معاون خصوصی برائے صنعت و پیداوار ہارون اختر خان سے چینی وفد کی ملاقات ، دوطرفہ معاشی تعاون کے فروغ پر تبادلہ خیال

اسلام آباد۔20جنوری (اے پی پی):وزیراعظم کے معاون خصوصی برائے صنعت و پیداوار ہارون اختر خان سے منگل کو چینی وفد نے ملاقات کی جس میں دوطرفہ معاشی تعاون کے فروغ کے مواقع پر تبادلہ خیال کیا گیا۔وزارت صنعت و پیداوار کی طرف سے جاری بیان کے مطابق ملاقات میں بالخصوص برآمدات، مینوفیکچرنگ، مائننگ، معدنیات اور قومی صنعتی پالیسیوں پر گفتگو ہوئی۔ملاقات میں منسٹر کونسلر یانگ گوانگ یوان، چائنا چیمبر آف …

اسلام آباد۔20جنوری (اے پی پی):وزیراعظم کے معاون خصوصی برائے صنعت و پیداوار ہارون اختر خان سے منگل کو چینی وفد نے ملاقات کی جس میں دوطرفہ معاشی تعاون کے فروغ کے مواقع پر تبادلہ خیال کیا گیا۔وزارت صنعت و پیداوار کی طرف سے جاری بیان کے مطابق ملاقات میں بالخصوص برآمدات، مینوفیکچرنگ، مائننگ، معدنیات اور قومی صنعتی پالیسیوں پر گفتگو ہوئی۔ملاقات میں منسٹر کونسلر یانگ گوانگ یوان، چائنا چیمبر آف کامرس پاکستان سے ویرا لو، وزیراعظم کے چین کے لئے کوآرڈینیٹر ظفرالدین اور سیکرٹری صنعت و پیداوار سیف انجم نے شرکت کی۔

گفتگو کے دوران دونوں فریقین نے پاکستان کی برآمدات میں اضافے، مینوفیکچرنگ سیکٹر کو مضبوط بنانے اور مؤثر پالیسیوں اور بروقت عملدرآمد کے ذریعے مائننگ، معدنیات اور قیمتی پتھروں کی وسیع صلاحیت سے فائدہ اٹھانے پر تبادلہ خیال کیا۔ ہارون اختر خان نے کہا کہ وزیراعظم محمد شہباز شریف کی قیادت میں پاکستان بتدریج صنعتی انقلاب کی جانب گامزن ہے، صنعتی ترقی کی بحالی اور برآمدات کے فروغ کے لئے وزیراعظم کے وژن کے مطابق ایک جامع قومی صنعتی پالیسی تیار کی جا چکی ہے۔انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ جیم سٹونز اور معدنیات میں سرمایہ کاری حکومت کی کلیدی ترجیح ہے اور معدنیات و قیمتی پتھروں کی برآمدات اربوں ڈالر کما سکتی ہیں۔

انہوں نے مزید بتایا کہ وزیراعظم نے چینی سرمایہ کاروں کو تمام ممکنہ سہولیات اور مراعات فراہم کرنے کی واضح ہدایات جاری کی ہیں۔ہارون اختر خان نے وفد کو آگاہ کیا کہ وزیراعظم کے حالیہ دور ہ چین کے دوران طے پانے والے تمام معاہدوں اور مفاہمتی یادداشتوں (ایم او یوز) پر مؤثر عملدرآمد جاری ہے جبکہ ان معاہدوں کی نگرانی اور بروقت تکمیل کے لئے خصوصی کمیٹیاں بھی قائم کی گئی ہیں۔چینی وفد نے اس بات کا اعتراف کیا کہ پاکستان قدرتی وسائل سے مالا مال ہے اور مختلف شعبوں میں بے پناہ صلاحیت موجود ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ مینوفیکچرنگ کے فروغ اور مؤثر پالیسی سازی و عملدرآمد کے ذریعے پاکستان اپنی برآمدی صلاحیت میں نمایاں اضافہ کر سکتا ہے۔وزیراعظم کے خصوصی معاون نے مزید بتایا کہ حکومت مینوفیکچرنگ سیکٹر کی مسابقت بڑھانے کے لئے یوٹیلیٹی لاگت کم کرنے پر دن رات کام کر رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ لیز پالیسی کے تحت سرمایہ کاروں کو 6 ہزار ایکڑ اراضی کی پیشکش کی جا رہی ہے تاکہ صنعتی ترقی کو فروغ دیا جا سکے۔

انہوں نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ وزارتِ صنعت و پیداوار پیداوار کی بحالی اور مینوفیکچرنگ بیس کو مضبوط بنانے کے لئے بھرپور اقدامات کر رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ عالمی سرمایہ کاروں کے لئے پاکستان میں سرمایہ کاری کا یہ بہترین وقت ہے اور سرمایہ کاروں کے اعتماد کی بحالی میں خصوصی سرمایہ کاری سہولت کونسل (ایس آئی ایف سی ) نے اہم کردار ادا کیا ہے۔دونوں فریقین نے باہمی مفاد کے لئے پاکستان اور چین کے درمیان معاشی اور صنعتی تعاون کو مزید مستحکم بنانے کے عزم کا اظہار کیا۔