وفاقی حکومت سندھ حکومت کے ساتھ مل کر سندھ کی ثقافت کے فروغ کے کے لئے بھرپور کوششیں کر رہی ہے، اورنگزیب خان کھچی

حیدرآباد۔ 20 جنوری (اے پی پی):وفاقی وزیر برائے قومی ورثہ و ثقافت اورنگزیب خان کھچی نے کہا ہے کہ سندھ میوزیم سندھ کی بہتر تصویر اور ثقافت کو اجاگر کرتا ہے، وفاقی حکومت سندھ حکومت کے ساتھ مل کرمیوزیم اور سندھ کی ثقافت کے فروغ کے کے لئے بھرپور کوششیں کر رہی ہے اور کرتی رہے گی اور آنے والے دنوں میں سندھ میوزیم میں مزید اچھی گیلریز بنیں گی …

حیدرآباد۔ 20 جنوری (اے پی پی):وفاقی وزیر برائے قومی ورثہ و ثقافت اورنگزیب خان کھچی نے کہا ہے کہ سندھ میوزیم سندھ کی بہتر تصویر اور ثقافت کو اجاگر کرتا ہے، وفاقی حکومت سندھ حکومت کے ساتھ مل کرمیوزیم اور سندھ کی ثقافت کے فروغ کے کے لئے بھرپور کوششیں کر رہی ہے اور کرتی رہے گی اور آنے والے دنوں میں سندھ میوزیم میں مزید اچھی گیلریز بنیں گی اور قیمتی ثقافتی ورثے کو نمائش کے لئے رکھا جائے گا جس سے سندھ کی تاریخ کو خوبصورت انداز میں یہاں آنے والوں کے سامنے پیش کیا جاسکے گا۔

ان خیالات کا اظہار انہوں نے منگل کے روز سندھ میوزیم حیدرآباد کے دورے کے موقع پر ’’اے پی پی‘‘ سے گفتگو کرتے ہوئے کیا۔ وفاقی وزیر نے کہا کہ ہماری خواہش ہے کے سندھ میوزیم میں مزید بہتری لائی جائے اور ہم سندھ حکومت اور میوزیم انتظامیہ کے ساتھ مل کر اس کے لئے کام کریں گے۔ اس موقع پر اسسٹنٹ ڈائریکٹر، ڈسپلے آفیسر نورین فاطمہ شاہ نے انہیں میوزیم میں رکھی ثقافتی اشیا کے بارے میں بریفنگ دی۔ ڈائریکٹر سندھ میوزیم ذوالفقار علی پنہور بھی اس موقع پر موجود تھے۔

بعد ازاں وفاقی وزیر نے سندھ میوزیم میں قائم سندھ انڈیجینیس اینڈ ٹریڈیشنل کرافٹس کمپنی (سٹکو) کے ورکشاپ کا بھی معائنہ کیا، جہاں ڈائریکٹر سٹکو اینڈ بسنت ہال کلچرل کمیٹی صوبیہ علی شیخ نے انہیں ورکشاپ کے مختلف شعبہ جات میں ادارے کے کام کے بارے میں تفصیلی بریفنگ دی۔ وفاقی وزیر نے کہا کہ سٹکو سندھ کے نوجوانوں کے لئے بہت اچھا کام کر رہی ہے، اور امید ہے کہ اس سے سندھ کے یوتھ کو آگے بڑھنے کا موقع ملے گا۔

اس موقع پر وفاقی وزیر کو نوجوان آرٹسٹس کی جانب سے تیار کردہ مختلف ثقافتی اشیا بھی دکھائی گئیں۔ انہیں بتایا گیاکہ سندھ کے مختلف علاقوں میں پراجیکٹس چل رہے ہیں جہاں نوجوانوں بالخصوص لڑکیوں کو تربیت دی جاتی ہے اور جب وہ کام سیکھ جاتے ہیں تو ان کی پروڈکٹس کو سینٹرز پر ڈسپلے بھی کیا جاتا ہے۔ دورہ کے اختتام پر وہ بھٹ شاہ روانہ ہوگئے۔