اسلام آباد۔20جنوری (اے پی پی):سپریم کورٹ آف پاکستان نے اہلیہ کے قتل کے مقدمے میں مجرم ابرار کی سزائے موت کو عمر قید میں تبدیل کر تے ہوئے اسلحہ برآمدگی اور فارنزک شواہد کو ناقابل اعتماد قراردے دیا ہے ۔مقدمے کی سماعت جسٹس عرفان سعادت خان، جسٹس نعیم اختر افغان اور جسٹس ملک شہزاد احمد خان پر مشتمل تین رکنی بینچ نے کی۔عدالتی فیصلے کے مطابق مجرم ابرار کو اپنی …
سپریم کورٹ نے اہلیہ کے قتل کیس میں مجرم کی سزائے موت کو عمر قید میں تبدیل کردیا

مزید خبریں
اسلام آباد۔20جنوری (اے پی پی):سپریم کورٹ آف پاکستان نے اہلیہ کے قتل کے مقدمے میں مجرم ابرار کی سزائے موت کو عمر قید میں تبدیل کر تے ہوئے اسلحہ برآمدگی اور فارنزک شواہد کو ناقابل اعتماد قراردے دیا ہے ۔مقدمے کی سماعت جسٹس عرفان سعادت خان، جسٹس نعیم اختر افغان اور جسٹس ملک شہزاد احمد خان پر مشتمل تین رکنی بینچ نے کی۔عدالتی فیصلے کے مطابق مجرم ابرار کو اپنی بیوی زینت بی بی کے قتل کے جرم میں ٹرائل کورٹ نے سزائے موت سنائی تھی جبکہ مقتولہ کے والد پر فائرنگ کے جرم میں اسے 7 سال قید کی سزا بھی دی گئی تھی۔ لاہور ہائی کورٹ نے ٹرائل کورٹ کے فیصلے کو برقرار رکھا تھا۔
سپریم کورٹ نے اپیل پر سماعت کے بعد قرار دیا کہ جائے وقوعہ سے ملنے والے خالی خول 37 دن کی تاخیر سے فارنزک لیبارٹری بھجوائے گئے جس سے فارنزک شواہد کی ساکھ متاثر ہوئی۔ عدالت نے یہ بھی آبزرو کیا کہ اسلحہ کی برآمدگی کے وقت کوئی آزاد گواہ موجود نہیں تھا اس لیے استغاثہ مجرم کے خلاف الزام کو بلاشبہ ثابت کرنے میں ناکام رہا۔عدالتی فیصلے کے مطابق مجرم ابرار نے 17 جنوری 2020 کو سسرال میں فائرنگ کر کے اپنی بیوی زینت بی بی کو قتل کیا جبکہ فائرنگ کے نتیجے میں مقتولہ کے والد بھی زخمی ہوئے تھے۔ عدالت نے ان حقائق کی روشنی میں مجرم کی سزائے موت کو عمر قید میں تبدیل کرنے کا حکم دے دیا۔








