورتی عمل کے بعد جاری کی گئی ہے جس میں ایس ای سی پی نے مارکیٹ کے مختلف سٹیک ہولڈرز سے رائے طلب کی جن میں لسٹڈ کمپنیز، ایشو کنسلٹنٹس، پیشہ ورانہ ادارے، صنعتی تنظیمیں، لاء فرمیں اور کیپیٹل مارکیٹ کے ادارے شامل تھے۔ توقع کی جا رہی ہے کہ یہ ترامیم مارکیٹ کے اعتماد کو بڑھائیں گی، لسٹڈ کمپنیوں کے لیے سرمایہ تک رسائی کو بہتر بنائیں گی اور رائٹس ایشو کے فریم ورک میں شفافیت کو مضبوط کریں گی۔